قرآن
ﮞ
ﱇ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ٥٤ ٥٤ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ٥٥ ٥٥ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ٥٦ ٥٦
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ٥٧ ٥٧ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ٥٨ ٥٨ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ٥٩ ٥٩ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ
ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ٦٠ ٦٠ ﯹ ﯺ ﯻ
ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ٦١ ٦١
وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٖۚ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ أَكۡثَرَ شَيۡءٖ جَدَلٗا ٥٤
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے رات کے وقت انہیں اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو آواز دی اور پوچھا:کیا تم دونوں نماز نہیں پڑھ رہے ہو؟ علی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں جب جگانا چاہتا ہے ہم جاگ جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے جب یہ جواب دیا تو آپﷺ چلے گئے،ہمیں کوئی جواب نہیں دیا،پھر ہم نے سنا کہ آپ اپنی ران پر ہاتھ مارکر یہ آیت پڑھ رہے تھے: (وكان الإنسان أكثر شيء جدلًا). یعنی انسان بڑا جھگڑالو ہے۔ (ابن عاشور: 15؍348)
سوال:اچھی بات کی نصیحت کرنے والے کا حتی الامکان خیال کیا جانا چاہئے۔ اس کی وضاحت کیجئے.
وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ أَكۡثَرَ شَيۡءٖ جَدَلٗا ٥٤
اکثر لوگ حق واضح ہوجانے کے بعد بھی باطل دلائل کے ساتھ حق کے بارے میں جھگڑتے ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وكان الإنسان أكثر شيء جدلًا) یعنی انسان بہت جھگڑالو اور بحثیں کرنے والا ہے۔حالانکہ یہ اس کے لائق ہے نہ یہ قرین ِانصاف ہے۔ اور اس کا اللہ پر ایمان نہ لانے کا سبب یہ نہیں ہے کہ اس کو بیان کرنے اور اس کی حجت وبرہان کو واضح کرنے میں کوئی کمی رہ گئی ہے بلکہ ظلم وسرکشی اس کے اس رویہ کا موجب ہے۔(السعدی: ۴۸۰)
سوال:علماء اور طلبا سے زیادہ بحث کرنے میں کیا کوئی بھلائی ہے؟اور کیا وجہ ہے کہ انسان اہل ِحق سے بہت زیادہ بحث کرتاہے؟
وَمَا نُرۡسِلُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَۚ وَيُجَٰدِلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِٱلۡبَٰطِلِ لِيُدۡحِضُواْ بِهِ ٱلۡحَقَّۖ وَٱتَّخَذُوٓاْ ءَايَٰتِي وَمَآ أُنذِرُواْ هُزُوٗا ٥٦
وہ علمی آیات جن کی معرفت عقل سے ہوجاتی ہے کہ وہ رب کی نشانیاں ہیں۔ان کے درمیان اور ان آیات کے درمیان جو خوفناک چیزوں کے بارے میں خبر دے کر ڈرانے والی ہوتی ہیں جیسے کہ انبیاء علیہم السلام گناہگاروں کو عذاب ِالٰہی کی خبر سناتے ہیں۔ان دونوں میں فرق ہوتاہے چنانچہ اسے خبر اور دھمکی کے ذریعہ ہی جاناجاسکتا ہے۔(ابن تیمیہ: ۴؍۲۶۰)
سوال:عام آیات اور ڈرانے والی آیات کے درمیان کیا فرق ہے؟
وَمَا نُرۡسِلُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَۚ
(مبشرين) یعنی مومنوں کو جنت کی خوشخبری سنانے کے لئے ہی ہم رسولوں کو بھیجتے ہیں(ومنذرين) اور کافروں کو عذاب سے ڈرانے کے لئے۔(القرطبی: ۱۳؍۳۱۱)
سوال:دعوت ِدین کے دواسلوب بتائیں جن کا ذکر آیت میں آیا ہے؟
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ فَأَعۡرَضَ عَنۡهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتۡ يَدَاهُۚ إِنَّا جَعَلۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ أَكِنَّةً أَن يَفۡقَهُوهُ وَفِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٗاۖ وَإِن تَدۡعُهُمۡ إِلَى ٱلۡهُدَىٰ فَلَن يَهۡتَدُوٓاْ إِذًا أَبَدٗا ٥٧
اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لئے دھمکی ہے جو حق کو پہچان لینے کے بعد اسے ترک کردے اور یہ کہ اس کے اورحق کے بیچ رکاوٹ کھڑی کردی جائے اور اس کے بعد اس کے لئے کوئی ایسی چیز نہ رہے جو اس کے حق میں اس سے بڑھ کر ڈرانے والی اور اس غلط روی سے اسے روکنے والی ہو۔ (السعدی: ۴۸۱)
سوال:حق کوجان کر اس سے منہ موڑنے والے اور ایک جاہل کے درمیان بڑا فرق ہے۔آیت کی روشنی میں اسے واضح کریں.
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ فَأَعۡرَضَ عَنۡهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتۡ يَدَاهُۚ
یعنی اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہوسکتا جسے اس کے رب کی آیتوں کے ذریعہ نصیحت کی گئی ہو اور اس نے لاپرواہی سے کام لیا اور اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ (القرطبی: ۱۳؍۳۱2)
سوال:اپنے آپ کے لئے سب سے بڑا ظالم کون ہے؟
وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِفَتَىٰهُ لَآ أَبۡرَحُ حَتَّىٰٓ أَبۡلُغَ مَجۡمَعَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ أَوۡ أَمۡضِيَ حُقُبٗا ٦٠
اس واقعہ سے مستنبط فوائد:
علم میں اضافہ کی خاطر ایک عالم کا سفر کرنا اور اس کے لئے خادم اور دوستوں سے تعاون لینا۔ اہل ِفضل اور اہل ِعلم سے ملاقات کرنا گرچہ اس کے لئے لمبا سفر ہی کیوں نہ کرنا پڑے اور سلف صالحین کا یہی وطیرہ بھی تھا کیونکہ سفر کے ذریعہ ہی سے علم وآگہی کے میدان میں وہ اس بلند مقام تک پہنچے۔علوم وفنون میں انہوں نے گہرائی حاصل کی اور ساتھ ہی اجروثواب کے ساتھ ساتھ نیک نامی کے بھی مستحق ہوئے۔امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے صرف ایک حدیث کی خاطر عبداللہ بن اُنیس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے ایک مہینہ کا سفر کیا۔(القرطبی: ۱۳؍۳۱۸)
سوال:موسیٰ علیہ السلام کے سفر سے ایک طالب علم کیا سبق حاصل کر سکتاہے؟