قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٣ ٣


٤ ٤
ﭿ
٥ ٥

٦ ٦


٧ ٧


٨ ٨


٩ ٩

١٠ ١٠

١١ ١١
360
سورۃ الفرقان آیات 0 - 3

وَٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةٗ لَّا يَخۡلُقُونَ شَيۡٔٗا وَهُمۡ يُخۡلَقُونَ وَلَا يَمۡلِكُونَ لِأَنفُسِهِمۡ ضَرّٗا وَلَا نَفۡعٗا وَلَا يَمۡلِكُونَ مَوۡتٗا وَلَا حَيَوٰةٗ وَلَا نُشُورٗا ٣

اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں یہ ذکر کیاہے کہ وہ معبودان ِباطلہ جن کی مشرکین پرستش کرتے ہیں،وہ چھ صفتوں سے متصف ہیں جن میں سے ہر ایک اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرنا کسی حال میں درست نہیں ہے بلکہ یہ انتہا درجہ کا ظلم اور بہت بڑی جہالت ہے۔:
1. انہیں کچھ بھی پیدا کرنے کی طاقت نہیں ہے۔
2. وہ سب کے سب مخلوق ہیں جنہیں ہر چیز کے خالق نے پیدا کیا ہے۔
3. وہ اپنے لئے کسی نفع ونقصان کے مالک نہیں ہیں۔
4. وہ کسی کی موت کے مالک نہیں ہیں۔
5. وہ کسی کی حیات کے مالک نہیں ہیں۔
6. وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانے کے مالک نہیں ہیں۔(شِنقیطی: ۶؍۹)
سوال:کمی کی وہ کون سی صورتیں ہیں جو اللہ کے علاوہ ہر معبود میں پائی جاتی ہیں؟

سورۃ الفرقان آیات 0 - 6

قُلۡ أَنزَلَهُ ٱلَّذِي يَعۡلَمُ ٱلسِّرَّ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ

راز کی باتوں کا ذکر کیا علانیہ باتوں کو چھوڑکر۔کیونکہ جسے راز کی باتوں کا علم ہوگا وہ علانیہ باتوں کو بدرجہ اولیٰ جانیگا۔(القرطبی: ۱۵؍۳۶۹)
سوال:آیت کریمہ میں علانیہ باتوں کو چھوڑکر صرف راز کی باتوں کاخصوصی طور پر کیوں ذکر کیا گیا؟

سورۃ الفرقان آیات 5 - 6

وَقَالُوٓاْ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ ٱكۡتَتَبَهَا فَهِيَ تُمۡلَىٰ عَلَيۡهِ بُكۡرَةٗ وَأَصِيلٗا ٥ قُلۡ أَنزَلَهُ ٱلَّذِي يَعۡلَمُ ٱلسِّرَّ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا ٦

(إِنَّهُ كَانَ غَفورًا رَحيمًا) ا س سے انہیں توبہ وانابت کی طرف بلانا مقصود ہے اور اس بات کی خبر دینا کہ اس کی رحمت کشادہ ہے نیز اس کی بردباری بہت عظیم ہے اور جو اس سے توبہ کرتا ہے وہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے جھٹلایا،بہتان باندھا،فسق وفجور کیا،کفر وسرکشی پر اتر آئے نیز رسول ﷺ اور قرآن کے بارے میں کیا کیا نہیں کہا!اس کے باوجوداللہ انہیں توبہ کرنے نیز تمام بداعمالیو ں کو چھوڑکر اسلام اور ہدایت کی طرف آنے کی دعوت دے رہا ہے۔ (ابن کثیر:۳؍۲۹۹)
سوال: (إنه كان غفورًا رحيمًا)آیت کو اس جملہ پر کیوں ختم کیا گیا؟

سورۃ الفرقان آیات 0 - 6

قُلۡ أَنزَلَهُ ٱلَّذِي يَعۡلَمُ ٱلسِّرَّ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا ٦

