قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٩٨ ٩٨

٩٩ ٩٩
١٠٠ ١٠٠
ﭿ
١٠١ ١٠١

١٠٢ ١٠٢

١٠٣ ١٠٣

١٠٤ ١٠٤

١٠٥ ١٠٥

١٠٦ ١٠٦

١٠٧ ١٠٧

١٠٨ ١٠٨

ﯿ ١٠٩ ١٠٩


١١٠ ١١٠
304
سورۃ الكهف آیات 0 - 100

وَعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡكَٰفِرِينَ عَرۡضًا ١٠٠

جہنم ان کے سامنے لاکر انہیں دکھائی جائیگی۔ تاکہ وہ اس میں داخل ہونے سے پہلے ہی اس کے عذاب اور سختیوں کو دیکھ لیں۔تو اس طرح ان کو جہنم میں جانے سے پہلے ہی دکھ اور تکلیف میں مبتلا کردیا جائیگا۔(ابن کثیر: ۳؍۱۰۴)
سوال:قیامت کے دن جہنم میں جانے سے پہلے ہی محشر میں کافروں کو جہنم کیوں دکھائی جائیگی؟

سورۃ الكهف آیات 0 - 101

ٱلَّذِينَ كَانَتۡ أَعۡيُنُهُمۡ فِي غِطَآءٍ عَن ذِكۡرِي وَكَانُواْ لَا يَسۡتَطِيعُونَ سَمۡعًا ١٠١

وہ لوگ اللہ کی ان آیات کو نہیں سن سکتے جو ایمان کا ذریعہ بنتی ہیں اس وجہ سے کہ وہ قرآن اور رسول اللہ ﷺ سے بغض رکھتے ہیں اور معاملہ یہ ہے کہ جو شخص کسی سے نفرت کرتا ہو تو اس کی بات کو توجہ سے نہیں سنتا ہے تو اس طرح جب ان سے علم اور خیر کے راستے بند ہوگئے تو ان کے کان رہے نہ آنکھیں اور نہ ہی فائدہ پہنچانے والی عقل۔ (السعدی: ۴۸۷)
سوال:وہ کون سا سبب ہے جس نے دین سے نفرت کرنے والوں کو اس قابل نہیں چھوڑا کہ قرآ ن کی آیات کو اس طور سے سن سکیں جس سے فائدہ ہو؟

سورۃ الكهف آیات 0 - 102

أَفَحَسِبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَن يَتَّخِذُواْ عِبَادِي مِن دُونِيٓ أَوۡلِيَآءَۚ إِنَّآ أَعۡتَدۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكَٰفِرِينَ نُزُلٗا ١٠٢

عذاب کو مہمان نوازی کہنا استعارہ ہے جو طنز وتمسخر کے بطور ہے۔(ابن عاشور: ۱۶؍۴۵)
سوال:عذاب کو مہمان نوازی کہنے کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ الكهف آیات 103 - 104

قُلۡ هَلۡ نُنَبِّئُكُم بِٱلۡأَخۡسَرِينَ أَعۡمَٰلًا ١٠٣ ٱلَّذِينَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُمۡ يَحۡسَبُونَ أَنَّهُمۡ يُحۡسِنُونَ صُنۡعًا ١٠٤

اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ کچھ لوگ یہ سمجھ کر کوئی عمل کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور ان کا وہ عمل درست ہے لیکن درحقیقت ان کا عمل ضائع ہوجاتا ہے او ر اس کے ضیاع کی وجہ یا تو عقیدہ کا بگاڑ ہوتی ہے یا دکھاوا۔(القرطبی: ۱۳؍۳۹۲)
سوال:بعض دفعہ بندے کا عمل برباد ہوجاتا ہے اور اسے احساس بھی نہیں ہوتا۔اس کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں؟

سورۃ الكهف آیات 0 - 105

أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ وَلِقَآئِهِۦ فَحَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ فَلَا نُقِيمُ لَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَزۡنٗا ١٠٥

ان کے لئے میزان قائم نہ کرنے کا سبب دراصل ان کے اعمال کا برباد ہوجانا ہے۔اس لئے کہ اعمال برباد ہوجانے کی وجہ سے وہ یوں قلاش ہوگئے کہ ان کے پاس نیک اعمال کے نام پر کچھ بچا ہی نہیں۔(ابن عاشورء:۱۶؍۴۸)
سوال:قیامت کے دن کافروں کے لئے میزان کیوں قائم نہیں کیا جائیگا؟

سورۃ الكهف آیات 0 - 108

لَا يَبۡغُونَ عَنۡهَا حِوَلٗا ١٠٨

جنتی جنت سے کہیں اور جانے کے بارے میں سوچیں گے بھی نہیں کیوں کہ وہ وہاں صرف خوشیاں،اپنی مرضی کی چیزیں،دل کا سرور اور اطمینان وراحت ہی پائیں گے اور جن نعمتوں میں وہ ہوں گے ان سے ہٹ کر کسی اور نعمت کا تصور بھی نہ کریں گے۔ (السعدی: 488)
سوال:جنتی جنت سے کہیں اور جانے کے بارے میں کیوں نہیں سوچیں گے؟

سورۃ الكهف آیات 0 - 110

قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡ يُوحَىٰٓ إِلَيَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۖ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو تواضع سکھائی ہے تاکہ آپ اپنے کو دوسروں سے بڑا نہ سمجھیں چنانچہ حکم دیا کہ آپ اس بات کا اعتراف کریں کہ:میں تمہاری ہی طرح آدمی ہو ں بس مجھ میں اور تم میں فرق یہ ہے کہ اللہ نے مجھ پر وحی نازل کرکے میری تخصیص کی اور اس کے ذریعہ مجھے عزت بخشی ہے۔(البغوی: ۳؍۷۰)
سوال:اس آیت کی روشنی میں تواضع کی اہمیت پر دلالت کرنے والی بات بیان کیجئے.