قرآن
ﮞ
ﱇ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ٢١ ٢١ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ٢٢ ٢٢ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ٢٣ ٢٣ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
٢٤ ٢٤ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
٢٥ ٢٥ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ
ﯶ ﯷ ﯸ ٢٦ ٢٦ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ
ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ٢٧ ٢٧
وَكَذَٰلِكَ أَعۡثَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ لِيَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَأَنَّ ٱلسَّاعَةَ لَا رَيۡبَ فِيهَآ
اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو دین کی خاطر فتنوں سے دور رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کریگا اور جو عافیت کا خواہش مند ہوگا تو اللہ اسے ضرور عافیت دیگا اور جو اللہ کی پناہ میں آئیگا تو اللہ اسے ضرور پناہ دیگا اور اسے دوسروں کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنائیگا اور جو اللہ کی رضا کی خاطر اس کے راستہ میں ذلت برداشت کریگا تو یقینا اس کا انجام ایسی عظیم عزت ومرتبہ کی صورت میں ہوگا جس کا اسے گمان بھی نہ ہوگا۔ (السعدی: ۴۷۳)
سوال:اصحاب کہف کے واقعہ سے تین مختصرفوائد ذکر کیجئے.
فَقَالُواْ ٱبۡنُواْ عَلَيۡهِم بُنۡيَٰنٗاۖ رَّبُّهُمۡ أَعۡلَمُ بِهِمۡۚ قَالَ ٱلَّذِينَ غَلَبُواْ عَلَىٰٓ أَمۡرِهِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيۡهِم مَّسۡجِدٗا ٢١
مسجدوں پر قبریں بنانا اور ان میں نماز پڑھنا منع ہے کیونکہ یہ عمل صاحب ِقبر کی عبادت تک پہنچا سکتا ہے،یا یہ ان لوگوں کے عمل جیسا ہے جو اپنی قوم کے نیک لوگوں کی عبادت کرتے تھے۔(ابن عاشور: ۱۵؍۲۹۰)
سوال:ہمیں قبروں پر مساجد بنانے سے کیوں منع کردیا گیا ہے؟
قُل رَّبِّيٓ أَعۡلَمُ بِعِدَّتِهِم
اس آیت میں اس بات کی طرف رہنمائی ہے کہ ایسے موقعوں پر سب سے بہتر یہ ہے کہ علم کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کردیا جائے کیونکہ بغیر علم کے اس طرح کے مسئلوں کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس لئے اگر ہمیں کسی چیز کاعلم ہو تو اسے کہنا چاہئے ورنہ توقف اختیار کرکے خاموش رہنا چاہئے۔ (ابن کثیر: ۳؍۷۷)
سوال:بعض علمی مسائل میں الجھن اور پریشانی کے وقت ایک طالب علم کے لئے سب سے بہتر طریقہ کیا ہے؟
وَلَا تَسۡتَفۡتِ فِيهِم مِّنۡهُمۡ أَحَدٗا ٢٢
اس آیت کریمہ سے پتہ چلتاہے کہ جو فتویٰ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس سے فتویٰ نہ پوچھا جائے خواہ اس کی وجہ یہ ہو کہ جس امر کے بارے میں فتویٰ پوچھاجارہا ہے وہ اس میں کوتاہ علم ہے یا اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ بولتے وقت اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ وہ کیا بول رہا ہے نیز وہ اس تقویٰ اور پرہیزگاری سے بھی خالی ہے جو اسے لایعنی کلام سے روکے۔
آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ انسان کو بسا اوقات کسی معاملہ میں فتویٰ طلب کرنے سے روک دیا جاتا ہے مگر کسی دوسرے معاملہ میں اجازت ہوتی ہے چنانچہ وہ ایسے شخص سے فتویٰ طلب کرے جو فتویٰ دینے کا اہل ہو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فتویٰ پوچھنے سے علی الاطلاق منع نہیں کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے صرف اصحاب ِکہف کے قصہ میں اور اسی قسم کے دیگر واقعات میں فتویٰ پوچھنے سے روکا ہے۔(السعدی: ۴۷۴)
سوال:آیت سے معلوم ہونے والے بعض مسائل اور فتویٰ پوچھنے کے تعلق سے کچھ ذکر کیجئے.
وَلَا تَقُولَنَّ لِشَاْيۡءٍ إِنِّي فَاعِلٞ ذَٰلِكَ غَدًا ٢٣ إِلَّا أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ
یعنی اگر کل کچھ کرنے کا ارادہ ہو تو یہ نہ کہیں کہ کل کروں گا جب تک ان شاء اللہ نہ کہہ لیں۔(البغوی: ۳؍۲۳)
سوال:مستقبل میں اگر کوئی کچھ کرنا چاہتا ہو تو اس پر کیا کہنا واجب ہوتا ہے۔اس تعلق سے قرآنی ادب واضح کیجئے.
وَٱذۡكُر رَّبَّكَ إِذَا نَسِيتَ
اگر کوئی گفتگو کرتے وقت اگر کچھ بھول جائے تو اسے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کی تعلیم دی گئی ہے کیونکہ خطا ونسیان کا منبع ومصدر شیطان ہے اور شیطان کو ذکرالٰہی ہی بھگا سکتا ہے چنانچہ جب شیطان چلا جائیگا تو نسیان وسہو بھی چلا جائیگا۔پس اللہ کا ذکر یاددہانی کا سبب ہے۔(ابن کثیر: ۳؍۷۸)
سوال:اللہ کا ذکر کرنے سے نسیان وسہو کے جانے کا کیا تعلق ہے؟
مَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِيّٖ وَلَا يُشۡرِكُ فِي حُكۡمِهِۦٓ أَحَدٗا ٢٦
ولی اور دوست وہ ہے کہ آپ کے اور اس کے درمیان کوئی ایسا سبب ہو جس کی وجہ سے وہ آپ سے اور آپ اس سے لگاؤ رکھتے ہوں۔چنانچہ ایمان ایک سبب ہے جس کی وجہ سے مومنین اطاعت وفرمانبرداری کے ذریعہ اپنے رب سے لگاؤ رکھتے ہیں اور ثواب،غلبہ اور مدد کے ذریعہ ان کے ساتھ ان کے رب کابھی لگاؤ ہوتا ہے۔
سوال:اللہ کا مومنوں کے ساتھ اور مومنو ں کا اللہ کے ساتھ لگاؤ کیسا ہوتا ہے؟