قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٩٧ ٩٧


٩٨ ٩٨


٩٩ ٩٩


١٠٠ ١٠٠


١٠١ ١٠١


١٠٢ ١٠٢

١٠٣ ١٠٣

ﯿ ١٠٤ ١٠٤
292
سورۃ الإسراء آیات 0 - 97

وَمَن يَهۡدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِۖ وَمَن يُضۡلِلۡ فَلَن تَجِدَ لَهُمۡ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِهِۦۖ

(وَمَن يَهۡدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِۖ) یعنی اگر اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دیتا تو وہ ضرورہدایت پاتے (ومن يضلل فلن تجد لهم أولياء من دونه) یعنی اگر اللہ تعالیٰ گمراہ کردے تو انہیں کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔(القرطبی: ۱۳؍۱۷۸)
سوال:کیا اللہ تعالیٰ کے چاہے بغیر کوئی ہدایت پاسکتا ہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 97

وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمۡ عُمۡيٗا وَبُكۡمٗا وَصُمّٗاۖ مَّأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ

جس طرح دنیا کے اندر بے انتہا ذلت و رسوائی اور سزا دینے کے لئےاوندھے منہ کے بل گھسیٹا جاتا ہے بالکل اسی طرح انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا اور یہی تعبیر صحیح ہے جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: ایک شخص نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! قیامت کے دن لوگ اوندھے منہ کے بل اٹھائے جائیں گے تو کیا ایسے ہی کافروں کو اٹھایا جائے گا؟ تو آپ نے فرمایا: کیا وہ ذات جو دو ہاتھوں پر چلاسکتا ہے وہ قیامت کے دن منہ کے بل نہیں چلاسکتا؟ جب یہ حدیث قتادہ کو پہنچی تو کہا : میرے رب کی عزت و جلال کی قسم ! کیوں نہیں!(القرطبی: ۱3؍178)
سوال:قیامت کے دن کافروں کو اوندھے منہ کے بل کیسے اٹھایا جائے گا؟ اس کی کیا دلالت ہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 97

وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمۡ عُمۡيٗا وَبُكۡمٗا وَصُمّٗاۖ مَّأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ كُلَّمَا خَبَتۡ زِدۡنَٰهُمۡ سَعِيرٗا ٩٧

جرم کے لئے یہ مناسب سزا ہے کیونکہ انہوں نے گمراہی کو حق کی صورت میں رواج دیا اور حق کو گمراہی کے اوصاف سے متصف کیا چنانچہ انہیں یہ سزا دی گئی ّکہ انہیں پاؤں کے بجائے چہروں کے بَل چلایا گیا۔پھر رسول اللہ ﷺ اور قرآ ن پاک کے خلاف ان کے باطل پروپیگنڈوں کے جرم میں انہیں اندھا اور گونگا بنادیا گیا اور حق بات سننے سے دوررہنے کے جرم میں بہرا بنادیا گیا۔(ابن عاشور: ۱۵؍۲۱۷)
سوال:قیامت کے دن کافروں کی سزا ان کے جرم کے اعتبار سے ہوگی؟اس کی و ضاحت کیجئے.

سورۃ الإسراء آیات 0 - 97

وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمۡ عُمۡيٗا وَبُكۡمٗا وَصُمّٗاۖ مَّأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ كُلَّمَا خَبَتۡ زِدۡنَٰهُمۡ سَعِيرٗا ٩٧

اگر اعتراض کیا جائے کہ انہیں اندھا،بہرا اور گونگا کیوں بنایا گیا جبکہ ان کے بارے میں کہا گیا ہے: ﴿وَرَءَا ٱلۡمُجۡرِمُونَ ٱلنَّارَ فَظَنُّوٓاْ﴾ [الكهف: 53]؛ یعنی مجرمین جہنم کو دیکھیں گے؟ یعنی ان کے لئے دیکھنا،بات کرنا اور سننا ثابت ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انہیں بالکل اسی طرح اٹھایا جائیگا جیسا اللہ تعالیٰ نے بیا ن کیا ہے لیکن وقت کی مناسبت سے یہ سارے اوصاف واپس کردئیے جائیں گے۔ اور دوسرا جواب یہ ہے: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایاہے کہ یہاں ان کے اندھے اور گونگے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسی چیز نہیں دیکھیں گے جن سے ان کو خوشی ہو اور نہ ہی دلیل سے کوئی بات بول سکیں گے۔ اور ان کے بہرےہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسی کوئی چیز نہیں سنیں گے جس سے انہیں خوشی ہو۔امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس وقت ہوگا جب انہیں حساب وکتاب کے لئے موقف یعنی میدان محشر میں لایا جائیگا،یہاں تک کہ جہنم میں داخل ہوجائیں گے۔(البغوی: ۲؍۷۱۸)
سوال:اہل ِجہنم کس طرح اندھے،بہراےاور گونگے بناکراٹھائے جائیں گے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 100

وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ قَتُورٗا ١٠٠

یعنی ایسا بخیل جو خرچ کرنے سے اپنے ہاتھ روکے ہوئے ہو۔(البغوی: ۲؍۷۱۹)
سوال:مال کے تعلق سے انسانی فطرت واضح کیجئے اور بتائیے کہ بندہ اس صفت سے کیسے نجات پاسکتا ہے؟

سورۃ الإسراء آیات 0 - 102

قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَآ أَنزَلَ هَٰٓؤُلَآءِ إِلَّا رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ بَصَآئِرَ وَإِنِّي لَأَظُنُّكَ يَٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُورٗا ١٠٢

موسیٰ علیہ السلام جو کہ سچے نبی تھے،فرعون کو مخاطب کرکے کہہ رہے ہیں: (لقد علمت ما أنزل هؤلاء إلا رب السماوات والأرض بصائر)؛ تجھے پتہ ہے کہ ان نشانیوں کو آسمانوں او ر زمین کے رب نے بطور نصیحت نازل کیا ہے۔یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ فرعون کو اس بات کا علم تھا کہ ان نشانیوں کو اللہ تعالیٰ نے ہی اتارا ہے۔لیکن وہ جہالت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے فاسد ارادے اور گھٹیا سوچ کی بناپر اللہ کی مخلوق میں سب سے بڑا ہٹ دھرم اور ظالم تھا۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۲۴۸)
سوال:انسان کبھی کبھی جان بوجھ کر گمراہ ہوتا ہے۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الإسراء آیات 0 - 103

فَأَرَادَ أَن يَسۡتَفِزَّهُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ فَأَغۡرَقۡنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ جَمِيعٗا ١٠٣

مشرکو ں نے نبی ﷺ اور مسلمانو ں کو مکہ سے نکال دینے کا پختہ ارادہ کررکھا تھا چنانچہ ان کے اسی ارادے کو فرعون کے اس ارادے سے تشبیہ دی گئی ہے جو وہ مصر سے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو نکالنے کے تعلق سے رکھتا تھا۔(ابن عاشور: ۱۵؍۲۲۸)
سوال:مشرکین قریش اور قوم ِفرعون کے درمیان جو مشابہت ہے اس کی وضاحت کیجئے.