قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮟ

ﱈ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ٦٥ ٦٥
ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ٦٦ ٦٦
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ٦٧ ٦٧
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ٦٨ ٦٨
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ٦٩ ٦٩
ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ٧٠ ٧٠
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ٧١ ٧١
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ٧٢ ٧٢
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ٧٣ ٧٣

ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ٧٤ ٧٤

ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
ﯷ ﯸ ﯹ ٧٥ ٧٥
ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ٧٦ ٧٦
310
سورۃ مريم آیات 0 - 68

فَوَرَبِّكَ لَنَحۡشُرَنَّهُمۡ وَٱلشَّيَٰطِينَ ثُمَّ لَنُحۡضِرَنَّهُمۡ حَوۡلَ جَهَنَّمَ جِثِيّٗا ٦٨

(الشياطين) کا عطف مشرکین کی ضمیر (هم) پر ہے۔اس کا مقصد انہیں حقیر اور ذلیل بتانا ہے کہ ان کا حشر ایسی مخلوق کے ساتھ ہوگا جو سب سے زیادہ حقیر اور فاسد ہے اور ساتھ ہی اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ یہ شیاطین ہی ہیں جو اُن کی اس گمراہی کا سبب بنے ہیں جس نے انہیں اس حالت میں پہنچایا ہے۔ (ابن عاشور: ۱۶؍۱۴۷)
سوال:آیت کریمہ میں شیاطین کو مشرکین کی ضمیرپر عطف کرنے کا کیا فائدہ ہے؟

سورۃ مريم آیات 0 - 69

ثُمَّ لَنَنزِعَنَّ مِن كُلِّ شِيعَةٍ أَيُّهُمۡ أَشَدُّ عَلَى ٱلرَّحۡمَٰنِ عِتِيّٗا ٦٩

(أيهم أشد على الرحمن عتيا)عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بقول اس میں “عُتو” کا مطلب جرأت وجسارت ہے۔ امام مجاہد کا کہنا ہے کہ اس سے مراد فسق وفجور ہے مراد یہ ہے کہ سرکشی میں ایک سے بڑھ کر ایک ہوں گے۔اور کلبی نے کہا: شروفساد میں ان کا قائد اور سردار مراد ہے یعنی جہنم کے اندر ڈالنے میں سب سے پہلے اسے آگے بڑھایا جائیگاجو سب سے بڑا مجرم اور سب سے سخت کافر ہوگا۔بعض روایتوں کے مطابق انہیں بیڑیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر جہنم کے اردگرد اکٹھاکردیا جائیگا پھر جہنم میں سب سے پہلے اسے ڈالا جائیگا جو سب سے بڑا کافر ہوگا پھر اسے جو کفر میں ا س سے کمتر ہوگا۔ (البغوی: ۳؍۹۹)
سوال: وضاحت کیجئے کہ جو ظلم وزیادتی اور شر وفساد میں دنیا کے اندر سردار ماناجاتا تھا اس کی کیا سزا ہوگی؟

سورۃ مريم آیات 0 - 71

وَإِن مِّنكُمۡ إِلَّا وَارِدُهَاۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتۡمٗا مَّقۡضِيّٗا ٧١

عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ایک بار اپنی اہلیہ کی گود میں سررکھ کر لیٹے ہوئے تھے کہ رونے لگے،یہ دیکھ کر ان کی اہلیہ بھی رونے لگیں تو انہوں نے پوچھا:تم کیوں رونے لگی؟ اہلیہ نے جواب دیا: آپ کو روتا دیکھ کر میں بھی رونے لگی،تب انہوں نے فرمایا:دراصل مجھے یہ آیت (وإن منكم إلا واردها)یاد آگئی تو مجھے رونا آگیا کیونکہ مجھے کیا پتہ کہ میں نجات پاؤں گا یا نہیں؟
ابو میسرہ رحمۃ اللہ علیہ جب رات کو سونے کے لئے بستر پر جاتے تو رونے لگتے اور کہتے:کاش! میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا۔ ان سے پوچھا گیا کہ آخر اس رونے کی کیا وجہ ہے؟تو فرمایا: یہ آیت ہے جس سے یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ وہاں جانا ہوگا لیکن یہ نہیں معلوم کہ نجات بھی ہوگی یا نہیں؟ (ابن کثیر: ۳؍۱۲۹)
سوال: قرآن کے اندر غوروفکر کرنے والا جہنم سے گذرنے سے کیوں ڈرتا ہے؟