اگر یہ کہا جائے کہ (إِنَّهُ كَانَ غَفورًا رَحيمًا) اس جملہ کی اپنے سے پہلے والے جملہ سے کیا مناسبت ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ: اللہ نے جب پہلے کفار کے اقوال کو ذکر کردیا تو اس کے بعد یہ بتانے کے لئے اس کا ذکر کیا کہ وہ بخشنے والا مہربان ہے،اس طور پر کہ انہیں فوری طور پر سزا نہیں دیا بلکہ انہیں مہلت دی کہ وہ اسلام لے آئیں تو ان کی توبہ قبول فرماکر انہیں معاف کردیگا۔ (ابن جُزی: ۲؍۱۰۳)
سوال:کافروں نے نبی ﷺ کو جھٹلایا اس جملہ (إِنَّهُ كَانَ غَفورًا رَحيمًا) سے اس کا کیا تعلق ہے؟

سورۃ الفرقان آیات 0 - 7

وَقَالُواْ مَالِ هَٰذَا ٱلرَّسُولِ يَأۡكُلُ ٱلطَّعَامَ وَيَمۡشِي فِي ٱلۡأَسۡوَاقِ

اس آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ علماء اور دیندار صالح لوگ بازار میں جاسکتے ہیں،گرچہ کچھ لوگوں نے مکروہ کہا ہے۔ (الوسی: ۹؍۴۲۷)
سوال:داعی الی اللہ کے لئے سب سے زیادہ معاون چیزوں میں سے تواضع اور لوگوں کے ساتھ میل جول ہے۔ اس آیت سے ہمیں اس کا پتہ کیسے چلا؟

سورۃ الفرقان آیات 0 - 7

وَقَالُواْ مَالِ هَٰذَا ٱلرَّسُولِ يَأۡكُلُ ٱلطَّعَامَ وَيَمۡشِي فِي ٱلۡأَسۡوَاقِ

(هَذا الرّسولِ) “رسول” سے ان کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔(يَأكُلُ الطَّعامَ) یعنی: جیسے ہم کھاتے ہیں وہ بھی کھاتا ہے (وَيَمشِي فِي الأسواقِ)یعنی: معاش اور روزی کی تلاش میں جیسے ہم چلتے پھرتے ہیں وہ بھی بازاروں میں چلتا پھرتا ہے چنانچہ وہ نبوت پاکر ہم سے ممتاز نہیں بن سکتا۔
اور کفار آپ ﷺ سے یہ بھی کہتے تھے: آپ نہ تو فرشتے ہیں نہ بادشاہ کیونکہ آپ کھانا کھاتے ہیں جبکہ فرشتے نہیں کھاتے اور آپ بادشاہ نہیں ہیں کیونکہ بادشاہ بازاروں میں خرید وفروخت نہیں کرتے جبکہ آپ کرتے ہیں۔
ان کی یہ ساری باتیں فاسد ہیں کیونکہ آپ انسان ہونے کے ناطے کھانا کھاتے تھے اور تواضع وانکساری کے ناطے بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور یہ ایک انسان کی صفت ہے اور یہ ساری چیزیں نبوت کے منافی بالکل نہیں ہیں۔(البغوی: ۳؍۳۲۲)
سوال:داعی کی سچائی کی علامات میں سے تواضع وانکساری اور زندگی کے تمام تصرفات میں واقعیت پسندی ہے۔آیت کے ذریعہ اس کی وضاحت کریں.

سورۃ الفرقان آیات 0 - 11

بَلۡ كَذَّبُواْ بِٱلسَّاعَةِۖ

یعنی یہ لوگ اس طرح کی باتیں سرکشی اور جھٹلانے کی وجہ سے کرتے ہیں۔وہ بصیرت کی بنیاد پر یا ہدایت پانے کے لئے یہ سب طلب نہیں کررہے ہیں بلکہ قیامت کو جھٹلانے کی وجہ سے یہ ساری باتیں کہہ رہے ہیں۔ (ابن کثیر: ؍۳۰۰)
سوال:کفار ومنافقین کے بہت سارے مواقف اور باتوں کی وجہ کیا ہوتی ہے؟