قرآن
ﮞ
ﱇ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ٤٦ ٤٦ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ٤٧ ٤٧ ﭬ
ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ٤٨ ٤٨ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ٤٩ ٤٩ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ٥٠ ٥٠ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
٥١ ٥١ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ٥٢ ٥٢ ﯷ ﯸ
ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ٥٣ ٥٣
ٱلۡمَالُ وَٱلۡبَنُونَ زِينَةُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ
یہی مال واولاد تھے جن پر عتبہ اور اس کے مالدار ساتھی فخر کرتے تھے (زينة الحياة الدنيا) دنیوی زیب وزینت توشہ آخرت کا حصہ نہیں ہے۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دولت اور بیٹے دنیا کی کھیتی ہیں او ر اچھے اعمال آخرت کی کھیتی ہیں اور کبھی کبھی اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے دونوں جمع کردیتا ہے۔(البغوی: ۳؍۳۴)
سوال:دنیا کی کھیتی اور آخرت کی کھیتی کیا ہے؟
وَٱلۡبَٰقِيَٰتُ ٱلصَّٰلِحَٰتُ خَيۡرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابٗا وَخَيۡرٌ أَمَلٗا ٤٦
انسان کے لئے باقی رہنے والی،فائدہ مند اور خوش کرنے والی باقیات صالحات (ہمیشہ باقی رہنے والی نیکیاں) ہیں اور یہ واجب اور مستحب تمام نیکیوں کو شامل ہیں مثلاً حقوق اللہ، حقوق العباد،نماز،زکاۃ،صدقہ،حج،عمرہ،تسبیح،تحمید،تہلیل،قرأت ِقرآن،طلب ِ علم،نیکی کا حکم دینا،برائی سے روکنا،صلہ رحمی،والدین کے ساتھ حسن سلوک، بیویوں کے حقوق پورا کرنا،غلامو ں اور جانوروں کے حقوق کا احترام کرنا اور مخلوق کے ساتھ ہر لحاظ سے اچھا سلوک کرنا۔یہ تمام باقی رہنے والی نیکیاں ہیں۔ (السعدی: ۴۷۹)
سوال:بعض باقی رہنے والی نیکیاں ذکر کیجئے.
وَتَرَى ٱلۡأَرۡضَ بَارِزَةٗ
یعنی زمین بالکل ظاہر کھلی ہوئی ہوگی،نہ تو کسی کی کوئی پہچان ہوگی اور نہ ہی کوئی ایسی جگہ جو کسی کو چھپاسکے بلکہ پوری مخلوق اپنے رب کے سامنے ظاہر ہوں گی۔ ان میں سے کوئی بھی اللہ سے چھپ نہیں سکے گا۔ (ابن کثیر: ۳؍۸۵–۸۶)
سوال:اللہ کے اس فرمان: (وترى الأرض بارزة) میں کون سی دھمکی چھپی ہوئی ہے؟
لَّقَدۡ جِئۡتُمُونَا كَمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةِۚ
یعنی بغیر مال ودولت اور بغیر اہل وعیال کے۔ان کے ساتھ سوائے اعمال اور خیر وشر کی ان کی کمائی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ (السعدی؍۴۷۹)
سوال:اللہ تعالیٰ کے فرمان: (لقد جئتمونا كما خلقناكم أول مرة) سے کیا مقصود ہے؟
وَيَقُولُونَ يَٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هَٰذَا ٱلۡكِتَٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةٗ وَلَا كَبِيرَةً إِلَّآ أَحۡصَىٰهَاۚ وَوَجَدُواْ مَا عَمِلُواْ حَاضِرٗاۗ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ أَحَدٗا ٤٩
امام قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا:لوگوں نے احصاء یعنی گناہوں کو شمار کرنے کی شکایت کی،کسی نے ظلم کی شکایت نہیں کی،پس تم چھوٹے گناہوں سے دور رہو کیونکہ یہی اکٹھاہوکر لوگوں کو ہلاک کردیتے ہیں۔ (القرطبی: ۱۳؍۴۵۹)
سوال:صغیرہ گناہوں سے آدمی کب ہلاک ہوتا ہے؟
وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ
اس سے سجدہ تکریمی اور تعظیمی مراد ہے۔ (ابن کثیر: ۳؍۸۷)
سوال:فرشتوں کا آدم کو سجدہ کرنا عبادت تھا یا کچھ اور؟
وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ كَانَ مِنَ ٱلۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهِۦٓۗ أَفَتَتَّخِذُونَهُۥ وَذُرِّيَّتَهُۥٓ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِي وَهُمۡ لَكُمۡ عَدُوُّۢۚ بِئۡسَ لِلظَّٰلِمِينَ بَدَلٗا ٥٠
اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو ان کے اور ان سے پہلے ان کے باپ دادا کے دشمن ابلیس سے خبردار کرتے ہوئے اور ان لوگوں کو پھٹکارتے ہوئے فرماتا ہے جو ابلیس کی پیروی کرتے ہیں اور خالق اور آقا کی مخالفت کرتے ہیں حالانکہ اسی نے انہیں اپنی مہربانی سے پیدا کیا،انہیں روزی دی اور غذا فراہم کی، ان سب کے باوجود انہوں نے ابلیس سے دوستی کرکے اللہ سے دشمنی کرلی۔(ابن کثیر: ۳؍۸۷)
سوال:آیت کی روشنی میں بنی آدم میں سے کچھ لوگوں کی جہالت اور ان کی سرکشی کی وضاحت کیجئے.