قرآن
ﮞ
ﱇ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ
ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ٢٨ ٢٨ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ﮑ ٢٩ ٢٩ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ٣٠ ٣٠ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ٣١ ٣١ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ٣٢ ٣٢ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ٣٣ ٣٣ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ
ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ٣٤ ٣٤
وَٱصۡبِرۡ نَفۡسَكَ مَعَ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ رَبَّهُم بِٱلۡغَدَوٰةِ وَٱلۡعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجۡهَهُۥۖ وَلَا تَعۡدُ عَيۡنَاكَ عَنۡهُمۡ تُرِيدُ زِينَةَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَا تُطِعۡ مَنۡ أَغۡفَلۡنَا قَلۡبَهُۥ عَن ذِكۡرِنَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ وَكَانَ أَمۡرُهُۥ فُرُطٗا ٢٨
(واصبر نفسك) یعنی اپنے نفس کو صبر کے ساتھ روکے رکھئے (مع الذين يدعون ربهم) ان سے مسکین مسلمان مراد ہیں۔ جیسے بلال،خباب اور صہیب رضی اللہ عنہم وغیرہ۔کفار نے رسول اللہﷺ سے انہی کے بارے میں کہا تھا کہ انہیں اپنے پاس سے دور ہٹادیجئے پھر ہم آپ کے پاس بیٹھیں گے۔(ابن جزی: ۱؍۵۰۷)
سوال:داعی کو دعوت کے میدان میں مختلف طبقات کا سامنا کرنا ہوتا ہے چنانچہ ان کے ساتھ قرآنی منہج کی روشنی میں کیسے پیش آئیں گے؟
وَٱصۡبِرۡ نَفۡسَكَ مَعَ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ رَبَّهُم بِٱلۡغَدَوٰةِ وَٱلۡعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجۡهَهُۥۖ
آیت سے صبح وشام ذکر واذکار اور دعاوعبادت کے استحباب کا پتہ چلتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عمل کی تعریف کی ہے اور اللہ تعالیٰ جس بھی عمل کی تعریف کردے وہ اس کے مستحب ہونے کی دلیل ہے۔ اور اللہ جس چیز کو پسند کرتا ہے،اس کا حکم بھی دیتا ہے اور اس کی رغبت بھی دلاتا ہے۔ (السعدی؍۴۷۵)
سوال:یہ آیت صبح وشام ذکر واذکار کی مشروعیت پر کیسے دلالت کرتی ہے؟
وَلَا تَعۡدُ عَيۡنَاكَ عَنۡهُمۡ تُرِيدُ زِينَةَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ
(تريد زينة الحياة الدنيا) یعنی دنیاوی زندگی کی رونق کی تلاش ہے کیونکہ یہ چیز نقصان دہ ہے،اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔یہ تمام دینی مصلحتوں کے یکسر خلاف ہے کیونکہ یہ دنیا سے دل لگانے کا سبب بنتی ہے جس سے دل میں اندیشے جاگزیں ہوجاتے ہیں اور دل سے آخرت کی چاہت مٹنے لگتی ہے کیونکہ دنیا کی زیب وزینت دیکھنے والے کو بہت خوش کن نظر آتی ہے اور عقل پر جادوکردیتی ہے جس سے دل اللہ کے ذکر سے غافل ہوکر لذتوں و شہوتوں میں مگن ہوجاتا ہے پھر وہ اپنے وقت کو ضائع کرکے اپنے معاملہ میں کوتاہی کا شکار ہوجاتا ہے۔ (السعدی؍۴۷۵)
سوال:آخرت کے بدلہ میں دنیا سے محبت کا کیا نقصان ہے؟
وَلَا تُطِعۡ مَنۡ أَغۡفَلۡنَا قَلۡبَهُۥ عَن ذِكۡرِنَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ وَكَانَ أَمۡرُهُۥ فُرُطٗا ٢٨
یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہی شخص اطاعت کے لائق او ر لوگوں کا امام بننے کے قابل ہے جس کا دل محبت ِالٰہی سے لبریز ہو اور اس کی زبان پر محبت الٰہی کا فیضان ہو،وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتاہو،اپنے رب کی رضا کی پیروی کرتا ہو اور اسے اپنی خواہشات پر مقدم رکھتاہو۔پس اس طرح وہ اپنے وقت کی حفاظت کریگا،اس کے تمام احوال درست اور تمام افعال ٹھیک ہوجائیں گے۔وہ لوگوں کو اس چیز کی طرف دعوت دیگا جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان کیا ہے۔پس یہ شخص اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے اور اس کو امام بنایا جائے۔(السعدی؍۴۷۵)
سوال:انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ بعض دینی اور دنیوی معاملات میں دوسرے کی تقلید اور پیروی کرے۔تو ایسی صورت میں ہمیں کس کی پیروی کرنا چاہئے اور کس سے دور رہنا چاہئے؟
وَقُلِ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكُمۡۖ فَمَن شَآءَ فَلۡيُؤۡمِن وَمَن شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡۚ
اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے حق سے نوازتا ہے گرچہ وہ کمزور ہی کیوں نہ ہو اور جسے چاہتا ہے اس سے محروم کردیتاہے گرچہ وہ طاقتور ومالدار کیوں نہ ہو۔تمہاری خواہش پر میں مومنوں کو نہیں بھگاسکتا،تم چاہو تو ایمان لاؤ اور چاہو تو کفر کرو۔ (القرطبی: ۱۳؍۲۶۰)
سوال:آخرت کی نعمتوں کا ملنا اور ان سے محرومی کیا انسان کی مالداری اور فقیری پر منحصر ہے؟
وَقُلِ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكُمۡۖ فَمَن شَآءَ فَلۡيُؤۡمِن وَمَن شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡۚ
کفر پر ایمان کو مقدم کیا گیا کیونکہ ان کا ایمان ہی مطلوب ہے۔(ابن عاشور: ۱۵؍۳۰۷)
سوال:اس آیت میں کفر پر ایمان کو مقدم کیوں کیا گیا؟
وَكَانَ لَهُۥ ثَمَرٞ فَقَالَ لِصَٰحِبِهِۦ وَهُوَ يُحَاوِرُهُۥٓ أَنَا۠ أَكۡثَرُ مِنكَ مَالٗا وَأَعَزُّ نَفَرٗا ٣٤
امام قتادہ رحمہ اللہ نے کہا:اللہ کی قسم! ایک فاسق وفاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ دولت اور نفری عزت مل جائے۔(ابن کثیر: ۳؍۸۱)
سوال:کافر کی سب سے بڑی تمنا کیا ہوتی ہے او ر ایک مومن کو اس سے کیا سبق ملتا ہے؟