قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٧ ٧

٨ ٨


٩ ٩
ﭿ
١٠ ١٠



١١ ١١


١٢ ١٢

١٣ ١٣



١٤ ١٤
268
سورۃ النحل آیات 0 - 8

وَٱلۡخَيۡلَ وَٱلۡبِغَالَ وَٱلۡحَمِيرَ لِتَرۡكَبُوهَا وَزِينَةٗۚ

ان جانوروں کو انسان کبھی سواری کی ضرورت کے لئے استعمال کرتاہے او ر کبھی زیب وزینت اور سجاوٹ وٹھاٹ کے طور پر۔اللہ نے یہاں ان جانوروں کے کھانے کا ذکر نہیں کیا اس لئے کہ خچر اورگدھے کا گوشت کھانا حرام ہے اور گھوڑوں کو عموماً کھانے کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا۔ (السعدی: ۴۳۶)
سوال:آیت میں ذکر کئے ہوئے جانوروں سے ملنے والے فائدوں میں ان کو کھانے کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟

سورۃ النحل آیات 0 - 8

وَٱلۡخَيۡلَ وَٱلۡبِغَالَ وَٱلۡحَمِيرَ لِتَرۡكَبُوهَا وَزِينَةٗۚ وَيَخۡلُقُ مَا لَا تَعۡلَمُونَ ٨

(ويخلق ما لا تعلمون) اللہ اور بھی کئی چیزیں پیدا کریگا جنہیں تم نہیں جانتے۔ یعنی قرآن نازل ہونے کے بعد ایسی بہت سی چیزیں وجود میں آنے والی ہیں جن پر لوگ خشکی میں، پانی میں اور فضا میں سواریاں کریں گے اور انہیں اپنے مختلف فائدوں اور مصلحتوں کے لئے استعمال کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے بعد میں ایجاد ہونے والی ان چیزوں کا نام نہیں لیا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں صرف اسی چیز کا ذکر کرتا ہے جسے مخاطب یا سننے والے جانتے ہوں یا کم ازکم اس کی کوئی نظیر یا مثال جانتے ہوں۔اب جس چیز کی نظیر نہ تھی اگر اللہ تعالیٰ ایسی چیز کا تذکرہ فرماتا تو لوگ اسے نہ جان پاتے اور نہ اس کا مطلب سمجھ پاتے۔ لہذا ایسی جگہوں پر اللہ تعالیٰ ایسا جامع اصول اور ہمہ گیر بات بیان کرتا ہے جس میں وہ ساری چیزیں سمٹ اور سما جائیں جنہیں لوگ جانتے ہیں اور جنہیں نہیں جانتے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کیا تو ان نعمتوں کا نام لے کر ذکر فرمایا جنہیں ہم جانتے ہیں اور جن کی نظیر ہم دیکھتے ہیں جیسے کھجور،انگور اور انار وغیرہ اور جن نعمتوں کی نظیر ومثال ہم سمجھ نہیں سکتے،اللہ نے ان کا ذکر اجمالی طور پر کیا ہے۔(السعدی؍۴۳۶)
سوال:آیت کی روشنی میں بتائیے کہ جن نعمتوں کو ہم نہیں جانتے انہیں بیان کرنے میں قرآن کا کیا طریقہ ہے؟

سورۃ النحل آیات 8 - 9

وَٱلۡخَيۡلَ وَٱلۡبِغَالَ وَٱلۡحَمِيرَ لِتَرۡكَبُوهَا وَزِينَةٗۚ وَيَخۡلُقُ مَا لَا تَعۡلَمُونَ ٨ وَعَلَى ٱللَّهِ قَصۡدُ ٱلسَّبِيلِ وَمِنۡهَا جَآئِرٞۚ وَلَوۡ شَآءَ لَهَدَىٰكُمۡ أَجۡمَعِينَ ٩

