قرآن
ﮎ
ﰺ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ
٢٢٠ ٢٢٠ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ
ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ٢٢١ ٢٢١
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
٢٢٢ ٢٢٢ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ
ﯲ ٢٢٣ ٢٢٣ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ
ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ٢٢٤ ٢٢٤
وَلَا تَنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكَٰتِ حَتَّىٰ يُؤۡمِنَّۚ وَلَأَمَةٞ مُّؤۡمِنَةٌ خَيۡرٞ مِّن مُّشۡرِكَةٖ وَلَوۡ أَعۡجَبَتۡكُمۡۗ وَلَا تُنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤۡمِنُواْۚ وَلَعَبۡدٞ مُّؤۡمِنٌ خَيۡرٞ مِّن مُّشۡرِكٖ وَلَوۡ أَعۡجَبَكُمۡۗ أُوْلَٰٓئِكَ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلنَّارِۖ
(أُوْلَٰٓئِكَ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلنَّارِ)یہ مشرک لوگ جہنم کی طرف بلاتے ہیں۔یعنی اپنے اقوال یا اعمال یا احوال میں جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔لہذا ان سے میل جول رکھنے اور گھلنے ملنے میں بڑا خطرہ ہے اور یہ خطرہ محض دنیاوی خطروں میں سے نہیں ہے بلکہ ہمیشہ کی بدبختی کا خطرہ ہے۔
آیت میں حکم کی علت(جہنم کی طرف دعوت) سے یہ فائدہ نکلتاہے کہ ہر مشرک اور بدعتی سے میل جول ممنوع ہے۔ اس لئے کہ جب ان سے شادی کرنا جائز نہیں رہا جبکہ اس میں بہت سے فائدے ہیں تو پھر یوں ہی محض میل جول رکھنا تو بدرجۂ اولیٰ ممنوع ہوگا ،خاص طور سے ایسا میل جول (تو قطعی ناجائز ہوگا) جس میں مشرک وغیرہ کو مسلمان پر برتری اور فوقیت دی جائے۔ (السعدی:۹۹)
سوال:آیت سے آپ یہ فائدہ کیسے نکالیں گے کہ مسلمان کا مشرکوں اور بدعتیوں سے میل جول رکھنا پُرخطر ہے؟
أُوْلَٰٓئِكَ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلنَّارِۖ وَٱللَّهُ يَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱلۡجَنَّةِ وَٱلۡمَغۡفِرَةِ بِإِذۡنِهِۦۖ وَيُبَيِّنُ ءَايَٰتِهِۦ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ ٢٢١
آیت کا مقصودیہ ہے کہ: بندۂ مومن کے لئے ضروری ہے کہ ہر اس چیز سے ہوشیار اور دور رہے جو آخرت میں اسے نقصان پہنچانے والی ہے بلکہ وہ اس منع کردہ چراگاہ کے اردگرد چکر بھی نہ لگائے۔اور ایسی چیزوں سے بھی پرہیز کرے جن میں کسی طرح کا احتمال اور شبہ ہو ۔جبکہ نفس اور شیطان جہنم کی طرف لے جانے والے کاموں پر مدد کرتے ہیں۔ (الألوسی:۲؍۱۲۰)
سوال: مسلمان ہلاکت وبربادی کا نشانہ کب زیادہ بنتا ہے؟
إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلتَّوَّٰبِينَ وَيُحِبُّ ٱلۡمُتَطَهِّرِينَ ٢٢٢
جو بندے گناہ سے توبہ کرنے کے بعد دوبارہ گناہ کر بیٹھے ہو ں اور اس وجہ سے دل میں تنگی اور کھٹک محسوس کرتے ہوں ،ایسے لوگوں کی دلجوئی اور ڈھارس باندھنے کے لئے یہ آیت آئی ہے۔یعنی جو دوسری مرتبہ گناہ میں پڑجانے کے بعددوبارہ توبہ کرنے میں حرج محسوس کرتے ہیں ، کیونکہ خطاکار وگناہ گار کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ جب بھی توبہ کی اور پھر سے گناہ کا ارتکاب کرلیاتو یہ اس کا جھوٹ لکھاجائیگااور وہ مذاق اڑانے والا شمارہوجائیگا،چنانچہ اللہ کی نظر میں گر کر بے اعتبار ہوجائیگا۔پھر اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی ۔چنانچہ یہ چیزیں اسے توبہ کرنے سے روک دیتی ہیں۔ (البقاعی:۱؍۴۲۲) (چنانچہ اللہ نے خوب توبہ کرنے والے کہہ کر اس ناامیدی کا دروازہ بند کیا اور توبہ کا دروازہ کھلا رکھا۔مترجم)
