قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے




٧٣ ٧٣

٧٤ ٧٤
ﭿ
٧٥ ٧٥

٧٦ ٧٦


٧٧ ٧٧





٧٨ ٧٨
Surah Header

341
سورۃ الحج آیات 0 - 74

مَا قَدَرُواْ ٱللَّهَ حَقَّ قَدۡرِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ٧٤

اللہ تعالیٰ اپنے اس فرمان:(ما قدروا الله حق قدره) میں بتارہا ہے کہ جنہوں نے عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو شریک کرلیا ہے انہوں نے اللہ کی ویسی بڑائی نہیں کی جیسااس کا حق تھاکیونکہ انہوں نے شرک کرکے اپنی عبادت کو خالص نہیں رکھا اور جس طرح اللہ کو پہچاننے کا حق تھا اس طرح اسے نہیں پہچانا۔ یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی کسی کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی کرے تو کہتے ہیں:تم نے فلاں کی قدر نہیں پہچانی۔اور اس سے وہ تعظیم اور بڑائی مراد لیتے ہیں۔ (الطبری: ۱۸؍۶۸۶)
سوال:جو قبروں کا طواف کرے یا قبروں پر جانور ذبح کرے یاان کی طرف رخ کرکے نماز پڑھےاس نے اللہ کی ویسی قدر نہیں کی جیسی کرنی چاہئے تھی۔ آیت سے اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الحج آیات 0 - 75

ٱللَّهُ يَصۡطَفِي مِنَ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ رُسُلٗا وَمِنَ ٱلنَّاسِۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٞ ٧٥

چنانچہ اللہ نے فرشتوں میں سے جبرئیل علیہ السلام کو اور انسانوں میں سے محمد ﷺ کو منتخب فرمالیا۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۴۴۴)
سوال:آیت کریمہ کی روشنی میں نبی ﷺ کی فضیلت بیان کیجئے.

سورۃ الحج آیات 0 - 77

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱرۡكَعُواْ وَٱسۡجُدُواْۤ وَٱعۡبُدُواْ رَبَّكُمۡ وَٱفۡعَلُواْ ٱلۡخَيۡرَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ۩ ٧٧

مشرکین کے خلاف تمام حجتوں کے پورا ہونے،انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنے اور ان کے برے اعمال کی مذمت سے فارغ ہونے کے بعد سورت کا خاتمہ مومنین سے خطاب کے ذریعہ کیا گیا ایسی باتوں سے جن سے اعمال کی اصلاح ہو اور ان کی شان وفضیلت کا پتہ چلے۔سورت میں اس عمدہ ترتیب سے اس بات کی جانب اشارہ بھی ہے کہ پہلے عقیدہ کی اصلاح کی جائے گی پھر اعمال کی۔ (ابن عاشور: ۱۷؍۳4۵)
سوال:عمل کی اصلاح سے پہلے عقیدہ کی اصلاح کی جائیگی۔آیت کریمہ کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الحج آیات 0 - 77

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱرۡكَعُواْ وَٱسۡجُدُواْۤ وَٱعۡبُدُواْ رَبَّكُمۡ وَٱفۡعَلُواْ ٱلۡخَيۡرَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ۩ ٧٧

رکوع وسجود سے نمازیں مراد ہیں۔نماز کے دیگر اعمال کو چھوڑکر انہی دونوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا کیونکہ یہ نماز کے بڑے اہم ارکان میں شمار ہوتے ہیں اس لئے کہ خشوع وخضوع اور انکساری وبندگی کا حقیقی اظہار انہی دونوں سے ہوتا ہے۔ (ابن عاشور: ۱۷؍۳۴۶)
سوال:آیت کریمہ میں نماز کے دیگر اعمال کو چھوڑکر صرف رکوع وسجود کو خاص طور پر کیوں ذکر کیا گیا؟

سورۃ الحج آیات 0 - 77

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱرۡكَعُواْ وَٱسۡجُدُواْۤ وَٱعۡبُدُواْ رَبَّكُمۡ وَٱفۡعَلُواْ ٱلۡخَيۡرَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ۩ ٧٧

(وَاعبُدُوا رَبَّكُم) رکوع وسجود کے ذریعہ نماز کی طرف اشارہ کرنے کے بعد عام عبادات کاحکم دیا گیا ہے البتہ نماز کو پہلے ذکر کردیا گیا ہے کیونکہ یہ بڑی اہم عبادت ہے۔ (ابن جُزی: ۲؍۶۵)
سوال:نماز کو پہلے الگ سے ذکر کرنے کی کیا مناسبت ہے حالانکہ تمام عبادتوں میں وہ بھی شامل ہے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 78

وَجَٰهِدُواْ فِي ٱللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِۦۚ

“جہاد”کہتے ہیں مقصود ومطلوب کو حاصل کرنے کی پوری کوشش کرنا۔ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں کما حقہ جہاد کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دین پوری طرح سے نافذ کیا جائے،مخلوق کو ہر طریقہ سے اللہ تعالیٰ کے راستہ کی دعوت دی جائے اور اس مقصد کے لئے جس طریقہ او ر ذریعہ کی بھی ضرورت ہو اسے اختیار کیاجائے،جیسے خیر خواہی،تعلیم،جنگ وجدال،تادیبی کاروائی،زجر وتوبیخ اور وعظ ونصیحت وغیرہ۔ (السعدی؍۵۴۷)
سوال:کیا جہاد صرف دشمنوں کے خلاف اسلحہ کے استعمال پر منحصر ہے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 78

هُوَ ٱجۡتَبَىٰكُمۡ وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِي ٱلدِّينِ مِنۡ حَرَجٖۚ

اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ اس نے دین کے تعلق سے ہم پر کوئی تنگی نہیں کی ہے اور اس نے اس بات پر بڑی تاکیدفرمائی ہے چنانچہ اگر کسی کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ نے دین میں ذرہ برابر بھی تنگی ڈالی ہے تو گویا اس نے اللہ اوررسول ﷺ کوجھٹلادیا۔اب ایسی صورت میں اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ کے حکم کے اندر بگاڑاور نقصان ہوسکتا ہے،یایہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس میں کوئی نفع ہونہ ہمارے لئے کوئی مصلحت!؟ (ابن تیمیہ: ۴؍۴4۸)
سوال:اللہ تعالیٰ کے تمام احکام میں نہ کوئی تنگی ہے نہ کوئی نقصان۔ آیت کریمہ کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.