قرآن
ﮞ
ﱇ
ﭜ ٣٥ ٣٥ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ٣٦ ٣٦ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ
ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ٣٧ ٣٧
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ٣٨ ٣٨ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ٣٩ ٣٩ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ٤٠ ٤٠ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ٤١ ٤١ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ٤٢ ٤٢ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ٤٣ ٤٣ ﯴ ﯵ
ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ٤٤ ٤٤ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ
ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ
ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ٤٥ ٤٥
وَدَخَلَ جَنَّتَهُۥ وَهُوَ ظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ قَالَ مَآ أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَٰذِهِۦٓ أَبَدٗا ٣٥
(وهو ظالم لنفسه) وہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا تھا۔ یا تو کفر کرکے یا اپنے ساتھی کا مقابلہ کرکے جس میں کہ فخر،تکبر اور حقارت بھری ہوئی تھی۔ (ابن جزی: ۱؍۵۱۰)
سوال:دوباغ والوں نے اپنے اوپر چار چیزوں سے ظلم کیا۔انہیں گنائیے؟
وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيۡرٗا مِّنۡهَا مُنقَلَبٗا ٣٦
دنیا کی نعمت اور آخرت کی نعمت میں کون سا تلازم ہے کہ اس سے کوئی جاہل اپنی جہالت کی بناپر یہ سمجھ بیٹھے کہ جسے اس دنیا میں عطاکردیا گیا اسے آخرت میں بھی عطاکیا جائیگا حالانکہ اکثر یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء اور خاص بندوں سے دنیا کو دور ہٹادیتا ہے اور اپنے ان دشمنوں پر اسے کشادہ کردیتا ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ (السعدی؍۴۷۷)
سوال:دنیا کی نعمت اور آخرت کی نعمت میں کیا کوئی تلازم پایا جاتا ہے؟
وَلَوۡلَآ إِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَكَ قُلۡتَ مَا شَآءَ ٱللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّهِۚ
یعنی جو بھی مال ودولت تم نے اکٹھاکررکھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی طاقت ہی سے ملی ہے،نہ کہ تمہاری قدرت وطاقت سے۔اور اگر وہ چاہ لے تو اس میں برکت ختم کردے اور وہ تمہارے پاس جمع نہ ہوسکے۔(القرطبی: ۱۳؍۲۸۰)
سوال:کیا انسان اپنی قدرت وطاقت سے کسی چیز کا مالک ہوسکتا ہے؟
إِن تَرَنِ أَنَا۠ أَقَلَّ مِنكَ مَالٗا وَوَلَدٗا ٣٩ فَعَسَىٰ رَبِّيٓ أَن يُؤۡتِيَنِ خَيۡرٗا مِّن جَنَّتِكَ
اس شخص نے اس بات کی خبر دی کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی نعمت،ایمان او ر اسلام کی شکل میں ہے گرچہ اس کے پاس مال ودولت اور اولاد کی کمی ہے اور ایمان واسلام کی نعمت ہی حقیقی نعمت ہے۔باقی نعمتیں زوال پذیر ہیں اور ساتھ ہی وہ باعث ِ عذاب بھی ہیں۔ (السعدی؍۴۷۷)
سوال:وہ کو ن سی نعمت ہے جو ایک مسلمان پر سب سے زیادہ کامل،افضل اور پوری سمجھی جاتی ہے؟
وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِۦ فَأَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلَىٰ مَآ أَنفَقَ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا
صرف کفر کی وجہ سے اسے عذاب نے نہیں گھیرلیا تھا کیونکہ اللہ بہت سارے کافروں کو پوری زندگی ڈھیل دے دے کر نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے دراصل عذاب نے اسے اس کے ظلم کی بنیاد پر گھیرا تھا اور اس لئے کہ اس نے اپنے مال ودولت کو مسکین مومنوں کی حقارت کا ذریعہ بنارکھا تھا۔ (ابن عاشور: ۱۵؍۳۲۸)
سوال:آیت میں ذکرکردہ کافر کو سزا دینے میں جلدی کیوں کی گئی حالانکہ اللہ تعالیٰ بہت سارے کافروں کو پوری زندگی نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے؟
وَيَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي لَمۡ أُشۡرِكۡ بِرَبِّيٓ أَحَدٗا ٤٢
اللہ کی رحمت او ر اس کے لطف وکرم سے یہ بعید نہیں کہ وہ شخص جس کے باغ پر آفت نازل ہوئی تھی‘اس کی حالت سدھر گئی ہو،اس نے توبہ کرلی ہو اور ہدایت کی طرف لوٹ آیا ہو اور اس کی سرکشی اور تکبر ختم ہوگیا ہو۔اس کی دلیل یہ ہے کہ اس نے اپنے شرک پر ندامت کا اظہار کیا تھا۔اور یہ بھی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی سرکشی کو دور کرکے اسے دنیا میں ہی سزا دے دی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ جب بھلائی چاہتا ہے تو اسے دنیا میں ہی سزا دے دیتا ہے۔(السعدی: ۴۷۸)
سوال:دوباغ والے پرجو عذاب نازل ہوا تھا،ممکن ہے وہ اس کے لئے خیر ثابت ہوا ہو۔ اس کا سبب واضح کریں.
وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا كَمَآءٍ أَنزَلۡنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخۡتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلۡأَرۡضِ فَأَصۡبَحَ هَشِيمٗا تَذۡرُوهُ ٱلرِّيَٰحُۗ
حکماء کا کہنا ہے کہ اللہ نے دنیا کو پانی سے تشبیہ دی کیونکہ پانی ایک حالت پر باقی نہیں رہتا اور اسی طرح دنیا بھی ہے کہ وہ بھی پانی کی طرح ختم ہوجائیگی اور یہ کہ ایسا کوئی نہیں ہے جو پانی میں داخل ہو اور بھیگے نا۔ اسی طرح دنیا ہے کہ کوئی بھی اس کے فتنہ اور مصیبت سے بچ نہیں سکتا۔ نیز یہ کہ پانی جب تک ایک مناسب مقدار میں رہے گا وہ نفع بخش اور سبزہ اگانے کے لائق ہوگا اور حد سے تجاوز کرنے پر نقصان دہ اور مہلک ہوجائیگا اسی طرح دنیا ہے کہ اس سے بقدر کفاف روزی نفع بخش ہے جبکہ زیادہ مقدار نقصان دہ ہے۔(القرطبی: ۱۳؍۲۸۹)
سوال:دنیا اور پانی کے مابین تشبیہ کی بعض وجوہات واضح کریں.