قرآن
ﮝ
ﱇ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ٦٧ ٦٧ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ
ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ٦٨ ٦٨ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ٦٩ ٦٩ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ٧٠ ٧٠ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ٧١ ٧١ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ٧٢ ٧٢ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ٧٣ ٧٣ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ٧٤ ٧٤ ﯷ ﯸ ﯹ
ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ٧٥ ٧٥
أَفَأَمِنتُمۡ أَن يَخۡسِفَ بِكُمۡ جَانِبَ ٱلۡبَرِّ أَوۡ يُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبٗا ثُمَّ لَا تَجِدُواْ لَكُمۡ وَكِيلًا ٦٨
آیت میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ خشکی کے اندر امن وسلامتی ایک بہت بڑی نعمت ہے جسے لوگ بھلا بیٹھے ہیں۔اگر زمین کو دھنسادیا جائے تو سب ہلاک ہوجائیں،کوئی نہ بچے۔ جبکہ دریا کی ہولناکی کا معاملہ دوسرا ہے۔(ابن عاشور: ۱۵؍۱۶۲)
سوال:خشکی میں امن وسلامتی بہت بڑی نعمت ہے جسے ہم سب بھولے ہوئے ہیں۔آیت کریمہ نے اس جانب کیسے رہنمائی کی ہے؟
وَفَضَّلۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ كَثِيرٖ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِيلٗا ٧٠
اعتقاد کے لائق او ر صحیح بات یہ ہے کہ کسی چیز کو فضیلت دینے کا انحصار عقل پر ہے۔اور تمام شرعی احکامات میں یہی اصل ہے،اسی کے ذریعہ اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کے کلام کو سمجھاجاتا ہے،اس کی نعمتوں تک پہنچاجاسکتا ہے اور اس کے رسولوں کی تصدیق کی جاتی ہے۔لیکن جب بندہ ساری چیزوں کو اس کے ذریعہ سمجھنے سے قاصر ہوجاتا ہے تو رسولوں کو بھیجاجاتا ہے اور کتابیں نازل کی جاتی ہیں۔پس شریعت کی مثال سورج اور عقل کی مثال آنکھ کی طرح ہے۔ جب صحیح وسالم آنکھ کھلے گی تبھی سورج دیکھے گی اور تمام چیزوں کی تفصیل حاصل کرسکے گی۔ (القرطبی: ۱۳؍۱۲۶)
سوال:اس بات کی وضاحت کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو تمام مخلوقات پر کس وجہ سے فضیلت دی ہے؟
يَوۡمَ نَدۡعُواْ كُلَّ أُنَاسِۢ بِإِمَٰمِهِمۡۖ فَمَنۡ أُوتِيَ كِتَٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ فَأُوْلَٰٓئِكَ يَقۡرَءُونَ كِتَٰبَهُمۡ وَلَا يُظۡلَمُونَ فَتِيلٗا ٧١
“فتیل” یعنی فیتہ۔اس سے وہ دھاگا مراد ہے جو کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں ہوتا ہے۔مفہوم یہ ہے کہ ان کے اعمال میں کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائیگا چاہے وہ کم ہوں یا زیادہ۔تھوڑی چیز کے ذکر سے دراصل زیادہ پر تنبیہ ہے۔(ابن جُزی: ۱؍۴۹۳)
سوال:آیت میں فیتہ سے دراصل کیا مراد ہے؟
وَمَن كَانَ فِي هَٰذِهِۦٓ أَعۡمَىٰ فَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ أَعۡمَىٰ وَأَضَلُّ سَبِيلٗا ٧٢
(هذه) یعنی دنیا اور اندھے پن سے مراد دل کا اندھا ہونا ہے۔یعنی جو دنیا میں ہدایت اور سچائی کے راستے سے اندھا ہوگا وہ قیامت کے دن اندھا یعنی بھلائی کے پانے سے حیران وپریشان ہوگا۔ (ابن جزی: ۱؍۴۹۳)
سوال:دنیا اور آخرت کے اندھے پن سے کیا مراد ہے؟
وَإِن كَادُواْ لَيَفۡتِنُونَكَ عَنِ ٱلَّذِيٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ لِتَفۡتَرِيَ عَلَيۡنَا غَيۡرَهُۥۖ وَإِذٗا لَّٱتَّخَذُوكَ خَلِيلٗا ٧٣
تاکہ آپ کو پتہ چل جائے کہ وہ لوگ آپ سے صرف اسی حق کی بناپر دشمنی کررہے ہیں جسے لے کر آپﷺ آئے ہیں،ا ن کی دشمنی آپ کی ذات سے نہیں ہے۔(السعدی: ۴۶۴)
سوال:نبی ﷺ سے مشرکین کی دشمنی کی کیا وجہ تھی؟اور اس بات سے ایک داعی کیا فائدہ اٹھاسکتا ہے؟
وَلَوۡلَآ أَن ثَبَّتۡنَٰكَ لَقَدۡ كِدتَّ تَرۡكَنُ إِلَيۡهِمۡ شَيۡـٔٗا قَلِيلًا ٧٤
یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اس بات کا شدید محتاج ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی سے نوازے رکھے اور یہ کہ بندہ گڑگڑاکر اپنے رب سے دعا کرتا رہے کہ وہ اسے ایمان پر ثابت قدمی عطاکرے۔اور وہ اس مقصد کے حصول کے لئے تمام اسباب اختیار کرنے کی کوشش کرتا رہے کیونکہ نبیﷺ مخلوق میں سب سے کامل ہستی ہیں پھر بھی اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا: (ولولا أن ثبتناك لقد كدت تركن إليهم شيئًا قليلًا) اور جب نبی ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے تو دوسروں کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے!(السعدی: ۴۶۴)
سوال:یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ بندہ اس بات کا شدید محتاج ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی سے نوازے رکھے۔اس کی وضاحت کیجئے.
إِذٗا لَّأَذَقۡنَٰكَ ضِعۡفَ ٱلۡحَيَوٰةِ وَضِعۡفَ ٱلۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيۡنَا نَصِيرٗا ٧٥
بندے کے بلند مرتبہ کے مطابق اس کو پے درپے نعمتیں عطاہوتی ہیں۔اسی طرح جب وہ قابل ِملامت فعل انجام دیتاہے تو اس کا گناہ بھی بڑا ہوجاتا ہے اور اس کا جرم کئی گنازیادہ ہوجاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اپنے اس ارشاد کے ذریعہ سے نصیحت فرمائی ہے حالانکہ آپ ہر گناہ سے پاک اور معصوم ہیں۔(السعدی؍۴۶۴)
سوال:کیا وجہ ہے کہ نبی ﷺ یا اس امت کے عالم یا داعی کی غلطی۔اگر پائی جائے۔ تو دوسروں کے مقابلہ میں بڑی مانی جائیگی؟