قرآن
ﮛ
ﱆ
ﭜ ٧٢ ٧٢ ﭞ ﭟ ﭠ ٧٣ ٧٣ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ٧٤ ٧٤ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ٧٥ ٧٥ ﭱ ﭲ ﭳ ٧٦ ٧٦ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ٧٧ ٧٧ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ٧٨ ٧٨
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ٧٩ ٧٩ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ٨٠ ٨٠ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
٨١ ٨١ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ٨٢ ٨٢ ﮚ
ﮛ ﮜ ٨٣ ٨٣ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ٨٤ ٨٤
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ٨٥ ٨٥ ﯗ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ٨٦ ٨٦ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
ﯢ ﯣ ٨٧ ٨٧ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ٨٨ ٨٨ ﯵ
ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ٨٩ ٨٩ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ٩٠ ٩٠
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّلۡمُتَوَسِّمِينَ ٧٥
گہری نظر سے غوروفکر کرنا اور اہل ِفراست میں سے ہونا یہ خوبی اور صفت اس شخص میں ہوتی ہے جس کی طبیعت اچھی ہو،مزاج عمدہ ہو، اور فکر ونظر صاف ستھری ہو۔اسی طرح دل کو دنیا کی گھٹیا اور بیکار چیزوں کی چاہت سے خالی کردینے سےاور اسے گناہوں کی گندگیوں، اخلاق کی آلودگی وخرابی اور دنیا کی فضول چیزوں سے صاف و پاک کرنے سے یہ خوبی پیدا ہوتی ہے۔ (القرطبی: ۱۲؍۲۳۴)
سوال:بندہ بصیرت اور سچی فراست تک کیسے پہنچتا ہے؟
وَلَقَدۡ كَذَّبَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡحِجۡرِ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٨٠
اصحاب ِحِجر یعنی قوم ِثمود نے صرف اپنے نبی صالح علیہ السلام کو جھٹلایا تھا اور معلوم رہے کہ جس نے کسی ایک رسول کو جھٹلایا تو اس نے حقیقت میں تمام رسولوں کو جھٹلایااسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں تمام رسولوں کو جھٹلانے کی بات کہی۔ (ابن کثیر: ۲؍۵۳۶)
سوال:اصحاب ِحجر یعنی قوم ثمود کے لوگ تمام رسولوں کو جھٹلانے والے کیسے ہوگئے جبکہ انہوں نے صالح علیہ السلام کے سوا کسی کو نہیں جھٹلایا تھا؟
فَمَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ ٨٤
مال ودولت ہو،پہاڑوں میں تراشے ہوئے محفوظ مقامات اور مضبوط قلعے ہوں یا پھر ان کو ملی ہوئی جسمانی قوت وطاقت ہو۔ان میں سے کچھ بھی ان کے کام نہیں آئی۔ (القرطبی: ۱۲؍۲۴۹)
سوال:کیا مالدار ی یا مادی قوت بندے کو یا حکومتوں کو اللہ کے عذاب سے بچاسکتی ہے؟
فَٱصۡفَحِ ٱلصَّفۡحَ ٱلۡجَمِيلَ ٨٥
وہ درگزر اور معاف کرنا نہیں،جو اچھا (جمیل) نہ ہو اور جو درگزر ی بے محل ہو وہ اچھی نہیں ہے لہذاجہاں سزادینے کی ضرورت ہو وہا ں درگزر سے کام نہ لیا جائے جیسے زیادتی کرنے والے ظالموں کو سزادینا جن کے لئے سزا کے علاوہ اورکوئی چیز مفید نہیں ہوتی۔ (السعدی؍۴۳۴)
سوال: کیا درگزر کرنا برابھی ہوسکتاہے؟کس طرح؟
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَٰكَ سَبۡعٗا مِّنَ ٱلۡمَثَانِي وَٱلۡقُرۡءَانَ ٱلۡعَظِيمَ ٨٧
ابوسعید بن المُعلّی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سورۂ فاتحہ یہی “سبع مثانی” باربار دہرائی جانے والی سات آیتیں ہیں اور وہ قرآن ِعظیم ہے جو مجھے دیا گیا۔ (صحیح بخاری) (الالوسی: ۱۴؍۴۳۲)
سوال:آیت میں ذکر کی گئی “سبع مثانی” سے کیا مراد ہے؟
لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعۡنَا بِهِۦٓ أَزۡوَٰجٗا مِّنۡهُمۡ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَٱخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِينَ ٨٨
(لا تمدن عينيك) آپ اپنی آنکھیں نہ اٹھائیں۔یعنی ہم نے لوگوں کو دنیا میں زندگی کے جو سامان دے رکھے ہیں ان کی طرف آپ نظر اٹھاکر نہ دیکھیں، گویا اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ ہم نے آپ کو سبع مثانی (باربار دہرائی جانے والی سات آیتیں یعنی سورۂ فاتحہ) اور قرآن ِکریم دے دیا ہے۔ اب آپ دنیا کی طرف نہ دیکھیں کیونکہ ہم نے آپ کو جو دیا ہے وہ اس دنیا اور اسباب ِدنیا سے بہت زیادہ عظیم ہے۔ (ابن جُزی: ۱؍۵۵۴)
سوال:اس آیت میں نفس کی صفائی اور تزکیہ کا طریقہ موجود ہے جو کئی وصیتوں اور ہدایتوں پر مشتمل ہے۔ان ہدایتوں کو بیان کیجئے.
وَٱخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِينَ ٨٨
جو لوگ آپ پر ایمان لے آئے ہیں ان کے لئے آپ اپنا پہلو نرم کرلیں اور ان کے ساتھ انکساری سے پیش آئیں،آیت میں جو کہا گیا ہے کہ “اپنا بازو جھکادیں”اس کی حقیقت یہ ہے کہ پرندہ جب اپنے بچے کو شفقت سے چمٹاتا ہے تو اپنا بازو پھیلادیتا ہے اوربچے کو اس میں ڈھانپ کر سمیٹ لیتا ہے چنانچہ انسان کا اپنے پیروکاروں کو قریب کرنے کے لئے پرندے کی اس کیفیت اور صورت کو بیان کیا جانے لگا۔(القرطبی: ۱۲؍۲۵۴)
سوال:ایک مومن کا اپنے دوسرے مومن بھائیوں سے کس طرح کا تعلق ہوتا ہے؟