قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

٥٦ ٥٦
٥٧ ٥٧


٥٨ ٥٨

ﭿ
٥٩ ٥٩

٦٠ ٦٠


٦١ ٦١

٦٢ ٦٢


٦٣ ٦٣
٦٤ ٦٤

٦٥ ٦٥
٦٦ ٦٦
ﯿ ٦٧ ٦٧
365
سورۃ الفرقان آیات 0 - 57

قُلۡ مَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍ إِلَّا مَن شَآءَ أَن يَتَّخِذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلٗا ٥٧

(ما أسألكم عليه) یعنی: جنت کی بشارت اور جہنم سے آگاہی کی تبلیغ پر میں کچھ نہیں مانگتا۔(من أجر)یعنی کوئی اجرت، تاکہ تم لوگ اس کی وجہ سے متہم نہ کرو کہ میں اسی لئے دعوت کا کام کرتا ہوں۔یا یہ کہو کہ اس کی طرف کوئی خزانہ کیوں نہیں اتاردیا جاتاکہ وہ بے نیاز ہوجاتا۔گویا نبیﷺ کہہ رہے ہیں کہ مال کی توسیع اور اس کی زیادتی و افزائش میں لگ جانااس شخص کے لئے ناپسندیدہ ہے جولوگوں سے مانگتا پھرتا ہے۔اور یہ نبوت سے پہلے بھی میری عادت نہیں تھی تو بعد میں کیسے ہوسکتی ہے؟! میرا مقصد صرف تم لوگوں کو نفع پہنچانا ہے۔ (البقاعی: ۱۳؍۴۱۲)
سوال:ان سچے داعیوں کی کیا علامت ہے جو انبیاء کے راستہ پر چلتے ہیں؟

سورۃ الفرقان آیات 0 - 58

وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱلۡحَيِّ ٱلَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِهِۦۚ وَكَفَىٰ بِهِۦ بِذُنُوبِ عِبَادِهِۦ خَبِيرًا ٥٨

آیت میں اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ ایک کامل شخص اللہ کے علاوہ کسی پر بھروسہ نہیں کرسکتا کیونکہ جن پر موت طاری ہوتی ہے ان پر بھروسہ کرنا گرچہ وقتی طور پر فائدہ پہنچاسکتا ہے لیکن یہ دائمی نہیں ہوتا۔ (ابن عاشور: ۱۹؍۵۹)
سوال:بھروسہ اس وقت فائدہ دیگا جب وہ صرف اللہ پر ہو۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الفرقان آیات 0 - 60

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱسۡجُدُواْۤ لِلرَّحۡمَٰنِ قَالُواْ وَمَا ٱلرَّحۡمَٰنُ أَنَسۡجُدُ لِمَا تَأۡمُرُنَا وَزَادَهُمۡ نُفُورٗا۩ ٦٠

جب کافروں نے اللہ تعالیٰ (رحمٰن) کو سجدہ کرنے سے انکارکیا تو اللہ تعالیٰ نے تعجب کے سیاق میں ان کی اس حالت کو بیان کیااور ان کی مخالفت میں سجدہ کرنے کے عمل کو مشروع قرار دیا، لہٰذا عملاً اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی مخالفت میں مبالغہ کرتے ہوئے سجدہ بھی کیا ۔ (ابن عاشور: ۱۹؍۶۳)
سوال:مذکورہ آیت کریمہ پڑھنے کے بعد سجدہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ الفرقان آیات 0 - 62

وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ خِلۡفَةٗ لِّمَنۡ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوۡ أَرَادَ شُكُورٗا ٦٢

بیشک دل شب وروز کی مختلف گھڑیوں میں اپنی کیفیات کے اعتبار سے تبدیلیوں کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔انہیں چستی اور سستی، ذکر اور غفلت، تنگی اور کشادگی،توجہ اور اعراض کی کیفیات پیش آتی رہتی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے شب وروز کو اس طرح پیدافرمایا ہے کہ وہ تسلسل سے باری باری آتے رہتے ہیں تاکہ ایک کے جانے کے بعد دوسرے وقت میں بندوں کو نشاط،ذکر اور شکر کی کیفیت حاصل ہوتی رہے۔ (السعدی؍ ۵۸۶)
سوال:شب وروز کا آنا جانا اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے لئے کیسے سبب بنتا ہے؟

سورۃ الفرقان آیات 0 - 62

وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ خِلۡفَةٗ لِّمَنۡ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوۡ أَرَادَ شُكُورٗا ٦٢

عمر بن خطاب،عبداللہ بن عباس اور حسن رضی اللہ عنہم نے کہا ہے کہ جو شخص خیر وبھلائی اور نماز وغیرہ میں سے کچھ بھی اگر دن یارات میں سے کسی ایک میں اسے کرنا بھول گیا ہو تو اس کی تلافی بعد میں آنے والے وقت کے اندر کرے۔(ابن عطیہ: ۴؍۲۱۸)
سوال:شب وروز کے آنے جانے کا اثر بندے کی عبادت پر کیسے پڑتا ہے؟اسے آیت کی روشنی میں واضح کیجئے.

سورۃ الفرقان آیات 0 - 63

وَعِبَادُ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلَّذِينَ يَمۡشُونَ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ هَوۡنٗا

(هَوْنًا)یہ “هَيِّن” سے مصدر ہے جو سکینت ووقار کے معنی میں ہے اور اس کی تفسیر میں کہاجاتا ہے کہ وہ بندے زمین پر بردباری اور انکساری وخاکساری کے ساتھ چلتے ہیں،چلنے میں میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔اور میانہ روی،وقار اور متانت وسنجیدگی نبوی اخلاق میں سے ہیں۔ (القرطبی: ۱۵؍۴۶۶)
سوال:ایک مومن زمین پر کیسے چلتاہے اس کا حسن اخلاق واضح کریں؟

سورۃ الفرقان آیات 0 - 63

وَإِذَا خَاطَبَهُمُ ٱلۡجَٰهِلُونَ قَالُواْ سَلَٰمٗا ٦٣

یعنی جب جاہل ان سے ناپسندیدہ باتوں کے ذریعہ خطاب کرتے ہیں تو یہ ان کو بھلی بات اور اچھے خطاب سے جواب دیتے ہیں۔ (طبری: ۱۹؍۲۹۵)
سوال:جاہلوں کو جواب دینے میں کس طرح حکمت والا طریقہ اپنایا جائے؟اسے واضح کریں.