اللہ تعالیٰ نے جب ان جانوروں کا ذکر کیا جنہیں ظاہری اور حسی راستوں پر چلنے کے لئے استعمال کیا جاتاہے تو اس کے بعد ہی اللہ نے معنوی اور دینی راستوں کی طرف توجہ دلادی۔قرآن میں یہ انداز بیان ملے گا کہ محسوس چیزوں (ظاہری وحسی امور)کو بیان کرتے ہوئے بیان کا رخ مفید دینی باتوں کی طرف پھیردیا جاتا ہے۔ (ابن کثیر: ۲؍۵۴۴)
سوال:اوپر ذکر کی گئی دوآیتوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 9

وَعَلَى ٱللَّهِ قَصۡدُ ٱلسَّبِيلِ وَمِنۡهَا جَآئِرٞۚ وَلَوۡ شَآءَ لَهَدَىٰكُمۡ أَجۡمَعِينَ ٩

اللہ نے جب وہ نعمت بیان کی جو جسمانی اور مادی مقاصد تک پہنچانے والے راستوں کو آسان بناتی ہے تو اب اس سے اوپر اٹھتے ہوئے اگلے درجہ میں روحانی مقاصد تک پہنچنے کے راستے کی یاددہانی کرائی اور وہ ہدایت کا راستہ ہے۔گویا اللہ تعالیٰ اس راستہ کے متعلق یہ ضمانت دے رہا ہے کہ یہ نعمت جسمانی راستوں کی سہولت وآسانی کے بالمقابل بہت بڑی نعمت ہے اس لئے کہ ہدایت کے راستے پر چلنے سے ہمیشہ کی سعادت وکامیابی ملتی ہے۔ (ابن عاشور: ۱۴؍۱۱۲)
سوال: جسمانی ومادی نعمتیں زیادہ اہم ہیں یا روحانی نعمتیں؟اور کیوں؟

سورۃ النحل آیات 0 - 9

وَعَلَى ٱللَّهِ قَصۡدُ ٱلسَّبِيلِ وَمِنۡهَا جَآئِرٞۚ وَلَوۡ شَآءَ لَهَدَىٰكُمۡ أَجۡمَعِينَ ٩

(وعلى الله قصد السبيل) اور سیدھی راہ بتانا اللہ کے ذمہ ہے۔ یعنی یہ اللہ کا کام ہے کہ دلائل و ثبوت فراہم کرکے اور رسولوں کو بھیج کر ہدایت کا راستہ واضح کردے۔ (ابن جُزَی: ۱؍۴۵۹)
سوال:اس آیت میں اللہ کی رحمت کا ایک نمونہ ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ النحل آیات 0 - 14

وَهُوَ ٱلَّذِي سَخَّرَ ٱلۡبَحۡرَ لِتَأۡكُلُواْ مِنۡهُ لَحۡمٗا طَرِيّٗا وَتَسۡتَخۡرِجُواْ مِنۡهُ حِلۡيَةٗ تَلۡبَسُونَهَاۖ

سمندر کو مسخر کرنے کا مطلب ہے: انسان کو اس میں تصرف کرنے کی صلاحیت عطا کرنا ور سمندر کو سواری کرنے اور ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک آنے جانے کے لئے آسان اور تابع بنادینا وغیرہ۔ سمندرسے اس طرح فائدے اٹھانا ہم پر اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ اگر اللہ چاہتا تو ہم پر سمندر کو مسلط کردیتا اور ہمیں اس میں ڈبودیتا۔ (القرطبی: ۱۲؍۲۹۴)
سوال:اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے سمندر کو مسخر کرکے جو نعمت عطا کی ہے۔اس پر روشنی ڈالئے.

سورۃ النحل آیات 0 - 14

وَتَرَى ٱلۡفُلۡكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ

(وترى الفلك مواخر فيه) اور آپ دیکھتے ہیں کہ کشتیاں سمندر کا پانی چیرتی ہوئی چلتی ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: آتی ہوئی اور جاتی ہوئی اور وہ اس طرح کہ تم ایک ہی وقت میں دوکشتیوں کو دیکھتے ہو،ایک آرہی ہوتی ہے اور دوسری پلٹ کر جارہی ہوتی ہے حالانکہ دونوں ایک ہی ہوا سے چلتی ہیں۔ (البغوی: ۲؍۶۰۸)
سوال: کشتیوں کو بندوں کے لئے مسخر کردینے میں اللہ کی عظیم نعمت اور قدرت بیان کیجئے.