قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮟ

ﱈ

Surah Header

ﮟ

ﭦﭛﭣﭤ
ﭑ ١ ١ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ٢ ٢ ﭙ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ٣ ٣
ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ
٤ ٤
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ٥ ٥
ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ٦ ٦
ﮆ ﮇ
ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
٧ ٧
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ٨ ٨
ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ٩ ٩
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ١٠ ١٠
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ١١ ١١
305
سورۃ مريم آیات 0 - 2

ذِكۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّكَ عَبۡدَهُۥ زَكَرِيَّآ ٢

اللہ تعالیٰ نے زکریا علیہ السلام کو بندے کی صفت سے متصف کیا، یہ ان کے لئے اعزاز بھی ہےاور خبر بھی کہ آپ اللہ کے خاص اور مقرب بندے ہیں۔ (ابن جُزی: ۲؍۳)
سوال: اللہ تعالیٰ نے زکریا علیہ السلام کو بندہ کی صفت سے کیوں متصف کیا؟

سورۃ مريم آیات 0 - 3

إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥ نِدَآءً خَفِيّٗا ٣

(إذ نادى ربه) جس وقت انہوں نے اپنے رب کو پکارا (نداءً خفيًا)یعنی چپکے چپکے پکاراکیونکہ اللہ تعالیٰ جس طرح بلند آواز سنتا ہے اسی طرح چپکے چپکے اور آہستہ آواز بھی سنتا ہے اور چپکے سے دعا کرنا اخلاص کے زیادہ قریب اور ریا ونمو دسے زیادہ پاک ہے اور اس لئے بھی کہ کہیں اس عمر میں اولاد مانگنے پر لوگ ملامت نہ کریں۔ (ابن جزی: ۲؍۳)
سوال:یہاں زکریا علیہ السلام کی دعا کو “چپکے چپکے” کی صفت سے بیان کرنے میں بہت ہی عمدہ مناسبت ہے جس میں کئی اہم نکات ہیں۔انہیں بیان کیجئے.

سورۃ مريم آیات 0 - 4

قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ ٱلۡعَظۡمُ مِنِّي وَٱشۡتَعَلَ ٱلرَّأۡسُ شَيۡبٗا

زکریا علیہ السلام نے اپنی کمزوری اور عاجزی کو وسیلہ بنایاجو اللہ تک پہنچنے کے لئے محبوب ترین وسیلوں میں سے ہے کیونکہ اس سے ہر طرح کی طاقت او ر قوت سے براء ت کا اظہار ہوتا ہے نیز اللہ تعالیٰ کی طاقت وقوت سے دل کے جڑنے کا پتہ چلتا ہے۔ (السعدی؍۴۸۹(
سوال:زکریا علیہ السلام کے قصہ میں دعا کا وہ مفید اور کارگر وسیلہ کون سا ہے جس کی وضاحت آئی ہے؟

سورۃ مريم آیات 0 - 4

قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ ٱلۡعَظۡمُ مِنِّي وَٱشۡتَعَلَ ٱلرَّأۡسُ شَيۡبٗا وَلَمۡ أَكُنۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِيّٗا ٤

علماء نے کہا ہے کہ آدمی کے لئے یہ مستحب ہے کہ وہ دعا میں اپنے اوپر کی گئی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرے، نیز ان چیزوں کا بھی ذکر کرے جو خشوع وخضوع کے مناسب ہوں کیونکہ (وهن العظم مني)کے اندر خشوع وخضوع کا اظہار ہے اور (ولم أكن بدعائك رب شقيًا) کے اندر ان کی دعاؤں کی قبولیت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے عمومی احسانات کا اظہار ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ میں تجھ سے دعا کرکے کبھی بدبخت نہیں ہوا یعنی جب جب میں نے تجھے پکارا تو نے کبھی مایوس نہیں کیا یعنی اے اللہ! تو نے مجھے پہلے ہی سے دعا کی قبولیت کا عادی بنادیا ہے۔ (القرطبی: ۱۳؍۴۰۹)
سوال: اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والے اور گڑگڑانے والے کو کیا کرنا چاہئے؟اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ مريم آیات 5 - 6

