قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٧٣ ٧٣


٧٤ ٧٤

٧٥ ٧٥
ﭿ
٧٦ ٧٦


٧٧ ٧٧

٧٨ ٧٨


٧٩ ٧٩


٨٠ ٨٠

٨١ ٨١
328
سورۃ الأنبياء آیات 0 - 73

وَجَعَلۡنَٰهُمۡ أَئِمَّةٗ يَهۡدُونَ بِأَمۡرِنَا

اللہ کی یہ بہت بڑی نعمت ہے کہ کوئی بندہ رہنما ہوجائے جو لوگوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنے اور لوگ اس کی پیروی کریں۔ (السعدی؍۵۲۷)
سوال: اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی ذریت کو امام بناکر ان پر احسان کیا۔اس سے کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟ نیز وہ کون سی نعمت ہے جس کا احساس ایک حافظ ِقرآن اور طالب علم اس آیت کو پڑھ کر کرتا ہے؟

سورۃ الأنبياء آیات 0 - 73

وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ ٱلۡخَيۡرَٰتِ وَإِقَامَ ٱلصَّلَوٰةِ وَإِيتَآءَ ٱلزَّكَوٰةِۖ

(وأوحينا إليهم فعل الخيرات)اور ہم نے انہیں نیک کام کرنے کی وحی کی۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔(وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة) اس جملے میں عام پر خاص کو عطف کیا گیا ہے۔ (یعنی پہلے عام نیکیوں کا ذکر کیا گیا پھر ان دو نیکیوں کابطور خاص ذکر کیا گیا۔)کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پرفضیلت حاصل ہے۔اور اس لئے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کوبھرپور طریقہ سے ادا کیا اس نے اپنے دین کو قائم کرلیا۔ اور جس نے ان دونوں عبادات کو ضائع کردیا اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے كا زیادہ اندیشہ ہے۔ علاوہ ازیں اعمال جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں ان میں سب سے افضل نماز ہے اور جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے ان اعمال میں سب سے افضل عمل زکاۃ ہے۔ (السعدی؍۲۵۷)
سوال: یہاں نماز اور زکاۃ کو خصوصی طور پر کیوں ذکرکیا گیا جبکہ دونوں عمومی نیکیوں میں شامل ہیں؟

سورۃ الأنبياء آیات 78 - 79

وَدَاوُۥدَ وَسُلَيۡمَٰنَ إِذۡ يَحۡكُمَانِ فِي ٱلۡحَرۡثِ إِذۡ نَفَشَتۡ فِيهِ غَنَمُ ٱلۡقَوۡمِ وَكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شَٰهِدِينَ ٧٨ فَفَهَّمۡنَٰهَا سُلَيۡمَٰنَۚ وَكُلًّا ءَاتَيۡنَا حُكۡمٗا وَعِلۡمٗاۚ

(فَفَهمناها سُليمانَ)یعنی ہم نے سلیمان علیہ السلام کو یہ معاملہ اچھی طرح سمجھادیا۔اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ داود علیہ السلام کو کسی دوسرے قضیہ کا فہم عطا نہیں کیا گیا تھا۔اس لئے اس کا خاص طور سے ذکر کیا اور اس کی دلیل میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:(وَكُلًّا)یعنی داود اور سلیمان علیہماالسلام دونوں میں سے ہر ایک کو(آتينا حكمًا وعلمًا)ہم نے حکم اور علم دیا۔ یعنی فیصلے کرنے کی صلاحیتوں اور علم سے ہم نے دونوں کو نوازا۔
یہ واقعہ دلالت کرتا ہے کہ حاکم جب کوئی فیصلہ کرتاہے تو اس کا فیصلہ کبھی حق کے موافق ہوتا ہے اور کبھی اس میں اس سے خطابھی ہوتی ہے۔ چنانچہ اگر فیصلہ میں اجتہاد کے باوجود اس سے خطا ہوجائے تو وہ ملامت کا مستحق نہیں ہے۔(السعدی؍۵۲۸)
سوال: کوئی حاکم،قاضی،معلم یا والدغلطی کرنے پر معذور کب سمجھا جائیگا؟

سورۃ الأنبياء آیات 78 - 79

وَدَاوُۥدَ وَسُلَيۡمَٰنَ إِذۡ يَحۡكُمَانِ فِي ٱلۡحَرۡثِ إِذۡ نَفَشَتۡ فِيهِ غَنَمُ ٱلۡقَوۡمِ وَكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شَٰهِدِينَ ٧٨ فَفَهَّمۡنَٰهَا سُلَيۡمَٰنَۚ وَكُلًّا ءَاتَيۡنَا حُكۡمٗا وَعِلۡمٗاۚ

حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر یہ آیت نہ ہوتی تو آپ قاضیوں کو ہلاک ہوتا ہوا دیکھتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کے صحیح فیصلہ پر ان کی تعریف کی اور داود علیہ السلام کے اجتہاد کرنے کی وجہ سے انہیں معذور قرار دیا۔ (القرطبی: ۱۴؍۲۳۷)
سوال: اس آیت سے عالموں،قاضیوں (علماء وقضاۃ)پر اللہ کی رحمت کا پتہ چلتا ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الأنبياء آیات 0 - 79

وَسَخَّرۡنَا مَعَ دَاوُۥدَ ٱلۡجِبَالَ يُسَبِّحۡنَ وَٱلطَّيۡرَۚ

اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کے ساتھ ایسا اس لئے کیا کیونکہ وہ سب سے زیادہ عبادت گزار اور سب سے زیادہ اللہ کا ذکر اوراس کی تسبیح کرنے والے تھے۔
(السعدی؍۵۲۸)
سوال: اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کے ساتھ یہ خصوصیت کیوں برتی کہ پہاڑ اور پرندے آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے تھے؟

سورۃ الأنبياء آیات 0 - 79

وَسَخَّرۡنَا مَعَ دَاوُۥدَ ٱلۡجِبَالَ يُسَبِّحۡنَ وَٱلطَّيۡرَۚ وَكُنَّا فَٰعِلِينَ ٧٩

ظاہر میں یہی لگ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ کلام (وَكُنا فَاعِلين)اس کے پہلے کلام (وَسَخرنا مَعَ دَاوودَ الجِبالَ يُسَبِّحنَ وَالطّيرَ)کی تاکید ہے اور اس تاکید کی وجہ یہ ہے کہ پہاڑوں کا مسخر کرنا اور ان کا تسبیح بیان کرنا ایک تعجب خیز اورایسی چیز ہے جو عام حالات اور نظام میں ممکن نہیں ہوتی جس سے اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ جہالت میں مبتلا کافر اسے جھٹلادیں۔ (شنقیطی: ۴؍۲۳۲)
سوال: (وكنا فاعلين)کے جملہ سے آیت کو ختم کرنے کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ الأنبياء آیات 0 - 80

وَعَلَّمۡنَٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوسٖ لَّكُمۡ لِتُحۡصِنَكُم مِّنۢ بَأۡسِكُمۡۖ فَهَلۡ أَنتُمۡ شَٰكِرُونَ ٨٠

بندے کا اپنے رب کا شکر گزار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اللہ کی نعمتوں سے اس کی اطاعت میں مدد لے۔
اور رب کا اپنے بندے کا شکر گزار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے تھوڑے عمل پر زیادہ ثواب عطاکرے۔ (شنقیطی: ۴؍۲۳۴)
سوال: ایک بندہ کو شکر گزار کب کہا جائیگا؟اور اللہ تعالیٰ اپنے بندےکا شکر گزار کیسے ہوتا ہے؟