قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮣ

ﱊ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ
ﭜ ٧٥ ٧٥
ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ٧٦ ٧٦
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ٧٧ ٧٧
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ
ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ٧٨ ٧٨
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ٧٩ ٧٩
ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ٨٠ ٨٠
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ٨١ ٨١
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ٨٢ ٨٢
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ٨٣ ٨٣
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ٨٤ ٨٤
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ٨٥ ٨٥
ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ٨٦ ٨٦
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ٨٧ ٨٧ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ
ﯾ ﯿ ٨٨ ٨٨
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ٨٩ ٨٩
347
سورۃ المؤمنون آیات 0 - 75

وَلَوۡ رَحِمۡنَٰهُمۡ وَكَشَفۡنَا مَا بِهِم مِّن ضُرّٖ لَّلَجُّواْ فِي طُغۡيَٰنِهِمۡ يَعۡمَهُونَ ٧٥

اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ اگر ہم ان لوگوں پر رحم کردیتے جن کا آخرت پر ایمان نہیں ہے اور ان تمام مصیبتوں کو ہٹادیتے جو انہیں لاحق تھیں جیسے سوکھا وقحط، بھکمری اور کمزوری وغیرہ۔(للجوا في طغيانهم)یعنی تو ایسی صورت میں وہ پھر بھی اپنی سرکشی میں اور اپنے رب کے خلاف جسارت میں جمے رہتے۔ (يعمهون) یعنی وہ بار بار کرتے ہیں۔ (الطبری: ۱۹؍۵۹)
سوال:دنیا میں کافروں پر آئے عذاب اور تکلیف کو ہٹایا کیوں نہیں جاتا؟آیت کی روشنی میں اسے واضح کیجئے.

سورۃ المؤمنون آیات 0 - 76

وَلَقَدۡ أَخَذۡنَٰهُم بِٱلۡعَذَابِ فَمَا ٱسۡتَكَانُواْ لِرَبِّهِمۡ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ ٧٦

اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے:یقینا ہم نے ان مشرکوں کو اپنے عذاب میں پکڑلیا ہم نے اپنا عذاب اور ناراضگی ان پر نازل کردی،ان کی زندگی تنگ کردی،ان کے ملکوں میں قحط نازل کردیا اور ان کے سرداروں کو تلواروں سے قتل کروادیا۔( فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ) یعنی: پھر بھی انہوں نے اپنے رب کے سامنے سرنہیں جھکایا کہ حکم‌ ومنع میں اس کی بات مان لیتے اور اس کی اطاعت وفرمانبرداری کی جانب لوٹ جاتے(فما استكانوا لربهم) يقول: فما خضعوا لربهم؛ فينقادوا لأمره ونهيه، وينيبوا إلى طاعته، (وما يتضرعون) یعنی اس کے سامنے عاجزی اور انکساری ظاہر کرتے۔ (الطبری: ۱۹؍۶۰)
سوال:اللہ تعالیٰ کبھی اصلاح کی خاطر بھی گناہگار بندوں پر عذاب نازل کرتا ہے۔یہ کیسے ہوتاہے؟

سورۃ المؤمنون آیات 76 - 77

وَلَقَدۡ أَخَذۡنَٰهُم بِٱلۡعَذَابِ فَمَا ٱسۡتَكَانُواْ لِرَبِّهِمۡ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ ٧٦ حَتَّىٰٓ إِذَا فَتَحۡنَا عَلَيۡهِم بَابٗا ذَا عَذَابٖ شَدِيدٍ إِذَا هُمۡ فِيهِ مُبۡلِسُونَ ٧٧

