قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


١٤ ١٤


١٥ ١٥

ﭿ ١٦ ١٦


١٧ ١٧


١٨ ١٨



١٩ ١٩

٢٠ ٢٠

٢١ ٢١

ﯿ ٢٢ ٢٢
378
سورۃ النمل آیات 0 - 14

فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُفۡسِدِينَ ١٤

خطاب کا مفہوم یہ ہے کہ اسے محمد ﷺکو جھٹلانے والو!اور آپ کی رب کی جانب سے لائی ہوئی شریعت کا انکار کرنے والو!آگاہ ہوجاؤکہیں وہی عذاب تم پر بھی نہ آجائے کیونکہ تم اس کے زیادہ مستحق ہو اس لئے کہ محمدﷺموسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں زیادہ اشرف اور عظیم ہیں اور آپ کی دلیلیں موسیٰ علیہ السلام کی دلیلوں سے زیادہ قوی اور مضبوط ہیں۔(ابن کثیر: ۳؍۳۴۵-۳۴۶)
سوال:آیت کے اندر محمد ﷺ کی نبوت کا انکار کرنے والوں کو ڈرایا گیا ہے حالانکہ گفتگو موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے منکرین سے متعلق ہے۔ اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ النمل آیات 0 - 15

وَقَالَا ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٖ مِّنۡ عِبَادِهِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٥

یہ بندے کی سعادت کی علامت ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطاہوتی ہیں۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ یہ سمجھے کہ ان نعمتوں کا لازمی تقاضہ یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔ (السعدی؍۶۰۲)
سوال:آیت کی روشنی میں واضح کیجئے کہ نیک بندوں پر نعمتوں کا اثرکیسے ہوتا ہے؟

سورۃ النمل آیات 0 - 16

وَوَرِثَ سُلَيۡمَٰنُ دَاوُۥدَۖ

یعنی سلیمان علیہ السلام بادشاہت اور نبوت دونو ں میں داؤد علیہ السلام کے وارث بنے۔اس سے مال کی وراثت مرادنہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو داود علیہ السلام کی اولاد میں سے صرف سلیمان علیہ السلام کو خاص نہ کیا جاتا اس لئے کہ انبیاء علیہم السلام کےمال ودولت وارثین میں تقسیم نہیں کئے جاتے ہیں۔ (السعدی؍۳۴۶)
سوال:سب سے اچھی چیز جو اولاد اپنے والد سے وراثت میں حاصل کرتی ہے وہ ایمان،علم اور حکمت ہے۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ النمل آیات 0 - 19

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكٗا مِّن قَوۡلِهَا

زجّاج نے کہا:انبیاء علیہم السلام کی ہنسی اکثر مسکراہٹ ہوتی تھی اور یہاں ہنسنے سے مراد مسکرانا ہے۔ (البغوی: ۳؍۳۹۱)
سوال:انبیاء علیہم السلام کا ہنسنا اکثر کیسا ہوتا تھا؟

سورۃ النمل آیات 20 - 21

وَتَفَقَّدَ ٱلطَّيۡرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَآ أَرَى ٱلۡهُدۡهُدَ أَمۡ كَانَ مِنَ ٱلۡغَآئِبِينَ ٢٠ لَأُعَذِّبَنَّهُۥ عَذَابٗا شَدِيدًا أَوۡ لَأَاْذۡبَحَنَّهُۥٓ أَوۡ لَيَأۡتِيَنِّي بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ ٢١

آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حاکم کو رعایا کے احوال دیکھتے رہنا چاہئے اور اس کی دیکھ بھال کرتے رہنا چاہئے۔دیکھیں ایک معمولی پرندہ ہدہد کی حالت سے بھی سلیمان علیہ السلام بے خبر نہیں ہیں پھر آپ اپنی بادشاہت کی بڑی بڑی چیزوں کے بارے میں کتنے فکر مند رہتے ہوں گے؟اللہ عمر رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے!آپ بھی رعایا کی دیکھ بھال میں انہی کی طرح تھے،آپ کہاکرتے تھے: اگر دریائے فرات کے کنارے کسی بکری کے بچے کو بھیڑیا اٹھالے جائے تو عمر کو اس کا بھی جواب دینا ہوگا۔ (القرطبی: ۱۶؍۱۳۱)
سوال:کیا حکومت اور امارت بس لائق شرف و فخر ہے یا ایسی امانت اور ذمہ داری ہے جس کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہوگا؟آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ النمل آیات 0 - 20

لَأُعَذِّبَنَّهُۥ عَذَابٗا شَدِيدًا أَوۡ لَأَاْذۡبَحَنَّهُۥٓ أَوۡ لَيَأۡتِيَنِّي بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ ٢١

یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔یہ سلیمان علیہ السلام کے کمال ِعدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیونکہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش میں ہی دی جاسکتی ہے۔ اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہوسکتا تھا اس لئے آپ نے اپنے ورع وتقویٰ اور ذہانت کی بناپر اس کو مستثنیٰ کردیا۔(السعدی؍۶۰۴)
سوال:سلیمان علیہ السلام کے ورع وتقویٰ،سنجیدگی اور جلد بازی نہ کرنے پر یہ آیت کیسے دلالت کرتی ہے؟

سورۃ النمل آیات 0 - 22

فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيدٖ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهِۦ وَجِئۡتُكَ مِن سَبَإِۢ بِنَبَإٖ يَقِينٍ ٢٢

ہدہدکےاس دفاع اور جواب میں اس بات کی تنبیہ ہے کہ ایک کمزور سی مخلوق کو وہ علم و صلاحیت عطا ہوتی ہے جو طاقتور سے طاقتور مخلوق کو نہیں دی جاتی تاکہ علماء اپنے علم کو کمتر سمجھیں اور ہر شیئ کے علم کو اللہ کی طرف لوٹادیں۔اس آیت کے اندر روافض کے اس قول کا توڑبھی ہے کہ امام پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہوتی ہے اور اس کے زمانے میں اس سے بڑا کوئی عالم نہیں ہوتا۔ (البقاعی:۱۴؍۱۵۰)
سوال:سلیمان علیہ السلام کی مملکت اور علم کی کشادگی اور زیادتی کے باوجود ہدہد کی معرفت اور جانکاری کس بات پر دلالت کرتی ہے؟