قرآن
ﮤ
ﱊ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ٢١ ٢١ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ٢٢ ٢٢ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ
ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ٢٣ ٢٣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ٢٤ ٢٤ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ٢٥ ٢٥ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ٢٦ ٢٦ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ
ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ٢٧ ٢٧
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيۡطَٰنِۚ وَمَن يَتَّبِعۡ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَإِنَّهُۥ يَأۡمُرُ بِٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِۚ
اس کلام کے اندر شیطان کی پیروی اور اس کے وسوسوں پر عمل کرنے کی طرف اشارہ ہے۔گویا کہا گیا:تم شیطان کی اس طرح کی غلط چیزوں میں بالکل پیروی نہ کرو۔انہی میں بدکاری کو پسند کرنا اور اسے عام کرنا بھی شامل ہے۔ (آلوسی: ۹؍۳۲۰)
سوال:اللہ تعالیٰ نے شیطان کے نقش ِقد م کی پیروی کرنے سے کیوں منع کیا؟بلاواسطہ اس کی پیروی کرنے سے منع نہیں کیا؟
وَلَوۡلَا فَضۡلُ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهُۥ مَا زَكَىٰ مِنكُم مِّنۡ أَحَدٍ أَبَدٗا وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يُزَكِّي مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ٢١
بعض مفسرین کے نزدیک آیت کے اندر عموم پایا جاتا ہے۔وہ اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ گناہوں سے محفوظ رکھنے میں اگر اس کا فضل اور رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی پاکباز نہ رہ سکتا تھا۔ (البغوی: ۳؍۲۸۱)
سوال:کیا کوئی اپنے آپ کو غلطیوں سے بچاسکتا ہے؟
وَلَا يَأۡتَلِ أُوْلُواْ ٱلۡفَضۡلِ مِنكُمۡ وَٱلسَّعَةِ أَن يُؤۡتُوٓاْ أُوْلِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينَ وَٱلۡمُهَٰجِرِينَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۖ وَلۡيَعۡفُواْ وَلۡيَصۡفَحُوٓاْۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغۡفِرَ ٱللَّهُ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٌ ٢٢
یہ آیت کریمہ اس وقت نازل ہوئی جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قسم کھالی تھی کہ مِسطح رضی اللہ عنہ پر اب خرچ نہیں کریں گے کیوں کہ انہوں نے بھی واقعۂاِفک میں حصہ لیا تھا۔ابوبکر رضی اللہ عنہ ان پر ان کی محتاجگی اور قرابت داری یعنی خالہ زاد بہن کے بیٹے ہونےکی وجہ سے خرچ کررہے تھے، چنانچہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان پر خرچ دوبارہ شروع کردیا اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔
بعض علماء کرام کہتے ہیں کہ قرآن میں اللہ سے سب سے زیادہ امید والی یہ آیت ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے تہمت لگانے والے کے ساتھ بھی حسن ِسلوک کی وصیت کی ہے۔پھر یہ کہ آیت کا لفظ عام ہے کہ کوئی بھی نیک کام چھوڑنے کی قسم نہ کھائے(ألا تُحِبونَ أَن يَغفِرَ الله لَكُم) یعنی جس طرح تم چاہتے ہو کہ اللہ تمہیں معاف کردے اسی طرح تم بھی انہیں معاف کردو جنہوں نے تمہارے ساتھ برا سلوک کیا ہے۔ چنانچہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک مجھے پسند ہے کہ اللہ مجھے معاف فرمادے۔اس کے بعد انہوں نے دوبارہ مسطح کا خرچ جاری کردیا۔ (ابن جزی:۲؍۸۷)
سوال:اگر کوئی آپ کے ساتھ غلط رویہ اپنائے تو کیا آپ اس کے ساتھ حسن سلوک کرنا چھوڑدیں گے؟
وَلۡيَعۡفُواْ وَلۡيَصۡفَحُوٓاْۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغۡفِرَ ٱللَّهُ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٌ ٢٢
بیشک بدلہ عمل ہی کی جنس سے ہوتا ہے چنانچہ جس طرح آپ دوسروں کی غلطیوں کو معاف کریں گے اور ان کے ساتھ عفوودرگذر سے کام لیں گے تو اللہ بھی آپ کو معاف کردے گا اور عفوودرگذر سے کام لیگا۔(ابن کثیر: ۲؍۲۶۷)
سوال:آیت کی روشنی میں اس اصول پر روشنی ڈالئے کہ بدلہ عمل کی جنس سے ہوتا ہے؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَرۡمُونَ ٱلۡمُحۡصَنَٰتِ ٱلۡغَٰفِلَٰتِ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ لُعِنُواْ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ ٢٣
بدکاری سے غافل وہ عورت ہوتی ہے جس کے دل میں بدکاری کے عمل کا خیال بالکل نہ آئے اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ایسی ہی تھیں۔ (البغوی:۳؍۲۸۲)
سوال:بدکاریوں اور شریعت مخالف کاموں سے غفلت کیسے ہوتی ہے؟
يَوۡمَ تَشۡهَدُ عَلَيۡهِمۡ أَلۡسِنَتُهُمۡ وَأَيۡدِيهِمۡ وَأَرۡجُلُهُم بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٢٤
کیونکہ پاکباز عورتوں پر تہمت لگانے میں ان اعضاء کا عمل دخل ہوتاہے چنانچہ ایسے لوگ زبان سے تہمت لگاتے ہیں اور جن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان کی طرف ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہیں نیز اپنے پیروں سے چل کر یہ خبر پہنچانے کے لئے لوگوں کی مجلسوں تک جاتے ہیں۔ (ابن عاشور: ۱۸؍۱۹۱)
سوال:جسم کے دوسرے اعضاء کو چھوڑکر انہی اعضاء کا ذکر کیوں کیا گیا؟
ٱلۡخَبِيثَٰتُ لِلۡخَبِيثِينَ وَٱلۡخَبِيثُونَ لِلۡخَبِيثَٰتِۖ وَٱلطَّيِّبَٰتُ لِلطَّيِّبِينَ وَٱلطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَٰتِۚ أُوْلَٰٓئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَۖ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَرِزۡقٞ كَرِيمٞ ٢٦
قاضی ابوسائب رحمہ اللہ نے کہا: میں ایک دن داعی حسن بن زید کی مجلس میں بیٹھا تھا کہ مجلس میں موجود ایک شخص نے بدکاری کی تہمت کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا۔ یہ سن کر انہوں نے کہا:اے غلام! اس کی گردن ماردو۔ اس پر علویوں نے کہا: یہ اپنے شیعوں میں سے ہے تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی پناہ! اس شخص نے نبی ﷺ پر تہمت لگائی ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (الخبيثات للخبيثين والخبيثون للخبيثات والطيبات للطيبين والطيبون للطيبات أولئك مبرأون مما يقولون لهم مغفرة ورزق كريم)پس اگر عائشہ رضی اللہ عنہا خبیث تھیں تو نبی ﷺ بھی نعوذ باللہ خبیث ہوئے حالانکہ آپ ایسے نہیں تھے۔لہذا یہ شخص کافر ٹھہرا،اس کی گردن ماردو۔قاضی ابوسائب کہتے ہیں:چنانچہ میری موجودگی میں اس کی گردن ماردی گئی۔ اسے لالکائی نے روایت کیا ہے۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۵۰۵)
سوال:ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر طعن وتشنیع کرنا نبی ﷺ پر طعن وتشنیع کرنا ہے۔ اس کی وضاحت کیجئے.