قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



١٩١ ١٩١

١٩٢ ١٩٢

ﭿ ١٩٣ ١٩٣



١٩٤ ١٩٤

١٩٥ ١٩٥




ﯿ

١٩٦ ١٩٦
30
سورۃ البقرہ آیات 0 - 191

وَٱلۡفِتۡنَةُ أَشَدُّ مِنَ ٱلۡقَتۡلِۚ

یعنی: مومن کا اپنے دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا کیا جانا ،اس کے قتل سے زیادہ سخت ہے۔
اور ایک قول یہ ہے کہ کافروں کا کفر کرنا زیادہ سخت اور برا ہے بہ نسبت اس کے کہ مومنین انہیں میدان جہاد میں قتل کردیں۔ (ابن جزی:۱؍۱۰۰)
سوال:اس آیت سے اس بات پر کیسے دلیل پکڑی جاتی ہے کہ دین کی حفاظت شریعت کا سب سے اہم مقصودہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 191

وَٱلۡفِتۡنَةُ أَشَدُّ مِنَ ٱلۡقَتۡلِۚ

چونکہ جہاد میں لوگوں کی جان جاتی ہے اور قتل وخون ہوتا ہے ،اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کفر و شرک میں ملوث ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں،تو یہ چیزیں قتل وخون کے مقابلہ میں کہیں زیادہ بھاری،سخت ،عظیم اور بڑی ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَٱلۡفِتۡنَةُ أَشَدُّ مِنَ ٱلۡقَتۡلِۚ)۔ (ابن کثیر:۱؍۲۱۵۔۲۱۶)
سوال: آیت میں‘‘ فتنہ’’ اور‘‘ قتل’’ سے کیا مراد ہے؟ اور دونوں میں سے سخت تر کون ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 193

وَقَٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةٞ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ لِلَّهِۖ

اللہ تعالیٰ نے جہاد کا مقصد واضح کردیا کہ اس سے کافروں کا خون بہانا اور ان کا مال ہڑپنا مقصد نہیں ہے بلکہ مقصد صرف یہ ہے کہ سارا دین اللہ کے لئے ہوجائے اور اللہ کا دین تمام ادیان پر غالب آجائے ۔نیز شرک اور اس دین کی مخالفت کرنے والی دیگر چیزوں پر روک لگائی جائے۔ (السعدی:۸۹)
سوال: آیت نے کافروں سے جنگ کا حقیقی مقصد بتایا ہے اور اس کے بارے میں بعض لوگوں کی غلط فہمی اور بدگمانی دور کی ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 194

فَمَنِ ٱعۡتَدَىٰ عَلَيۡكُمۡ فَٱعۡتَدُواْ عَلَيۡهِ بِمِثۡلِ مَا ٱعۡتَدَىٰ عَلَيۡكُمۡۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ

جب لوگوں کو(اپنے اوپر کئے گئے ظلم وزیادتی کے بدلہ میں)سزا دینے کی رخصت واجازت دی جاتی ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اپنی تسکین اور اطمینان کی خاطر سزا دینے میں حد پر قائم نہیں رہتے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کی پابندی کا حکم دیا ۔تاکہ آدمی اللہ کی حدود پر قائم رہے اور ان سے تجاوز نہ کرے۔ (السعدی:۹۰)
سوال:زیادتی کا بدلہ لیتے وقت اللہ تعالیٰ نے تقویٰ پر قائم رہنے کا حکم کیوں دیا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 194

وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِينَ ١٩٤

جب تقویٰ میں انسان اپنے نفس کے خواہشات و حظوظ سے دور ہوجاتا ہے، اسی لئے اللہ نے انہیں بتادیا کہ اگر وہ تقویٰ پر باقی رہتے ہیں تو اللہ ان کے نفس کے بدلہ ان کے ساتھ ہوگا، ان کی مدد کے لئے کافی ہوگا اور تقویٰ ان کی پہچان بن جائیگی ،اسی لئے اللہ نے انہیں اپنی صحبت و معیت کی اطلاع دی ہے۔(البقاعی:۱؍۳۶۷)
سوال:متقیوں کو اللہ کا ساتھ نصیب ہوتا ہے آیت میں اس کا کیا سبب بتایا گیا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 195

وَأَنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا تُلۡقُواْ بِأَيۡدِيكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ

ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:“یہ آیت ہم انصار کی جماعت کے بار ے میں نازل ہوئی۔واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غلبہ اور عزت عطافرمادی،اپنے رسول ﷺ کی مددفرمائی،تو ہم (انصار)نے آپس میں یہ بات چیت کی اور کہا کہ:ہم نے اپنے اہل وعیال اور مال واسباب کو چھوڑے رکھا اور ان سے دوراور الگ ہوگئے تھے۔یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا اور اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو فتح ونصرت سے نواز دیا ۔تو (بہتر ہوگا) اگر ہم اپنے بال بچوں اور مال (وکاروبار)کی طرف لوٹ جاتے اوراس جانب توجہ دیتے تو جو نقصان ہوا ہے ،ہم اسے ٹھیک کرلیتے ۔اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (وَأَنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا تُلۡقُواْ بِأَيۡدِيكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ) (اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو)۔ لہٰذا ہلاکت کا معنی ہے اہل وعیال اور مال واسباب میں مشغول رہنااورجہاد کوچھوڑدینا۔ (البغوی:۱؍۱۷۱)
سوال:(ٱلتَّهۡلُكَةِ) یعنی ہلاکت سے کیا مرا د ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 195

وَأَنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا تُلۡقُواْ بِأَيۡدِيكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ وَأَحۡسِنُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١٩٥

جب مال خرچ کرنا جہاد کوسہارا دینے والی چیزوں میں سے ایک بڑا سہاراہے، اور اسلام کے ابتدائی دنوں میں حال یہ تھا کہ گزر بسر تنگ تھی اور مال بہت کم تھا۔یہ صورتِ حال ہر کسی سے تقاضہ کرتی تھی کہ جو کچھ اس کے قبضہ (ہاتھ ) میں ہے، اسے مضبوطی سے پکڑ کر رکھے ۔اس خیال سے کہ اسے تھامے رہنے میں ہی عافیت ہے اور خرچ کردینے میں ہلاکت ہے ۔تو اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا کہ اس بارے میں درحقیقت معاملہ ویسا نہیں ہے جیسا کہ شیطان کا فریب اور بہکاوا ہوتا ہے ۔ (اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ) (سورۂ بقرہ:۲۶۸) (شیطان تمہیں فقیری سے دھمکاتا ہے)۔ (البقاعی:۱؍۳۶۷)
سوال: جب جہاد کے لئے دعوت دی جائے تو کس چیز کی بدولت نجات وعافیت ملتی ہے اور کس چیز سے ہلاکت؟