سورۃ مريم آیات 0 - 73

وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَيُّ ٱلۡفَرِيقَيۡنِ خَيۡرٞ مَّقَامٗا وَأَحۡسَنُ نَدِيّٗا ٧٣

(خير مقامًا) زیادہ بہتر ہے مقام کے لحاظ سے۔ یعنی دنیا میں مال واولاد کی کثرت اور شہوت انگیز اشیاء کی فراوانی کے اعتبار سے کون اچھے مقام پر ہے؟ یہاں یہ بات واضح ہوگئی کہ دنیاوی بہتری سے اخروی بہتری پر استدلال کرنا سب سے فاسد دلیل ہے اور یہ کافروں کا طریقۂ استدلال ہے۔(السعدی؍۴۹۹)
سوال:بہت سے لوگ دنیاوی نعمتوں کو اپنے لئے محبت ِ الٰہی کی دلیل بناتے ہیں۔اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

سورۃ مريم آیات 0 - 74

وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّن قَرۡنٍ هُمۡ أَحۡسَنُ أَثَٰثٗا وَرِءۡيٗا ٧٤

( أثاثا )سے مراد مال ہے جیسے لباس اور آرائش وزیبائش کی چیزیں ۔جبکہ (رِءيَا) سے منظر مراد ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ تم سے پہلے جن لوگوں کو ہلاک کیا وہ شکل وصورت میں بہت ہی حسین تھے اور وہ آرائش وزیبائش کی چیزوں نیز مال ودولت میں بہت اچھی حالت میں تھے۔ اس وضاحت کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ تمام دنیاوی چیزیں اللہ کے یہاں بے سود ہیں،اس کے نزدیک ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ (ابن تیمیہ:۴؍۲۹۲)
سوال: مال ودولت اور شکل وصورت اللہ کے نزدیک بے سود ہیں۔آیت ِکریمہ کی روشنی میں اسے واضح کیجئے.

سورۃ مريم آیات 0 - 75

قُلۡ مَن كَانَ فِي ٱلضَّلَٰلَةِ فَلۡيَمۡدُدۡ لَهُ ٱلرَّحۡمَٰنُ مَدًّاۚ حَتَّىٰٓ إِذَا رَأَوۡاْ مَا يُوعَدُونَ إِمَّا ٱلۡعَذَابَ وَإِمَّا ٱلسَّاعَةَ فَسَيَعۡلَمُونَ مَنۡ هُوَ شَرّٞ مَّكَانٗا وَأَضۡعَفُ جُندٗا ٧٥

ایک نعمت جو بندے کو اللہ کی رضامندی سے حاصل ہوتی ہے اور ایک وہ نعمت جو ایک کافر کو مہلت اور ڈھیل کے طور پرحاصل ہوتی ہے،دونوں کے درمیان فرق کا معیار یہ ہے کہ صاحب نعمت کی حالت کو ہدایت و ضلالت کی حالت سے موازنہ کیا جائے۔ (یعنی اگر صاحبِ نعمت ہدایت پر ہے تو وہ رضامندی والی نعمت میں ہے، اور اگر صاحبِ نعمت ضلالت پر ہے تو یہ نعمت اللہ کی طرف سے اس کے لئے ڈھیل ہے) (ابن عاشور:۱۶؍۱۵۵)
سوال: وہ شخص جو اللہ کی رضا کے ساتھ نعمت میں ہے اور وہ جو اللہ کی جانب سے مہلت اور ڈھیل کے ساتھ نعمت میں ہےان دونوں کے درمیان ہم کیسے فرق کرسکتے ہیں؟

سورۃ مريم آیات 0 - 76

وَٱلۡبَٰقِيَٰتُ ٱلصَّٰلِحَٰتُ خَيۡرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابٗا وَخَيۡرٞ مَّرَدًّا ٧٦

(والباقيات الصالحات)سے ذکر واذکار اور وہ اعمال صالحہ مراد ہیں جو کرنے والے کے لئے ہمیشہ باقی رہیں۔ (البغوی: ۳؍۱۰۵)
سوال:(الباقيات الصالحات )کیا ہیں؟اور انہیں یہ نام کیوں دیا گیا؟