قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮎ

ﰺ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ١٨٧ ١٨٧
ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
١٨٨ ١٨٨
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ
ﯬ ﯭ ١٨٩ ١٨٩
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ١٩٠ ١٩٠
29
سورۃ البقرہ آیات 0 - 187

وَكُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ ٱلۡخَيۡطُ ٱلۡأَبۡيَضُ مِنَ ٱلۡخَيۡطِ ٱلۡأَسۡوَدِ مِنَ ٱلۡفَجۡرِۖ

(رمضان کی راتوں میں ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے طلوعِ فجر یعنی صبحِ صادق تک کھانے کو جائز رکھنے میں سحری کھانے کے مستحب ہونے کی دلیل ہے ، کیونکہ اس کا تعلق رخصتوں سے ہے اور ان پر عمل کرنا اللہ کو پسند ہے۔ (ابن کثیر:۱؍۲۱۰)
سوال:آیت کو سحری کے مستحب ہونے پر کیسے دلیل بنا سکتے ہیں؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 187

وَلَا تُبَٰشِرُوهُنَّ وَأَنتُمۡ عَٰكِفُونَ فِي ٱلۡمَسَٰجِدِۗ

روزوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے اعتکاف کا تذکرہ فرمایا ہے،اس میں اس بات کی رہنمائی اور آگاہی ہے کہ اعتکاف ماہ صیام کے اندر یا اس کے آخر میں ہونا چاہئے ۔(ابن کثیر:۱؍۲۱۳)
سوال: روزوں کے بعد اعتکاف کا بیان کس بات پر دلالت کرتا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 187

وَلَا تُبَٰشِرُوهُنَّ وَأَنتُمۡ عَٰكِفُونَ فِي ٱلۡمَسَٰجِدِۗ

علماء کا اتفاق ہے کہ اعتکاف صرف مساجد میں ہی ہوسکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (وَلَا تُبَٰشِرُوهُنَّ وَأَنتُمۡ عَٰكِفُونَ فِي ٱلۡمَسَٰجِدِ) اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف کی حالت میں رہو تو عورتوں سے ہمبستری نہ کرو۔
اعتکاف نہ تو خلوت وتنہائی میں ہوگا ،نہ غیر خلوت میں، کسی غار میں نہ کسی قبر کے پاس اور نہ ہی ان کے علاوہ کسی اور جگہ جن کی طرف گمراہ لوگ سفر کرتے اور وہاں اعتکاف کا قصد وارادہ کرتے ہیں۔جیسے مشرکین اپنے بتوں کے پاس اعتکاف (اور مجاوری ) کرتے ہیں۔ (ابن تیمیہ:۱؍۴۴۸۔۴۴۹)
سوال:کیا مساجد کے علاوہ بھی کسی مقام پر اعتکاف ہوسکتا ہے؟آیت سے دلیل دیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 187

تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَقۡرَبُوهَاۗ

(فَلَا تَقۡرَبُوهَا) (تم ان کے قریب نہ جاؤ)اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ‘‘فَلا تَفْعَلُوْھَا’’ (تم انہیں نہ کرو) سے زیادہ بلیغ اور معنی خیز ہے۔اس لئے کہ ‘‘قریب نہ جانے’’ کے معنی میں خودحرام کام سے ممانعت بھی شامل ہے۔اور اس حرام تک پہنچانے والے وسائل اور راستوں کی ممانعت بھی شامل ہے۔ (یعنی قریب نہ جاؤ کہہ کر فعل حرام اور اس کے ذرائع دونوں کی حرمت بیان کردی۔)اور مومن بندے کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ حرام چیزوں کو نہ صرف چھوڑدے بلکہ جہاں تک ہوسکے ان سے دوررہے ۔نیز ہر اس راستہ اور ذریعہ کو بھی چھوڑدے جو حرام چیزوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ (السعدی:۸۷۔۸۸)
سوال:اللہ تعالیٰ نے اپنی حرام کردہ حدود کے ارتکاب سے منع کرنے کی بجائے ان کے قریب جانے سے کیوں منع فرمایا؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 188

وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ وَتُدۡلُواْ بِهَآ إِلَى ٱلۡحُكَّامِ لِتَأۡكُلُواْ فَرِيقٗا مِّنۡ أَمۡوَٰلِ ٱلنَّاسِ بِٱلۡإِثۡمِ وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ١٨٨

جب روزے اور اس سے متعلق احکامات کا بیان ہوچکا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے فوراً بعد حرام کھانے کی ممانعت ذکر فرمائی ۔ (اس لئے کہ)حرام خوری کے نتیجہ میں روزے ہوں یا اعتکاف،بندے کی عبادت بے اثر اور قبولیت سے محروم ہوجاتی ہے؟ (الألوسی:۲؍۶۹)
سوال:حرام کھانے کی ممانعت سے روزے کا کیا تعلق ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 188

وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ وَتُدۡلُواْ بِهَآ إِلَى ٱلۡحُكَّامِ لِتَأۡكُلُواْ فَرِيقٗا مِّنۡ أَمۡوَٰلِ ٱلنَّاسِ بِٱلۡإِثۡمِ وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ١٨٨

اور تم اپنے مال کے ذریعہ حکّام کی خوشامد مت کرو،نہ انہیں رشوت دو کہ وہ تمہارے حق میں حق سے بڑھ کر فیصلہ کردیں۔ اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو شخص(صاحبِ اختیار)ایسی کوئی بھی چیز لے جسے“مال” کہا جاسکے،تو اس کی وجہ سے وہ فاسق (گناہ گار) ہوجائیگا اور اس کے لئے اس (مال )کا لینا حرام ہے۔ مال خواہ کم ہو یازیادہ۔ (القرطبی:۳؍۲۲۶)
سوال:روزہ دار کا رشوت سے دور رہنا ، روزے کی حفاظت میں شامل ہے۔یہ بات آیت کے سیاق وسباق کی روشنی میں واضح کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 189

وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ١٨٩

جو متقی اور پرہیزگار ہوتا ہے تو اس کے تقویٰ کے مطابق (اللہ کے فضل سے)اس کے دل سے حکمت ودانائی کے چشمے پھوٹتے رہتے ہیں اور باریک سے باریک راز اس پر ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ (الألوسی:۲؍۷۴)
سوال:تقویٰ کا کیافائدہ ہے؟