قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


١٦ ١٦


١٧ ١٧

ﭿ


١٨ ١٨


١٩ ١٩

٢٠ ٢٠
٢١ ٢١

٢٢ ٢٢


ﯿ ٢٣ ٢٣
334
سورۃ الحج آیات 0 - 18

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَسۡجُدُۤ لَهُۥۤ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَرُ وَٱلنُّجُومُ

(والشمس والقمر والنجوم) سورج،چاند اور ستاروں کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا کیونکہ اللہ کو چھوڑکران کی عبادت کی گئی ہے اسی لئے اللہ نے واضح کردیا کہ یہ بھی مخلوق ہیں جو اپنے خالق کے لئے سجدہ کرتے ہیں اور وہ خود اپنے رب کی نگرانی میں اور اس کے قبضہ میں ہیں۔ (ابن کثیر: ۳؍۲۰۵)
سوال:کائنات میں اور بھی نشانیاں ہیں مگر یہاں صرف مذکورہ تین نشانیوں کا ذکر کیوں کیا گیا؟

سورۃ الحج آیات 0 - 18

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَسۡجُدُۤ لَهُۥۤ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَرُ وَٱلنُّجُومُ وَٱلۡجِبَالُ وَٱلشَّجَرُ وَٱلدَّوَآبُّ

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ زمین وآسمان کے اندر پائی جانے والی جمادات میں سے ہر چیز اس کی فرمانبردار اور اس سے ڈرنے والی ہے او ر اس کی تسبیح اور پاکی بیان کرتی ہے۔ (البغوی: ۳؍۶۰۲)
سوال:کیا ساری مخلوقات اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتی ہیں؟اور اس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟

سورۃ الحج آیات 0 - 18

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَسۡجُدُۤ لَهُۥۤ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَرُ وَٱلنُّجُومُ وَٱلۡجِبَالُ وَٱلشَّجَرُ وَٱلدَّوَآبُّ وَكَثِيرٞ مِّنَ ٱلنَّاسِۖ

کائنات کی ہر چیز اللہ کی عظمت کے آگے چاروناچار سجدہ کرتی ہی ہے اور ہر چیز ویسے ہی سجدہ کرتی ہے جیسی اسے خصوصی ہدایت ہے۔ (ابن کثیر: ۳؍۲۰۵)
سوال:ساری مخلوقات اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیسے کرتی ہیں؟

سورۃ الحج آیات 0 - 18

وَمَن يُهِنِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن مُّكۡرِمٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ۩ ١٨

ارشاد باری تعالیٰ ہے:اپنی مخلوق میں سے اللہ جسے ذلیل کرکے بدبخت بنادے تو اسے کوئی عزت اور سعادت دینے والا نہیں کہ وہ خوش بختی کی زندگی گزار سکے۔کیونکہ تمام چیزیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔وہی جسے چاہتا ہے اپنی فرمانبرداری کی توفیق بخشتاہے،جسے چاہتا ہے ذلیل کردیتا ہے،جسے چاہتا ہے بدبخت بنادیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نیک بخت بنادیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: (إن الله يفعل ما يشاء) کا مفہوم یہ ہے کہ اپنی مخلوق میں سے اللہ جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے اور جسے چاہتاہے عزت دیتا ہے کیونکہ ساری مخلوق اسی کی ہے اور ہر فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ (الطبری: ۱۸؍۵۸۷)
سوال:حقیقی عزت اور ذلت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہی کیوں ہے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 19

فَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٞ مِّن نَّارٖ يُصَبُّ مِن فَوۡقِ رُءُوسِهِمُ ٱلۡحَمِيمُ ١٩

سعید بن جُبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ پگھلے ہوئے تانبے کے لباس ہوں گے اور گرم کرنے پر تانبہ سے زیادہ کوئی چیز گرم نہیں ہوتی۔اور آگ کو کپڑے کا نام دیا گیا کیونکہ آگ ان کو اسی طرح ڈھانپے گی جس طرح کپڑے انسان کو ڈھانپے رکھتے ہیں۔اور بعض نے کہا: جہنمیوں کو آگ کے ٹکڑوں کا لباس پہنایا جائیگا۔ (القرطبی: ۵۱؍۲۶۴)
سوال:اللہ کی پناہ!آگ جہنمیوں کالباس کیسے بنے گی؟

سورۃ الحج آیات 0 - 22

كُلَّمَآ أَرَادُوٓاْ أَن يَخۡرُجُواْ مِنۡهَا مِنۡ غَمٍّ أُعِيدُواْ فِيهَا وَذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡحَرِيقِ ٢٢

( وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ ) اور جلتی ہوئی آگ کا عذاب چکھو۔ مفہوم یہ ہے کہ انہیں قول وفعل ہر طرح سے عذاب دے کر رسوا کیا جائیگا۔ (ابن کثیر: ۳؍۲۰۷)
سوال:جہنمیوں سے عذاب دیتے وقت کیوں کہاجائیگا ”جلتی ہوئی آگ کا عذاب چکھو“؟

سورۃ الحج آیات 0 - 23

وَلِبَاسُهُمۡ فِيهَا حَرِيرٞ ٢٣

(ولباسهم فيها حرير) اور جنت میں ان کا لباس ریشم کا ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کے لباس کے مقابلہ میں ذکر کیا ہے۔ (ابن کثیر: ۳؍۲۰۷)
سوال:یہاں جنتیوں کے لباس کے بارے میں کیوں بیان کیا گیا؟