قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮎ

ﰺ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ
ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
٢٣٤ ٢٣٤
ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ٢٣٥ ٢٣٥
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
ﯜ ٢٣٦ ٢٣٦
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ
ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ٢٣٧ ٢٣٧
38
سورۃ البقرہ آیات 0 - 234

وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنكُمۡ وَيَذَرُونَ أَزۡوَٰجٗا يَتَرَبَّصۡنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرۡبَعَةَ أَشۡهُرٖ وَعَشۡرٗاۖ

سوگ منانا یہ ہے کہ (بیوہ) عورت اپنی عدت کی پوری مدت میں خوشنما لباس،خوشبو اور زیورات،سرمہ اور مہندی لگانے جیسی زینت کی تمام چیزوں کو ترک کردے۔اس لئے کہ زینت وآرائش شادی کرنے کی رغبت وخواہش کو ظاہر کرتی ہے لہذا بیوہ کو اس (زینت) سے منع کردیا گیا تاکہ (گناہ کے) راستے بند ہوجائیں اور اللہ کی حرمتوں کو پامال ہونے سے بچایا جائے۔ (القرطبی:۴؍۱۳۳)
سوال: عورت کے سوگ منانے میں شریعت کی کوئی حکمت بیان کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 234

وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنكُمۡ وَيَذَرُونَ أَزۡوَٰجٗا يَتَرَبَّصۡنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرۡبَعَةَ أَشۡهُرٖ وَعَشۡرٗاۖ

امام سعید بن مسیّب رحمہ اللہ نے فرمایا: چار مہینے دس دن،عدت کے لئے اس مدت کی تعیین کی حکمت یہ ہے کہ اتنی مدت میں بچے کے اندر روح پھونکی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ بچہ اسی مدت میں ماں کے پیٹ میں حرکت کرنے لگتا ہے۔ (البغوی:۱؍۲۳۸)
سوال: شوہر پر سوگ منانے کی مدت چار مہینے دس دن مقرر کرنے کی حکمت بیان کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 234

فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيمَا فَعَلۡنَ فِيٓ أَنفُسِهِنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۗ

یہ اس بات پر دلیل ہے کہ عورت کا ولی اس کی نگرانی کرتا رہے۔ناجائز کاموں سے اسے روکے،واجب اور ضروری کاموں پر اسے مجبور کرے۔ولی ہی اس آیت کا مخاطب ہے اوریہ اس کی ذمہ داری ہے۔ (السعدی:۱۰۵)
سوال: ولی کا اپنی زیرِ ولایت عورت کے ساتھ کیا کردارہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 236

لَّا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ إِن طَلَّقۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ مَا لَمۡ تَمَسُّوهُنَّ أَوۡ تَفۡرِضُواْ لَهُنَّ فَرِيضَةٗۚ وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى ٱلۡمُوسِعِ قَدَرُهُۥ وَعَلَى ٱلۡمُقۡتِرِ قَدَرُهُۥ مَتَٰعَۢا بِٱلۡمَعۡرُوفِۖ

اللہ تبارک وتعالیٰ نے عقد نکاح کے بعد اور دخول سے پہلے عورت کو طلاق دے دینا جائز اور مباح قرار دیا ہے۔گرچہ اس میں عورت کی دل شکنی ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اسے کچھ مال دینے کا حکم دیا ہے جو شوہر کی جانب سے اس کے نقصان کے بدلے دیا جائیگا۔یہ عوض شوہر اپنی حیثیت کے مطابق دیگا ۔(عَلَى ٱلۡمُوسِعِ قَدَرُهُۥ وَعَلَى ٱلۡمُقۡتِرِ قَدَرُهُۥ) خوشحال پر اپنی حیثیت کے اعتبار سے اور تنگ دست پر اس کی طاقت کے مطابق دینا ہے۔ (ابن کثیر:۱؍۲۷۲)
سوال:اللہ تعالیٰ نے اُس مطلقہ عورت کو جسے خلوَت سے پہلے طلاق دے دی گئی ، مال واسباب دینے کا حکم کیوں دیا؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 237

وَأَن تَعۡفُوٓاْ أَقۡرَبُ لِلتَّقۡوَىٰۚ وَلَا تَنسَوُاْ ٱلۡفَضۡلَ بَيۡنَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ ٢٣٧

لوگوں کے درمیان جو معاملات ہوتے ہیں،ان کے دودرجے ہیں:
1۔یا تو عدل وانصاف سے معاملہ ہوگاجو فرض ہے اور یہ اس طرح ہوتا ہے کہ جو حق واجب ہے وہی لیا جائے اور جو واجب ہے وہی دیا جائے۔
2۔ یا پھرواجب سے زیادہ فضل واحسان کے ساتھ معاملہ کیا جائے ۔وہ اس طرح کہ جو واجب نہیں ہے وہ دے دیا جائے اور حقوق (لینے) میں درگذر اور چھوٹ سے کام لیا جائے اور دل میں جو کدورتیں اور نفرتیں ہیں انہیں نظر انداز کیا جائے لہٰذا انسان کے لئے مناسب نہیں کہ وہ (فضیلت واحسان کے ) اس درجہ و مقام کو بھلادے۔ بلکہ اس درجہ پر عمل کرنا چاہئے خواہ کبھی کبھار ہی کرے۔ (السعدی:۱۰۵)
سوال: ہمیں آپس میں فضل واحسان کو بھلادینے سے منع کیا گیا ہے۔اس کا مقصود کیا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 237

وَلَا تَنسَوُاْ ٱلۡفَضۡلَ بَيۡنَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ ٢٣٧

یہاں“فضل”احسان کے معنی میں ہے۔یعنی تم اس احسان کو نہ بھولو جو طلاق سے پہلے تمہارے درمیان موجود تھا۔تم اسے ہمیشہ یاد رکھو۔تاکہ تم میں سے ہرایک اپنے ساتھی کے احسان کے بدلہ میں عفو ودرگذر کی طرف مائل ہوجائے۔ (الألوسی: ۳؍۱۵۵)
سوال: میاں بیوی سے آپس کے فضل واحسان کو یادرکھنے کا مطالبہ کیوں کیا گیا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 237

وَلَا تَنسَوُاْ ٱلۡفَضۡلَ بَيۡنَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ ٢٣٧

شوہرجسے رجولت یعنی مرد ہونے کی فضیلت حاصل ہے۔اسی کا حق ہے کہ وہ معاف کرے اور معاف کی ہوئی چیز پر عورتوں سے بازپرس نہ کرے۔ اسی لئے قرآن میں عورتوں کے لئے اس کا حکم آیا ہے نہ اس کی ترغیب۔اور یہ تو انتہائی بری اور گری ہوئی بات ہوگی کہ مرد نے عورت کو جوکچھ دے دیا تھا ، اسے واپس لوٹانے کے لئے عورت پر دباؤ ڈالے۔بلکہ مناسب یہ ہے کہ آپس کے فضل واحسان کو نہ بھولو۔ (البقاعی:۱؍۴۴۸)
سوال: اللہ تعالیٰ کے قول: (وَلَا تَنسَوُاْ ٱلۡفَضۡلَ بَيۡنَكُمۡ)سے کیا معلوم ہوتا ہے.