قرآن
ﮝ
ﱇ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ١٠٦ ١٠٦
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ١٠٧ ١٠٧ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ١٠٨ ١٠٨ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ
ﮇ ﮈ ١٠٩ ١٠٩ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ١١٠ ١١٠ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ١١١ ١١١
ﮞ
١ ١ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ٢ ٢
ﯸ ﯹ ﯺ ٣ ٣ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ٤ ٤
وَقُرۡءَانٗا فَرَقۡنَٰهُ لِتَقۡرَأَهُۥ عَلَى ٱلنَّاسِ عَلَىٰ مُكۡثٖ
یعنی وقفہ وقفہ سے تاکہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور اس کے مختلف علوم وفنون نکال سکیں۔(السعدی: ۴۶۸)
سوال:غوروفکر کرنے والے کے لئے قرآن پڑھنے کا بہتر طریقہ کیا ہے؟
قُلۡ ءَامِنُواْ بِهِۦٓ أَوۡ لَا تُؤۡمِنُوٓاْۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ مِن قَبۡلِهِۦٓ إِذَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّونَۤ لِلۡأَذۡقَانِۤ سُجَّدٗاۤ ١٠٧
(قل آمنوا به أو لا تؤمنوا)ایمان لاؤ یا نہ لاؤ۔یہ دراصل ان کی حقارت اور ان سے بے توجہی کی طرف اشارہ ہے۔گویا اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ:تمہارے لئے برابر ہے ایمان لاؤ یا نہ لاؤ کیونکہ تم حجت نہیں ہوبلکہ حجت تو وہ اہل ِعلم ہیں جو تم سے پہلے تھے اور وہ اہل ِکتاب کے مومنین ہیں (إن الذين أُوتوا العلم من قبله) یعنی اہل ِکتاب کے مومن لوگ۔اور کہا گیا کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے دین ِحنیف پر قائم تھے۔(ابن جزی: ۱؍۴۹۹)
سوال:اس آیت میں اہل ِعلم کے مرتبہ کی بلندی کا ذکر ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.
إِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ مِن قَبۡلِهِۦٓ إِذَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّونَۤ لِلۡأَذۡقَانِۤ سُجَّدٗاۤ ١٠٧ وَيَقُولُونَ سُبۡحَٰنَ رَبِّنَآ إِن كَانَ وَعۡدُ رَبِّنَا لَمَفۡعُولٗا ١٠٨ وَيَخِرُّونَ لِلۡأَذۡقَانِ يَبۡكُونَ وَيَزِيدُهُمۡ خُشُوعٗا۩ ١٠٩
(ويخرون للأذقان يبكون)یہ ان کی صفت میں مبالغہ اور ان کے حق میں تعریف ہے۔اور یہ حق ہر اس شخص کو حاصل ہے جو علم سے آگاہ ہو اور اسے حاصل کیا ہو کہ وہ اس مقام تک دوڑکر آئے اور قرآن سنتے وقت خشوع وخضوع اختیار کرے۔سنن دارمی میں ابراہیم تیمی رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا:جسے علم سے نوازاگیا اور اس نے اسے رلایا نہیں تو وہ اس لائق نہیں کہ اسے علم عطاکیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علماء کی صفت بیان کی ہے۔یہ کہہ کر انہوں نے اسی آیت کی تلاوت کی۔(القرطبی: ۱۳؍۱۸۹)
سوال:قرآن سنتے وقت اہل ِعلم کی کیا حالت ہونی چاہئے۔اسے واضح کیجئے۔؟
وَيَخِرُّونَ لِلۡأَذۡقَانِ يَبۡكُونَ وَيَزِيدُهُمۡ خُشُوعٗا۩ ١٠٩
ٹھوڑی کے بل گرنا،ایسی مقصود عبادت ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے۔یہاں ٹھوڑی کے بل گرنے سے مراد زمین سے ٹھوڑی کولگانا نہیں ہے جیسے پیشانی کو لگایا جاتا ہے بلکہ ٹھوڑی کے بل گرنا یہ رکوع کی ابتدا ہے اور سجدہ اس کی انتہا ہے۔(ابن تیمیہ: ۴؍۲۴۹)
سوال:ٹھوڑی کے بل گرنے کی وہ کون سی صورتیں ہیں جنہیں اللہ پسند کرتا ہے؟
ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ عَلَىٰ عَبۡدِهِ ٱلۡكِتَٰبَ
اللہ نے اپنی ذات کی خود تعریف کی ہے جس میں بندوں کی اس بات کی جانب رہنمائی بھی ہے کہ وہ ان کی طرف رسولوں کو بھیجنے اور ان پر کتابوں کے اتارنے پر اس کی تعریف کریں۔(السعدی: ۴۶۹)
سوال:اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف خود کی ہے اسے جان کر ایک مسلمان کیا عملی فائدہ حاصل کرسکتاہے؟
ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ عَلَىٰ عَبۡدِهِ ٱلۡكِتَٰبَ وَلَمۡ يَجۡعَل لَّهُۥ عِوَجَاۜ ١
رسول اللہ ﷺ کا خاص طور سے ذکر کیا گیا کیونکہ آپ ﷺ پر قرآن کا اتارنا بالخصوص آپ پر اور بالعموم سارے لوگوں پر اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ (البغوی: ۳؍۵)
سوال:نبی ﷺ کا خاص طور سے کیوں ذکر کیا گیا ہے؟
قَيِّمٗا لِّيُنذِرَ بَأۡسٗا شَدِيدٗا مِّن لَّدُنۡهُ وَيُبَشِّرَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمۡ أَجۡرًا حَسَنٗا ٢ مَّٰكِثِينَ فِيهِ أَبَدٗا ٣
یہ قرآن ہر اس عمل ِصالح کو شامل ہے جو دلوں او ر روحوں کو خوش کرنے والی چیزوں تک پہنچانے والا ہے۔(السعدی؍۴۷۰)
سوال:مومن کے نزدیک خوش ہونے کا منبع کیا ہے؟