قرآن
ﮎ
ﰺ
ﭘ ٢٣٨ ٢٣٨ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ
٢٣٩ ٢٣٩ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ٢٤٠ ٢٤٠ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ٢٤١ ٢٤١ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ٢٤٢ ٢٤٢ ﮙ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ٢٤٣ ٢٤٣
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ٢٤٤ ٢٤٤ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ٢٤٥ ٢٤٥
حَٰفِظُواْ عَلَى ٱلصَّلَوَٰتِ وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلۡوُسۡطَىٰ وَقُومُواْ لِلَّهِ قَٰنِتِينَ ٢٣٨
اللہ سبحانہ وتعالیٰ آخرت کی نیت کے مطابق دنیاعطاکرتا ہے لیکن دنیا کی نیت پر آخرت عطا نہیں کرتا ہے۔ دنیا وآخرت میں بندے کی حالت خراب ہونے کی وجہ اس کی دینی حالت کی خرابی ہے۔اور اس کے دین کا ستون اس کا ایمان اوراس کی نمازہے۔لہذا جو کوئی نمازوں کی پابندی ونگرانی کریگا، اللہ تعالیٰ اس کی دنیا وآخرت دونوں سنواردیگا۔ (البقاعی:۱؍۴۵۰)
سوال: طلاق کی آیتوں کے درمیان نماز کی آیت کا ذکرافرادخانہ کی بہتری اور نماز کے بیچ ایک تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔وہ تعلق کیا ہے؟
حَٰفِظُواْ عَلَى ٱلصَّلَوَٰتِ وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلۡوُسۡطَىٰ وَقُومُواْ لِلَّهِ قَٰنِتِينَ ٢٣٨
بعض کا کہنا ہے کہ:صلاۃِ وسطیٰ سے مراددراصل پانچ نمازوں میں سے کوئی ایک ہے،کوئی متعین نمازمراد نہیں ہے۔بندوں کو تمام نمازوں کی ادائیگی کی پابندی پر ابھارنے اور رغبت دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے پوشیدہ رکھا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان میں شبِ قدر کو پوشیدہ رکھا،جمعہ کے دن قبولیتِ دعا کی خاص گھڑی کو پوشیدہ ومخفی رکھااور اپنے ناموں میں سے اسم اعظم کو چھپائے رکھاتاکہ بندے ان تمام چیزوں کی پابندی کرتے رہیں۔ (البغوی:۱؍۲۵۳)
سوال: کبھی ایسا ہوتا ہے کہ عبادت کی فضیلت تو وارد ہوتی ہے لیکن وہ عبادت متعین نہیں ہوتی کہ وہ فضیلت والی عبادت یہی ہے ۔اس کی کیا حکمت ہے؟
فَإِنۡ خِفۡتُمۡ فَرِجَالًا أَوۡ رُكۡبَانٗاۖ
چلتے ہوئے اور سواری کی حالت میں نماز پڑھ لینے کے مذکورہ حکم کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ نماز پڑھنے والے کبھی قبلہ رخ ہوں گے اور کبھی قبلہ رخ نہیں ہوں گے، اور اس حکم میں نماز کے (مقررہ) وقت کی پابندی پر بہت زیادہ تاکید ہے کہ نماز کے بہت سے ارکان اور شروط میں رکاوٹ اور کمی آجانے کے باوجود اللہ نے اسے وقت پر پڑھنے کا حکم دیا اور یہ(بتایا) کہ اس سخت اور نازک حالت(جنگ اور خوف) میں بھی نماز کو اس کے وقت سے پیچھے (مؤخر) کرنا جائز نہیں۔اور اسی صورت حال میں نماز پڑھنا وقت گذرجانے کے بعد اطمینان کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہت بہتر اور افضل ہے بلکہ ضروری ہے۔ (السعدی:۱۰۶)
سوال:خوف کی حالت میں چلتے ہوئے یا سوارہوکر نماز پڑھنے کا حکم کس بات پر دلالت کرتا ہے؟
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ خَرَجُواْ مِن دِيَٰرِهِمۡ وَهُمۡ أُلُوفٌ حَذَرَ ٱلۡمَوۡتِ فَقَالَ لَهُمُ ٱللَّهُ مُوتُواْ ثُمَّ أَحۡيَٰهُمۡۚ
اس آیت کریمہ کا مقصود : مومنوں کو جہاد پر ابھارنا اور ان کی حوصلہ افزائی ہے ۔
چنانچہ جب انسان کو یقین ہوجائے کہ موت یا قتل سے فرار اختیار کرنا ، اسے بچا نہیں سکتا تو اس پر مد مقابل کا سامناکرنے کے لئے نکلنا اور میدان میں پیش قدمی کرناآسان ہوجائے گا۔ (الشنقیطی:۱؍۱۵۲)
سوال:آیت کریمہ کا مقصود کیا ہے؟
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ خَرَجُواْ مِن دِيَٰرِهِمۡ وَهُمۡ أُلُوفٌ حَذَرَ ٱلۡمَوۡتِ فَقَالَ لَهُمُ ٱللَّهُ مُوتُواْ ثُمَّ أَحۡيَٰهُمۡۚ
چونکہ اس قصہ میں مسلمانوں کو جہاد پرابھارا گیا ہے ،ان کے اندر شوق شہادت پیدا کیا گیا ہے ،انہیں توکل پر ابھارا گیا ہے اور قضاء وقدر کے سامنے سرِ تسلیم خم کردینے کی تعلیم دی گئی ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس قصے کو اپنے اس فرمان کی تمہید بنایا: (وَ قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ) یعنی اللہ کے راستہ میں جنگ کرو۔ (الألوسی:۲؍۱۶۲)
سوال: اللہ تعالیٰ نے جہاد وقتال کا حکم بتانے سے پہلے یہ قصہ کیوں ذکر کیا؟
مَّن ذَا ٱلَّذِي يُقۡرِضُ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا فَيُضَٰعِفَهُۥ لَهُۥٓ أَضۡعَافٗا كَثِيرَةٗۚ وَٱللَّهُ يَقۡبِضُ وَيَبۡصُۜطُ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ ٢٤٥
(قَرۡضًا حَسَنًا) یعنی بندہ قرضِ حسن اجروثواب کی امید رکھتے ہوئے خوش دلی سے دے۔
ابن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا: قرض حسن حلال مال سے ہونا چاہئےاور یہ بھی کہا گیا ہے کہ :قرض حسن میں خرچ کرنے والانہ احسان جتائے اور نہ تکلیف دے۔ (البغوی:۱؍۲۵۲)
سوال:قرض، کس طرح قرضِ حسن ہوتا ہے؟
مَّن ذَا ٱلَّذِي يُقۡرِضُ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا
یہ بظاہر سوال پوچھا گیا ہے لیکن مقصد حکم دینااورخرچ کرنے پر ابھارناہے۔اور قرض کے لفظ کا استعمال لوگوں کی سمجھنے میں آسانی کے لئے ہے۔ اس لئے کہ خرچ کرنے والا ، ثواب کا اسی طرح منتظر رہتا ہے جیسے قرض دینے والا اپنے قرض کی واپسی کاانتظارکرتا ہے۔ (ابن جزی:۱؍۱۱۸)
سوال: انفاق یعنی اللہ کے راستے میں خرچ کرنے پر ابھارنے کے لئے قرض کی تعبیر استعمال کرنے کی کیا وجہ ہے؟