وَإِنِّي خِفۡتُ ٱلۡمَوَٰلِيَ مِن وَرَآءِي وَكَانَتِ ٱمۡرَأَتِي عَاقِرٗا فَهَبۡ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيّٗا ٥ يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنۡ ءَالِ يَعۡقُوبَۖ

دراصل زکریا علیہ السلام کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں ان کی وفات کے بعد ان کے قرابتدار لوگوں کے ساتھ براسلوک نہ کریں اسی لئے انہوں نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے ایک ایسے بچے کی دعا کی جو ان کے بعد نبی بنے تاکہ وہ وحی الٰہی کی روشنی میں اپنی نبوت کے ذریعہ لوگوں پر حکمرانی کرے اور ان کی یہ دعا قبول کرلی گئی۔انہیں اس بات کا ڈر نہیں تھا کہ ان کے قرابتدار ان کے مال کو وراثت میں تقسیم کرلیں گے کیونکہ نبی کا مقام ومرتبہ اس بات سے کہیں بلند ہے کہ اسے اپنے مال ودولت پراس درجہ خوف لاحق ہو۔ (ابن کثیر: ۳؍۱۰۹)
سوال:کیا اللہ کے نبی زکریا علیہ السلام کو اس بات کا خوف تھا کہ ا ن کی وفات کے بعد ان کی دولت ان ورثاء کے درمیان تقسیم ہوجائیگی جو ان کی حقیقی اولاد نہیں ہیں جیسا کہ آج کل دنیا پرست لوگ کرتے ہیں؟ اور کیا اصلا انبیاء کی (مالی) وراثت تقسیم ہوتی ہے؟

سورۃ مريم آیات 0 - 7

يَٰزَكَرِيَّآ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَٰمٍ ٱسۡمُهُۥ يَحۡيَىٰ لَمۡ نَجۡعَل لَّهُۥ مِن قَبۡلُ سَمِيّٗا ٧

آیت کے اندر جس خوشخبری کا ذکر ہے اس میں تین چیزیں شامل ہیں:پہلی چیز آپ کی دعا قبول ہوگئی جو ایک کرامت ہے۔دوسری چیز اولاد کا پانا جو ایک قوت اور سہارا ہے اور تیسری چیز اس بچے کے نام کی انفرادیت اور انوکھا پن ہے۔(القرطبی: ۱۳؍۴۱۷)
سوال: زکریا علیہ السلام کے دعا کرنے اور گڑگڑانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو کن کن خوشخبریوں سے نوازا؟

سورۃ مريم آیات 0 - 8

قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَٰمٞ وَكَانَتِ ٱمۡرَأَتِي عَاقِرٗا وَقَدۡ بَلَغۡتُ مِنَ ٱلۡكِبَرِ عِتِيّٗا ٨

یہ پُر تعجب او ر عقل سے بعید بات ہے کہ زکریا علیہ السلام کے بڑھاپے اور ان کی بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود انہیں اولاد نصیب ہو لیکن چونکہ انہیں یہ علم تھا کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے اسی لئے انہوں نے پہلے اولاد کی دعا مانگی (پھر خوشخبری ملنے پر) انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کیونکہ یہ عادتاً بہت ہی نایاب اور نادر چیز ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس عمر میں انہوں نے اولاد کی دعا مانگی تھی اس وقت اولاد ہونے کی امید تھی لیکن یہ دعا کئی سال بعد اس وقت قبول ہوئی جب وہ بوڑھے ہوچکے تھے۔(ابن جزی: ۲؍۴)
سوال:اللہ تعالیٰ کی طرف سے اولاد کی خوشخبری ملنے پر زکریا علیہ السلام کو کیسے تعجب ہوا حالانکہ اس کی دعا تو آپ نے خود ہی کی تھی؟