قرآن
ﮤ
ﱊ
ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ
ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ٥٩ ٥٩ ﭧ ﭨ ﭩ
ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ٦٠ ٦٠ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ٦١ ٦١
وَٱلۡقَوَٰعِدُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ ٱلَّٰتِي لَا يَرۡجُونَ نِكَاحٗا فَلَيۡسَ عَلَيۡهِنَّ جُنَاحٌ أَن يَضَعۡنَ ثِيَابَهُنَّ غَيۡرَ مُتَبَرِّجَٰتِۢ بِزِينَةٖۖ وَأَن يَسۡتَعۡفِفۡنَ خَيۡرٞ لَّهُنَّۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ٦٠
ان احکام میں بوڑھی عورتوں کو خاص کردیا گیا کیونکہ نفس ان کی طرف مائل نہیں ہوتااور مردوں کو ان میں چاہت نہیں ہوتی اسی لئے ان کے لئے وہ جائز کردیا گیا جو دوسری عورتوں کے لئے جائز نہیں ہے اور اس طور سے ان کے اوپر سے پریشان کن حفاظتی عمل سے انہیں بچالیا گیا۔ (القرطبی: ۳۴۰)
سوال:مذکورہ حکم کو بوڑھی عورتوں کے ساتھ کیوں خاص کردیا گیا؟نیز اس آیت سے ان عورتوں کے بارے میں آپ کیا سمجھتے ہیں جو بوڑھی نہیں ہیں؟
وَلَا عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمۡ أَن تَأۡكُلُواْ مِنۢ بُيُوتِكُمۡ أَوۡ بُيُوتِ ءَابَآئِكُمۡ أَوۡ بُيُوتِ أُمَّهَٰتِكُمۡ أَوۡ بُيُوتِ إِخۡوَٰنِكُمۡ أَوۡ بُيُوتِ أَخَوَٰتِكُمۡ أَوۡ بُيُوتِ أَعۡمَٰمِكُمۡ أَوۡ بُيُوتِ عَمَّٰتِكُمۡ أَوۡ بُيُوتِ أَخۡوَٰلِكُمۡ أَوۡ بُيُوتِ خَٰلَٰتِكُمۡ أَوۡ مَا مَلَكۡتُم مَّفَاتِحَهُۥٓ أَوۡ صَدِيقِكُمۡۚ
مذکورہ بالا تمام گھروں میں بغیر اجازت کھاپی لینے میں مضائقہ نہیں ہے او ر اس کی حکمت سیاق ِکلام سے واضح ہے۔ان مذکورہ گھروں میں عادت اور عرف عام کے مطابق قرابت ِقریبہ،تصرف ِکامل اور دوستی کی وجہ سے کھاپی لینے کے معاملہ میں مسامحت برتی جاتی ہے۔اگر ان مذکورہ بالا گھروں میں کھاپی لینے میں عدم مسامحت اور بخل معلوم ہوجائے تو حکمت اور معنی کو مد نظر رکھتے ہوئے نہ کھانا جائز ہوگا اور نہ ہی حرج ختم ہوگا۔(السعدی؍۵۷۵)
سوال:مذکورہ بالا گھروں والے اگر اپنے گھروں سے کھانے کی اجازت نہ دیں تو اس وقت کیا حکم ہوگا؟
وَلَا عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمۡ أَن تَأۡكُلُواْ مِنۢ بُيُوتِكُمۡ أَوۡ بُيُوتِ ءَابَآئِكُمۡ أَوۡ بُيُوتِ أُمَّهَٰتِكُمۡ أَوۡ بُيُوتِ إِخۡوَٰنِكُمۡ أَوۡ بُيُوتِ أَخَوَٰتِكُمۡ
مذکورہ قرابت داروں کے گھروں کے ذکر کرنے میں بیٹوں کے گھروں کو چھوڑدیا۔اس تعلق سے مفسرین نے کہا ہے کہ ان کاگھر اس حکم (من بيوتكم)میں داخل ہے کیونکہ بیٹے کا گھر اپنا گھر ہوتا ہے۔ (القرطبی: ۱۵؍۳۴۷)
سوال:آیت کے اندر تمام رشتہ داروں کے گھروں کا تذکرہ ہوا،اس بیچ میں بیٹوں کے گھروں کو چھوڑدینے کا کیا سبب ہے؟
أَوۡ صَدِيقِكُمۡۚ
اللہ تعالیٰ نے خالص مضبوط قرابت داروں کی فہرست میں دوستی کو بھی شامل کردیا ہے اس لئے کہ محبت اور دوستی کی قرابت بہت مضبوط اور گہری ہوتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:دوست رشتے داروں سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔دیکھیں جہنمی کس طرح فریاد کرتے ہوئے کہیں گے﴿فَمَا لَنَا مِن شَٰفِعِينَ * وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٖ﴾ (سورۂ شعراء: ۱۰۰-۱۰۱)ہمارا کوئی سفارشی نہیں اور نہ کوئی گہرا دوست ہے ۔(القرطبی: ۱۵؍۳۵۱)
سوال:اللہ تعالیٰ نے دوست کو قرابت داروں کے ساتھ کیوں ملادیا؟
لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَأۡكُلُواْ جَمِيعًا أَوۡ أَشۡتَاتٗاۚ
یہاں نفی حرج کے لئے ہے نہ کہ فضیلت کے لئے کیونکہ افضل یہی ہے کہ ایک ساتھ مل کر کھایا جائے۔ (السعدی: ۵۷۵)
سوال:کھانا ایک ساتھ مل کر کھانا افضل ہے یاالگ الگ؟
فَسَلِّمُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمۡ
یعنی ہر کوئی ایک دوسرے سے سلام کرے اس لئے سارے مسلمان شفقت،مہربانی اور آپسی محبت میں ایک شخص کی مانند ہیں۔(السعدی؍۵۷۵)
سوال:اللہ تعالیٰ نے اس فرمان: (فسلموا على أنفسكم) کے اندر مسلمانوں کے درمیان ایک باہمی مضبوط رابطہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.
فَإِذَا دَخَلۡتُم بُيُوتٗا فَسَلِّمُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمۡ تَحِيَّةٗ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ مُبَٰرَكَةٗ طَيِّبَةٗۚ
سلام وتحیۃ کو برکت سے متصف کیا ہے کیونکہ اس میں دعا ہے اور جسے سلام کیا جاتا ہے اس کے دل میں محبت پیدا ہوتی ہے۔(ابن عطیہ: ۴؍۱۹۷)
سوال:سلام وتحیہ کو برکت سے متصف کرنے کی کیا وجہ ہے؟