قرآن
ﮥ
ﱋ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ٦٨ ٦٨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ٦٩ ٦٩ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ٧٠ ٧٠ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ٧١ ٧١ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ٧٢ ٧٢ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ٧٣ ٧٣ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ٧٤ ٧٤ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ٧٥ ٧٥ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ٧٦ ٧٦ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ٧٧ ٧٧
ﮦ
وَٱلَّذِينَ لَا يَدۡعُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ وَلَا يَقۡتُلُونَ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَلَا يَزۡنُونَۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ يَلۡقَ أَثَامٗا ٦٨
سب سے بڑے گناہ تین ہیں:کفر،پھر ناحق قتل کرنا،پھر زنا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ترتیب وار ذکر کیا ہے۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟فرمایا: تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بناؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔پھر میں نے پوچھا: اس کے بعد کون سا ہے؟فرمایا: یہ کہ تم اپنے بچے کواپنے ساتھ کھانے کے ڈر سے قتل کرو۔پھر میں نے پوچھا: اس کے بعد کون ساہے؟ فرمایا: اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرنا۔
اس ترتیب کی ایک معقول وجہ ہے،وہ یہ کہ انسان کے اندر تین قوتیں ہیں:1۔ عقل کی قوت،2۔ غصہ کی قوت اور3۔ شہوت کی قوت۔(ابن تیمیہ: ۵؍۲۱-۲۲)
سوال:شرک،قتل اور زنا جیسے کبیرہ گناہوں کو آیت کریمہ کے اندر مذکورہ ترتیب سے کیوں ذکرکیا گیا؟
إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ عَمَلٗا صَٰلِحٗا فَأُوْلَٰٓئِكَ يُبَدِّلُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِهِمۡ حَسَنَٰتٖۗ
گذشتہ کے گناہ خالص توبہ کے ساتھ ہی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں کیونکہ جب بھی آدمی اپنے گذشتہ گناہوں کو یاد کرتا ہےاس پر شرمندہ ہوتا ہے اور اللہ کی طرف پلٹتا ہے اور استغفار کرتا ہے تو اس اعتبار سے وہ گناہ نیکی میں بدل جاتا ہے۔چنانچہ قیامت کے دن گرچہ وہ اس پر لکھا ہوا ہوگا لیکن اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا بلکہ وہ نامہ اعما ل میں نیکی سے بدل جائیگا۔ (ابن کثیر:۳؍ ۳۱۶)
سوال:آیت کی روشنی میں سچی توبہ کی عظیم فضیلت بیان کیجئے.
وَٱلَّذِينَ لَا يَشۡهَدُونَ ٱلزُّورَ وَإِذَا مَرُّواْ بِٱللَّغۡوِ مَرُّواْ كِرَامٗا ٧٢
(لا يشهدون الزور) یہ “شہادت” سے ہے گواہی دینے کے معنی میں۔ یعنی وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے ہیں۔ ایک مطلب یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ جھوٹ اور لہوولعب کی مجلسوں میں نہیں جاتے ہیں چنانچہ اس صورت میں یہ لفظ مشاہدہ اور حضور کے معنی میں ہوگا۔البتہ پہلا معنی زیادہ ظاہر لگ رہا ہے (وإذا مروا باللغو مروا كرامًا)قبیح باتوں کی تمام قسموں کو لغو کہتے ہیں اور(مروا كرامًا) کا مطلب ہے کہ وہ اس مجلس میں جانے سے شرماتے ہیں اور اس سے اعراض کرتے ہیں اور اپنے کو پاک وصاف رکھنے کے لئے لغو میں شریک لوگوں کے ساتھ شریک نہیں ہوتے ہیں۔ (ابن جُزی: ۲؍۱۱۳)
سوال:اگر ایک مسلمان کسی ایسی مجلس سے گذرے جہاں قبیح گفتگو یا معصیت کے کام ہورہے ہوں تو وہ کیا کرے؟
وَٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُواْ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ لَمۡ يَخِرُّواْ عَلَيۡهَا صُمّٗا وَعُمۡيَانٗا ٧٣
(لم يخروا عليها صمًّا وعميانًا) یعنی وہ لوگ اللہ کی آیات سے اعراض نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ اپنے کانوں اور دلوں کے ساتھ یعنی پوری توجہ سے ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔(ابن جُزی: ۲؍ ۱۱۳)
سوال:قرآنی آیات سنتے وقت ایک مسلمان کو کن صفات کا حامل ہونا چاہئے؟
وَٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ أَزۡوَٰجِنَا وَذُرِّيَّٰتِنَا قُرَّةَ أَعۡيُنٖ
وہ اللہ تعالیٰ کوجامع و کامل دعاؤں سے پکارتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی بیویاں اور بچے نیک وصالح بنتے ہیں، اور اس کا لازمی تقاضہ یہ ہے کہ وہ ان کی تعلیم و تربیت اور وعظ و نصیحت میں بھرپور کوشش و محنت کرتے ہیں۔کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس (کی حصولیابی) کا وسیلہ اور سبب بن جاتا ہے۔ (السعدی: ۵۸۸)
سوال:بیویوں اور اولاد کی اصلاح کی دعاکرنا کس چیز کا تقاضہ کرتا ہے؟
وَٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ أَزۡوَٰجِنَا وَذُرِّيَّٰتِنَا قُرَّةَ أَعۡيُنٖ
امام قرظی نے کہا:ایک مومن کے لئے سب سے زیادہ سکون اورآنکھوں کی ٹھنڈک اسی میں ہے کہ وہ اپنی بیوی اور اولاد کو اللہ کا فرمانبردار دیکھے۔ (البغوی: ۳؍ ۳۴۷)
سوال:وہ سب سے عظیم چیز کیا ہے جس سے ایک مومن کو آنکھ کی ٹھنڈک ملتی ہے؟
أُوْلَٰٓئِكَ يُجۡزَوۡنَ ٱلۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُواْ وَيُلَقَّوۡنَ فِيهَا تَحِيَّةٗ وَسَلَٰمًا ٧٥ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ حَسُنَتۡ مُسۡتَقَرّٗا وَمُقَامٗا ٧٦
یہ کل گیارہ خصلتیں ہوئیں: خاکساری وبردباری،تہجد گذاری وخوف الٰہی،فضول خرچی و بخیلی نہ کرنا، شرک سے بچنا، زنا نہ کرنا،ناحق قتل نہ کرنا،توبہ کرنا، جھوٹ نہ بولنا،خطاکار کو معاف کرنا،دعوت حق کو قبول کرنا اور دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے محتاج ہونے کا اظہار کرنا۔(ابن عاشور: ۱۹؍۸۴)
سوال:گذشتہ آیتوں میں وہ کون سی نیک عادتیں ہیں جن کو نیک بندوں کی صفت بتایا گیا ہے؟انہیں شمار کریں اور خود اپنانے کی کوشش کریں.