سوال: (ٱلتَّوَّٰبِينَ) کی تعبیر اور صیغہ کیوں استعمال کیا گیا جو تسلسل اور باربار توبہ کرنے کا فائدہ دیتا ہے؟
وَبَشِّرِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٢٢٣
(بشارت دینے کا حکم ہے لیکن)اس چیز کا ذکر نہیں کیا جس کی خوشخبری دی ہے۔تاکہ یہ عموم کا معنی دے اور یہ معنی بتائے کہ دنیا کی زندگی میں ان کے لئے خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی ۔اور ایمان کے نتیجہ میں جو بھی خیر اور بھلائی ملے اور اس کی بدولت جو بھی نقصان اور تکلیف دور ہووہ سب اس بشارت وخوشخبری میں شامل ہیں۔ (السعدی:۱۰۰)
سوال: اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں (مُبَشَّر بِہِ) یعنی جس کی خوشخبری دی گئی ہے ،اس کا ذکر کیوں نہیں کیا؟
وَلَا تَجۡعَلُواْ ٱللَّهَ عُرۡضَةٗ لِّأَيۡمَٰنِكُمۡ
معنی ہے :اللہ کی بہت زیادہ قسمیں مت کھاؤ،کیونکہ یہ نام مبارک دلوں کے ڈرنے اور اللہ کی تعظیم کرنے کا بہتر ذریعہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَ احْفَظُوْۤا اَيْمَانَكُمْ) (سورۂ مائدہ :۸۹) (اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو)۔نیز اللہ تعالیٰ نے کثرت سے قسم کھانے والے کی مذمت بیان کی ہے چنانچہ فرمایا: (وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ) (سورۂ قلم:۱۰) (آپ اس شخص کی بات نہ مانیں جو بہت قسمیں کھانے والا،بے عزت ہے)۔ (القرطبی:۴؍۱۳)
سوال: قسم کم سے کم کھانے کا کیافائدہ ہے؟
وَلَا تَجۡعَلُواْ ٱللَّهَ عُرۡضَةٗ لِّأَيۡمَٰنِكُمۡ أَن تَبَرُّواْ وَتَتَّقُواْ وَتُصۡلِحُواْ بَيۡنَ ٱلنَّاسِۚ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ٢٢٤
اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اس بات سے منع کیا ہے کہ: وہ اللہ کی قسم کو اس کے احکامات پر عمل کرنے میں رکاوٹ بنائیں تاکہ وہ اپنی کھائی ہوئی قسموں کی آڑ میں اس کی اطاعت وفرمانبرداری سے رک نہ جائیں۔ (ابن تیمیہ:۱؍۵۱۷)
سوال: قسمیں کھانا کب مذموم ہوتا ہے؟
وَلَا تَجۡعَلُواْ ٱللَّهَ عُرۡضَةٗ لِّأَيۡمَٰنِكُمۡ أَن تَبَرُّواْ وَتَتَّقُواْ وَتُصۡلِحُواْ بَيۡنَ ٱلنَّاسِۚ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ٢٢٤
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دومعزز ناموں کے ساتھ آیت کو ختم فرمایا: (وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ) اور اللہ تمام آوازوں کوسننے والا ہے۔(عَلِيمٌ) جاننے والا ہے۔لوگوں کے مقاصد اور نیتوں سے بھی بخوبی واقف ہے ۔
اور اسی سننے اور جاننے میں قسم کھانے والوں کی بات کا سننا بھی شامل ہے اور ان کے مقصد کا جاننا بھی کہ ان کا مقصد اچھا ہے یابرا؟ اس بیان کے ضمن میں یہ تنبیہ بھی شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سزا سے ڈرتے رہو اور یہ جان لو کہ تمہارے اعمال وارادوں کا پورا پورا علم اس کے پاس محفوظ ہے۔ (السعدی:۱۰۰۔۱۰۱)
سوال:آیت کے خاتمہ نے قسم کی شان اور اہمیت بیان کردی۔اس کی وضاحت کیجئے.