قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮎ

ﰺ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ
ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ١٧٧ ١٧٧
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ١٧٨ ١٧٨
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ١٧٩ ١٧٩
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ١٨٠ ١٨٠
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ١٨١ ١٨١
27
سورۃ البقرہ آیات 0 - 177

وَءَاتَى ٱلۡمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ ذَوِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينَ وَٱبۡنَ ٱلسَّبِيلِ وَٱلسَّآئِلِينَ وَفِي ٱلرِّقَابِ

(ذَوِي ٱلۡقُرۡبَىٰ)آیت میں قرابت دار اور اس کے بعد ترتیب سے جن لوگوں کا تذکرہ ہے اس ترتیب میں اہم اور افضل کا خیال کرکے اسے پہلے ذکر کیا گیا ہے چنانچہ قرابت دار کو سب سے پہلے ذکر کیا گیا کیونکہ ان پر صدقہ کرنا صدقہ اور صلہ رحمی دونوں کا ثواب ہے ۔ ان کے بعد یتیموں کا ذکر ہے کیونکہ یہ بھی اپنی کم سنی اور حاجت مندی کی وجہ سے بہت اہم ہیں۔ پھر مساکین ہیں محتاج ہونے کی وجہ سے ،پھر مسافر ہے بے وطنی اور اجنبی ہونے کی وجہ سے اور یہ بھی کہا گیا کہ کمزور وناتواں ہونے کی وجہ سے اور پھر مانگنے اور سوال کرنے والے خواہ وہ محتاج ہوں یا نہ ہوں۔ (ابن جزی:۱؍۹۵)
سوال:آیت میں اوّل ترین اور اہم ترین چیزوں کا زیادہ خیال کیا گیا ہے ۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 177

وَءَاتَى ٱلۡمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ

جو شخص مال کی چاہت ومحبت کے باوجود محض اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لئے اسے خرچ کردے تو یہ عمل اس کے ایمان کی کھلی دلیل ہے۔اور مال کو اس کی محبت کے باوجود دے دینے کی ایک شکل یہ ہے کہ آدمی صدقہ کرے جبکہ وہ تندرست ہو اورمال کی حاجت ورغبت رکھتا ہو۔مالداری کی خواہش اور محتاجی کا اندیشہ رکھتا ہو۔اسی طرح جب مال کم ہو پھر بھی صدقہ کیا جائے تو یہ افضل صدقہ ہوگا۔اس لئے کہ اس حالت میں آدمی مال روکنا پسند کرتا ہے کیونکہ خرچ کرنے کی صورت میں اسے خالی ہاتھ ہوجانے، مال ختم ہوجانے اور فقیر ومحتاج ہوجانے کاڈر رہتا ہے۔اسی طرح مال میں جو عمدہ اور اعلیٰ ہو اسے خرچ کرنا اور اپنا جو مال زیادہ پسندیدہ ہو،اسے بھی خرچ کرنا افضل صدقات میں سے ہے۔ (السعدی:۸۳)
سوال:مال کی محبت کے باوجود،اسے خرچ کرنے کی چند شکلیں ذکر کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 177

وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلۡمُوفُونَ بِعَهۡدِهِمۡ إِذَا عَٰهَدُواْۖ وَٱلصَّٰبِرِينَ فِي ٱلۡبَأۡسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَحِينَ ٱلۡبَأۡسِۗ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُتَّقُونَ ١٧٧

یعنی:یہ لوگ جو اِن مذکورہ صفات کے حامل ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے ایمان میں کھرے ہیں۔اس لئے کہ انہوں نے اپنے کاموں اور اپنی باتوں کے ذریعہ دل سے ایمان کا ثبوت پیش کردیا۔لہذا یہی لوگ سچے ہیں اور یہی لوگ پرہیز گار (متقی) ہیں ۔اس لئے کہ انہوں نے حرام چیزوں سے پرہیز کیااور نیکیوں پر عمل کیا۔ (ابن کثیر:۱؍۱۹۸)
سوال:ایمان کی سچائی کی کیا علامت ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 177

وَٱلصَّٰبِرِينَ فِي ٱلۡبَأۡسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَحِينَ ٱلۡبَأۡسِۗ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُتَّقُونَ ١٧٧

