قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮩ

ﱌ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ
١٥ ١٥
ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ
ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ١٦ ١٦
ﭧ ﭨ ﭩ
ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ١٧ ١٧
ﮅ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
ﮒ ١٨ ١٨
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ١٩ ١٩
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ٢٠ ٢٠
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ٢١ ٢١
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ٢٢ ٢٢
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ
ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ٢٣ ٢٣
398
سورۃ العنكبوت آیات 0 - 15

فَأَنجَيۡنَٰهُ وَأَصۡحَٰبَ ٱلسَّفِينَةِ وَجَعَلۡنَٰهَآ ءَايَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ ١٥

اس لئے کہ جس نے نوح علیہ السلام کی کشتی نہ دیکھی ہو تو دوسری کشتیو ں کو دیکھ کر نوح علیہ السلام کی کشتی کو یاد کرے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسے کیسے بنایا گیا تاکہ اس کے ذریعہ طوفان عظیم سے نوح علیہ السلام اور ہر وہ شخص نجات پاسکے جسے اللہ نے نجات دینی چاہی۔اور اس لئے اس بستی میں رہنے والے اس کشتی کے بارے میں باخبر رہتے ہیں اور یہ خبریں اتنی نقل کی جاتی ہیں کہ وہ متواتر کے درجہ کو پہنچ چکی ہیں۔(ابن عاشور: ۲۰؍۲۲۳)
سوال:نوح علیہ السلام کی کشتی تمام عالم کے لئے نشانی کیسے ہے؟

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 17

إِنَّمَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡثَٰنٗا وَتَخۡلُقُونَ إِفۡكًاۚ

بتوں کے لئے (أوثانا) کا لفظ استعمال کیا جس سے باطل معبودوں کی کثرت کی وجہ سے لوگوں کے ہم و غم کے کثرت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ کثرت سے اختلاف لازمی ہے اور اختلاف میں خیر بالکل نہیں ہے۔(البقاعی: ۱۴؍۴۰۷)
سوال:آیت میں (أوثانا) ‘ کا لفظ جمع کے ساتھ کیوں استعمال کیا گیا ہے؟

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 17

فَٱبۡتَغُواْ عِندَ ٱللَّهِ ٱلرِّزۡقَ وَٱعۡبُدُوهُ وَٱشۡكُرُواْ لَهُۥٓۖ إِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ ١٧

(فَابْتَغُوْا)اس کلمہ کو باب افتعال کے صیغہ سے لانے میں روزی تلاش کرنے میں محنت مشقت کرنے کی جانب اشارہ ہے کیونکہ عام طور سے الٰہی سنت یہی ہے کہ روزی بلامحنت ومشقت حاصل نہیں ہوتی۔یا تو عبادت اور توکل میں یا تو ظاہری اسباب اپناکر محنت ومشقت کے ذریعہ روزی حاصل کرنے میں۔
وہ شخص عاجز ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے حوالے کرکے اللہ تعالیٰ سے آرزوئیں لگاکر بھروسہ کرے۔ (البقاعی: ۱۴؍۴۱۲-۴۱۳)
سوال:آیت میں اس بات کی طرف اشارہ کیسے ہے کہ روزی کے لئے اسباب اپنانا ضروری ہے؟

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 20

قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ بَدَأَ ٱلۡخَلۡقَۚ ثُمَّ ٱللَّهُ يُنشِئُ ٱلنَّشۡأَةَ ٱلۡأٓخِرَةَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٢٠

(فانظروا كيف بدأ الخلق)یعنی غور کرو اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ابتداء کیسے کی،اس کے اندر مخلوقات کی کثرت،ان کی شکلوں میں بے انتہا فرق، طبیعتوں،رنگوں اور زبانوں میں اختلاف کے باوجوداور دیکھوپچھلی قوموں کے ٹھکانوں،گھروں اور ان کے آثار کی طرف کہ کیسے اللہ نے سب کچھ برباد کرکے رکھ دیا تاکہ تمہیں اس کے ذریعہ اللہ کی کمال قدرت کا اندازہ ہوسکے۔ (القرطبی: ۱۷؍۳۵۲)
سوال:اللہ تعالیٰ کی قدرت کے تین آثار کا ذکر کیجئے.

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 21

يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَرۡحَمُ مَن يَشَآءُۖ وَإِلَيۡهِ تُقۡلَبُونَ ٢١

یعنی تم اس ٹھکانے کی طرف لوٹوگے جہاں تم پر اس کے عذاب یا رحمت کے احکام جاری ہوں گے اس لئے اس دنیا میں نیکیاں کمالو جو اس کی رحمت کا سبب ہیں اور اس کی نافرمانیوں سے دوررہو جو اس کے عذاب کا باعث ہیں۔(السعدی: ۶۲۹)
سوال:اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبردینا کہ سب کو اس کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔اس سے ایک مسلمان کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 21

يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَرۡحَمُ مَن يَشَآءُۖ وَإِلَيۡهِ تُقۡلَبُونَ ٢١

آیت کو سزا کے ذکر سے شروع کیا گیا کیونکہ مخاطب قیامت کے دن اٹھائے جانے کے منکر ہیں جن کے نصیب میں یہ سزا مقدرہوگی۔ (ابن عاشور: ۲۰؍۲۳۲)
سوال:آیت کو عذاب کے ذکر سے کیوں شروع کیا گیا؟

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 23

وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَلِقَآئِهِۦٓ أُوْلَٰٓئِكَ يَئِسُواْ مِن رَّحۡمَتِي وَأُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ٢٣

ممکن ہے یہ ناامیدی انہیں آخرت میں ہواور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی دنیوی حالت کو بتایا جارہا ہے کیونکہ کافر اللہ کی رحمت سے ناامیدہوتاہے جبکہ ایک مومن اپنے رب سے پرامید اور خائف رہتاہے۔ (ابن جزی: ۲؍ ۱۵۷)
سوال:اللہ تعالیٰ کی رحمت کے تعلق سے ایک مومن اور ایک کافر کے درمیان کیا فرق ہے؟