(وما يتضرعون)یعنی:وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائے نہ انہوں نے اپنے آپ کو اس کا محتاج سمجھا بلکہ عذاب آیا اور گزرگیا اور وہ اپنی گمراہی اور کفر پراس طرح قائم ہیں گویاان پر کوئی مصیبت آئی ہی نہیں تھی۔ مگر ان کے پیچھے ایک ایسا عذاب ہے جسے روکا نہیں جاسکتا جیسا کہ آگے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (حتى إذا فتحنا عليهم بابا ذا عذاب شديد)یعنی: یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیا ۔ (السعدی: ۵۵۶)
سوال:عذاب کی دھمکی اور اس کی تنبیہ کے بعد بھی غفلت میں پڑے رہنا اس کے بعد عذاب کا سبب ہوتا ہے۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ المؤمنون آیات 0 - 78

وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنشَأَ لَكُمُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَٱلۡأَفۡـِٔدَةَۚ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ ٧٨

اللہ تعالیٰ نے کان،آنکھ اور دلوں کا ذکران کے عظیم فائدوں کی وجہ سے کیا ہے لہذا ان کے پیدا کرنے والے کا شکریہ واجب ہے اور یہ اس کے شکریہ میں سے ہے کہ اس کی توحید بجالائی جائے اور اس کے رسول ﷺ کی پیروی کی جائے۔اس طرح ان چیزوں کے ذکر کرنے میں جہاں ایک طرف نعمتوں کو گن گن کر بتانا ہے وہیں دوسری طرف حجت قائم کرنا ہے۔ (ابن جُزی: ۲؍۷۶)
سوال:اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کے دوسرے اعضاء کو چھوڑکر خاص طور سے انہی تینوں کا ذکر کیوں کیا؟نیز ان کے ذکر سے کیا فائدہ ہے؟

سورۃ المؤمنون آیات 84 - 87

قُل لِّمَنِ ٱلۡأَرۡضُ وَمَن فِيهَآ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٨٤ سَيَقُولُونَ لِلَّهِۚ قُلۡ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٨٥ قُلۡ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ ٱلسَّبۡعِ وَرَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡعَظِيمِ ٨٦ سَيَقُولُونَ لِلَّهِۚ قُلۡ أَفَلَا تَتَّقُونَ ٨٧

یہ آیتیں اس بات پر دلالت کررہی ہیں کہ کافروں سے بحث ومباحثہ اور ان پر حجت قائم کرنا جائز ہے۔ (القرطبی: ۱۵؍۸۰)
سوال:اگر آدمی کے پاس علم ہے تو کیا اس کے لئے جائز ہے کہ ہدایت کی خاطر کافروں سے بحث ومباحثہ کرے؟

سورۃ المؤمنون آیات 0 - 88

وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيۡهِ

(وهو يجير)وہ جسے چاہتا ہے پناہ دیتا ہے یعنی جسے چاہتا ہے اس کی حفاظت کرتاہے پس کسی کے پاس طاقت نہیں کہ اسے تکلیف دے سکے۔(ولا يجار عليه) اگر اللہ تعالیٰ جسے تکلیف دینا چاہے تو کسی کے اندر طاقت نہیں کہ اسے بچاسکے اور اس کی حفاظت کرسکے۔ (ایسرالتفاسیر: ۳؍۵۳۵)
سوال:آیت کے اندر مومن کے لئے اطمینان اور تسلی ہے۔ اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ المؤمنون آیات 0 - 88

وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيۡهِ

یعنی: حفاظت وہی کرسکتا ہے اس کے خلاف کوئی حفاظت نہیں کرسکتا۔اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ جسے چاہے امان دے سکتا ہے اوروہ جسے خوف میں ڈال دے اسے کوئی امان نہیں دے سکتا۔ یعنی اللہ جسے ہلاک کرنا چاہے اور خوف میں ڈالنا چاہے اسے کوئی نہیں روک سکتا اور جس کی مدد کرنا اور امان دینا چاہے تو اسے بھی کوئی نہیں روک سکتا۔(القرطبی: ۱۵؍۷۹)
سوال:اللہ تعالیٰ کے فرمان: (وهو يجير ولا يجار عليه)کا مطلب جاننے کے بعد آپ اس سے کیسے فائدہ اٹھائیں گے؟