قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٤٤ ٤٤


٤٥ ٤٥


ﭿ ٤٦ ٤٦



٤٧ ٤٧



٤٨ ٤٨

٤٩ ٤٩


ﯿ ٥٠ ٥٠
391
سورۃ القصص آیات 0 - 44

وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ ٱلۡغَرۡبِيِّ إِذۡ قَضَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَى ٱلۡأَمۡرَ وَمَا كُنتَ مِنَ ٱلشَّٰهِدِينَ ٤٤

(وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الغربي)آپ اس وقت مغربی جانب نہیں تھے۔ یہ خطاب ہمارے نبی محمد ﷺ سے ہے لیکن اس سے مراد موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں خبر دے کر صرف حجت قائم کرناہے۔آپ گرچہ اس وقت حاضر نہیں تھے۔ اور (الغربي)سے مرادطور پہاڑکے مغرب میں واقع وہ جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا تھا اور وہیں انہیں نبوت سے سرفراز کیا تھا۔
اور (من الشاهدين)سے مراد وہاں موجود لوگ ہیں ہے۔ یعنی آپ ﷺوہاں حاضر نہیں تھے،ان غیب کی باتوں کو جاننے کے لئے جن کے بارے میں آپ کو بتایا جارہا ہے۔یہ سب آپ کو اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ پتہ چل رہا ہے چنانچہ لوگوں کو چاہئے کہ آپ ﷺ پر ایمان لانے میں جلدی کریں۔ (ابن جزی: ۲؍ ۱۴۵)
سوال:موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ سے یہ کیسے پتہ چلتاہے کہ یہ کتاب اللہ کی جانب سے ہے اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟

سورۃ القصص آیات 0 - 45

وَلَٰكِنَّآ أَنشَأۡنَا قُرُونٗا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡعُمُرُۚ وَمَا كُنتَ ثَاوِيٗا فِيٓ أَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِنَا وَلَٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِينَ ٤٥

علم ختم ہوگیا اورآیات ِالٰہی کو بھلادیا گیا۔ ہم نے ایسے وقت میں آپ ﷺ کو مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت تھی اور اس علم کی سخت حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا۔ (السعدی؍ ۶۱۷)
سوال:لوگوں کودین کی طرف بلانے اور تعلیم دینے والے داعی کی ضرورت کب شدید ہوجاتی ہے؟

سورۃ القصص آیات 0 - 45

وَلَٰكِنَّآ أَنشَأۡنَا قُرُونٗا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡعُمُرُۚ وَمَا كُنتَ ثَاوِيٗا فِيٓ أَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِنَا وَلَٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِينَ ٤٥

یعنی اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی ذات مبارکہ او ر آپ پر ایمان لانے کے بارے میں موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے عہد وپیمان لیا تھا لیکن ایک لمبی مدت گزرجانے اورکئی صدیاں بیت جانے کے بعد وہ ان وعدو ں کو بھول گئے اور انہیں پورا نہیں کیا۔ (البغوی: ۳؍ ۴۴۳)
سوال:لمبی مدت بیت جانے کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام کی قوم کیا چیز بھلا بیٹھی؟

سورۃ القصص آیات 0 - 47

وَلَوۡلَآ أَن تُصِيبَهُم مُّصِيبَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ

یعنی ان کے کفر ومعاصی کے ارتکاب کی وجہ سے ان پر مصیبتیں آئیں۔ ہاتھوں سے گرچہ ہر عمل کا ارتکاب نہیں کیا جاتا ہے البتہ اکثر اعمال ہاتھوں سے ہی انجام پاتے ہیں۔اسی وجہ سے ہر عمل کے ارتکاب کی نسبت ہاتھوں کی طرف کردی جاتی ہے۔ (الالوسی: ۱۰؍۲۹۷)
سوال:ہاتھ اللہ کی طرف سے ایک نعمت اور خیر وشر ہر طرح کے اعمال انجام دینے کا ایک وسیلہ ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ القصص آیات 0 - 50

فَإِن لَّمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَكَ فَٱعۡلَمۡ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهۡوَآءَهُمۡۚ وَمَنۡ أَضَلُّ مِمَّنِ ٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ بِغَيۡرِ هُدٗى مِّنَ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ٥٠

یہ آیت اس بات پر دلیل ہے کہ جو رسول اللہ ﷺ کی بات نہ مان کر دوسرے کی پیروی کرے تو یقینا ًوہ ہدایت پر نہیں ہے بلکہ وہ خواہشات ِنفس کی طرف گامزن ہے۔ (حوالہ ؟)
سوال:آیت کے اندر مذکور اتباع خواہشات کی کیا علامت ہے؟

سورۃ القصص آیات 0 - 50

فَإِن لَّمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَكَ فَٱعۡلَمۡ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهۡوَآءَهُمۡۚ وَمَنۡ أَضَلُّ مِمَّنِ ٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ بِغَيۡرِ هُدٗى مِّنَ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ٥٠

خواہشات؛ بلا علم نفس کے ارادوں کو کہتے ہیں۔ چنانچہ بلا علم ذاتی مصلحت کی خاطر نفس کے ارادوں پر چلنے والا خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا کہلائیگا اور وہ علم جس کی بنیادپر بندہ اخروی مصلحت پرعمل پیرا ہوتا ہے،یہ وہی علم ہے جو تمام رسول علیہم السلام لے کر آئے۔ (ابن تیمیہ: ۵؍۸۳)
سوال:اہل ِباطل جن خواہشات پر چلتے ہیں،ان سے کون سی خواہشات مراد ہیں؟

سورۃ القصص آیات 0 - 50

وَمَنۡ أَضَلُّ مِمَّنِ ٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ بِغَيۡرِ هُدٗى مِّنَ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ٥٠

نجات کے بارے میں غوروفکر اور اس کی پرواہ کئے بغیر خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا بلا تحدید اکثر حالتوں میں نقصان اٹھانے والا ہوتاہے۔ (ابن عاشور: ۲۰؍۱۴۱)
سوال:کیا وجہ ہے کہ خواہشات نفس کی پیروی کرنے والے سے زیادہ گمراہ کوئی نہیں ہوتا؟