آیت کا یہ اسلوب بیان صبرکرنے میں سخت سے سخت تر کی طرف بڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اس لئے کہ بیماری پر صبر کرنا ، محتاجی پر صبر کرنے سے زیادہ مشکل ہے اور جنگ ومقابلہ آرائی پر صبر کرنابیماری پر صبر سے زیادہ مشکل ہے۔ (الألوسی:۲؍۴۸)
سوال:کیا صبر کے الگ الگ درجات ہیں؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 178

فَمَنۡ عُفِيَ لَهُۥ مِنۡ أَخِيهِ شَيۡءٞ فَٱتِّبَاعُۢ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَأَدَآءٌ إِلَيۡهِ بِإِحۡسَٰنٖۗ

آیت میں معاف کرنے والے کو تاکیدی حکم دیاگیا کہ وہ جس سے قصاص یعنی جان کے بدلہ جان کو معاف کرکے دِیت یعنی مالی معاوضہ لینے پر راضی ہوچکا ہے، اس سے دیت کا مطالبہ کرنے میں سختی نہ کرے۔اور اگر وہ تنگ دست یعنی مفلس ونادارہو تو اسے مہلت دے اوراسی طرح حق سے زیادہ کا مطالبہ بھی نہ کرے۔
(اسی طرح آیت میں)معاف کئے گئے شخص کو وصیت ہے کہ وہ دیت کی ادائیگی میں معاف کرنے والے کے ساتھ ٹال مٹول اور بے جا تاخیر نہ کرے،نہ اس میں کمی کرے اور جوں ہی ممکن ہو ،یہ حق دے دے۔(الألوسی:۲؍۵۰)
سوال:دیت لینے یا معاف کرنے کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے فریقَین(دونوں گروہوں) کو کس بات کی وصیت کی ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 179

وَلَكُمۡ فِي ٱلۡقِصَاصِ حَيَوٰةٞ يَٰٓأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ ١٧٩

(وَلَكُمۡ فِي ٱلۡقِصَاصِ حَيَوٰةٌ) تمہارے لئے قِصاص میں زندگی ہے۔
یہ(اہل عرب کے )اس قول کا ہم معنی ہے : (اَلْقَتْلُ أَنْفٰى لِلْقَتْلِ) قتل کرنا ہی قتل کی روک تھام کا بڑا ذریعہ ہے۔مطلب یہ ہوا کہ قصاص لوگوں کو (دوسروں کی ) جان لینے سے روکتا اور لگام لگاتا ہے ۔
اور (اس کی تفسیر میں)یہ بھی کہا گیا کہ :قصاص ،قتل کو کم سے کم کرنے والا ہے۔کیونکہ یہ ایک جان کے بدلہ میں ایک ہی جان (قاتل) کا قتل ہے ۔ جبکہ زمانۂ جاہلیت میں اس کے برخلاف یہ ہوتا تھا کہ قاتل اور مقتول کے قبیلوں کے بیچ جنگ چھڑ جاتی اور نتیجہ میں لوگوں کی بڑی تعداد(جماعت) قتل کردی جاتی تھی۔ (ابن جزی:۱؍۹۶)
سوال:قصاص میں کس طرح زندگی ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 181

فَمَنۢ بَدَّلَهُۥ بَعۡدَ مَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَآ إِثۡمُهُ عَلَى ٱلَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُۥٓۚ

پس جس نے وصیت کو بدل دیا اور اس میں ہیرا پھیری کرکے اس کا حکم کچھ کا کچھ بنادیا۔نیز اس میں کچھ بڑھادیایا کچھ گھٹادیا۔اس میں وصیت کا چھپانا بدرجۂأولیٰ داخل ہے۔
(فَإِنَّمَآ إِثۡمُهُ عَلَى ٱلَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُۥٓۚ) اس کا گناہ (اور وبال) انہی پر ہوگا جو اسے بدلتے ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور متعدد علماء کہتے ہیں کہ :مرنے والے کے حق میں تو (وصیت کرنے کا)اجروثواب واجب ہوگیا اور گناہگار وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اس میں رد وبدل کیا۔ (ابن کثیر:۱؍۲۰۱)
سوال:وصیت کی دیکھ بھال کرنے اور اسے نافذ کرنے کے لئے کسی بہتر شخص کومقرر کرنے کا مسئلہ بڑا اہم ہے ۔آیت سے اس بات کو واضح کیجئے.