قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

٥٢ ٥٢
٥٣ ٥٣

٥٤ ٥٤

٥٥ ٥٥

٥٦ ٥٦
ﭿ
٥٧ ٥٧
٥٨ ٥٨
٥٩ ٥٩

٦٠ ٦٠
٦١ ٦١
٦٢ ٦٢

٦٣ ٦٣
٦٤ ٦٤

٦٥ ٦٥

٦٦ ٦٦

٦٧ ٦٧
٦٨ ٦٨
٦٩ ٦٩
ﯿ ٧٠ ٧٠
265
سورۃ الحجر آیات 0 - 52

إِذۡ دَخَلُواْ عَلَيۡهِ فَقَالُواْ سَلَٰمٗا قَالَ إِنَّا مِنكُمۡ وَجِلُونَ ٥٢

اس ڈر کی وجہ یہ تھی کہ مہمان فرشتے ان کے گھر ایسے وقت آئے تھے جو مہمانوں کے آنے کا وقت نہیں تھا لہذا ابراہیم علیہ السلام کو لگا کہ یہ لوگ ان کے ساتھ برائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ (ابن عاشور: ۱۴؍۵۸)
سوال: ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہہ کر بات کی شروعات کیوں کی کہ (إنا منكم وجلون)ہمیں تم سے ڈر لگ رہا ہے؟

سورۃ الحجر آیات 0 - 55

قَالُواْ بَشَّرۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡقَٰنِطِينَ ٥٥

چونکہ ابراہیم علیہ السلام اس بات سے پاک اور بالاتر تھے کہ وہ اللہ کی رحمت سے ناامید ہوں اس لئے فرشتوں نے ان سے نصیحت کی بات کرتے ہوئے ادب ولحاظ کامناسب طریقہ اپنایا اور جو چیز مایوس لوگوں میں شامل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے اس سے ابراہیم علیہ السلام کو خبردار کرتے ہوئے انہیں مایوس ہوجانے والوں کے گروہ میں شامل ہونے سے منع فرمایا۔(ابن عاشور: ۱۴؍۶۰)
سوال:ابراہیم علیہ السلام سے فرشتوں کی بات چیت میں ادب کاایک نمونہ ہے۔اسے بیان کیجئے.

سورۃ الحجر آیات 0 - 56

قَالَ وَمَن يَقۡنَطُ مِن رَّحۡمَةِ رَبِّهِۦٓ إِلَّا ٱلضَّآلُّونَ ٥٦

(إلا الضالون) سوائے گمراہ لوگوں کے یعنی نقصان اٹھانے والے لوگوں کے کون اپنے رب کی رحمت سے مایوس ہوتا ہے۔(کوئی بھیرب کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتا۔) اور اللہ کی رحمت سے بالکل مایوس ہوجانا بھی اللہ کی چال (مکر اور تدبیر)سے بے خوف ہوجانے کی طرح کبیرہ گناہ ہے۔ (البغوی: ۲؍۵۹۰)
سوال:کچھ گناہگار یا کچھ مصیبت زدہ لوگ اللہ کی رحمت سے ناامید ہوجاتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں کہ اللہ مجھے معاف نہیں کریگا؟یا اللہ میرے دکھ کو کبھی دور نہیں کریگا۔تو ایسے لوگوں کو آپ کیسےسمجھائیں گے؟

سورۃ الحجر آیات 0 - 65

فَأَسۡرِ بِأَهۡلِكَ بِقِطۡعٖ مِّنَ ٱلَّيۡلِ وَٱتَّبِعۡ أَدۡبَٰرَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنكُمۡ أَحَدٞ

قوم کے بڑے لوگوں کا یہ طریقہ اور دستور رہا ہے کہ جب کوئی خوف اور خطرہ کی چیز پیش آتی توخود خوف اور خطرے کی چیز سے قریب تررہتے،اپنی جان کو داؤں پر لگا کر یا دکھوں میں ڈال کر دوسروں کو خطرے سے بچاتے اور ان کا حوصلہ بڑھاتے۔وہ اس یقین کے ساتھ ایسا کرتے کہ خطرے اور خوف سے نزدیکی موت سے قریب نہیں کرتی اور نہ خطروں سے دور بھاگنا تقدیر کے سامنے کام آتاہے اور نہ نقصان سے بچاتاہے۔اور تاکہ ایسا نہ ہو کہ خود خطرے سے دور آجائیں مگر دل پیچھے کے لوگوں میں اٹکا رہے اور پیچھے والے ناراض وبددل ہوجائیں لہذا وہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں یا ان میں سے کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔ پھر اس میں اس کے علاوہ کچھ دوسری مصلحتیں بھی ہیں۔ (البقاعی: ۴؍۲۲۹)
سوال:بستی سے نکلتے وقت لوط علیہ السلام گھروالوں کے پیچھے تھے۔ اس میں کیا حکمت تھی؟

سورۃ الحجر آیات 0 - 65

فَأَسۡرِ بِأَهۡلِكَ بِقِطۡعٖ مِّنَ ٱلَّيۡلِ وَٱتَّبِعۡ أَدۡبَٰرَهُمۡ

اور لوط علیہ السلام گھر والوں کے پیچھے پیچھے چلے تاکہ یہ چیز ان کے لئے زیادہ حفاظت کا ذریعہ ہو،ٹھیک اسی طرح رسول اللہ ﷺ بھی غزوے میں پیچھے پیچھے چلتے تھے۔اس طرح آپ ہی لشکرکا پچھلا دستہ یعنی ساقہ ہوتے،کمزور کو سہارا دے کر آگے بڑھاتے اور کٹ کر پچھڑجانے والے کو اٹھاکر ساتھ ملاتے۔(ابن کثیر: ۲؍۵۳۵)
سوال:جہاد کے لئے نکلنے اور لشکر میں چلنے میں نبی ﷺ کی سنت کیا تھی؟

سورۃ الحجر آیات 0 - 65

وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنكُمۡ أَحَدٞ

وجہ یہ تھی کہ پیچھے مڑکر دیکھنے والا ثابت قدم اور باحوصلہ مرد نہیں ہے۔اس لئے کہ یا تو اسے ہماری خبر پر یقین نہیں ہے یا پھر ان ہلاک ہونے والوں کے لئے ہمدردی اور نرم دلی رکھتاہے لہذا جو پیچھے مڑکر دیکھے گا عذاب اسے بھی دبوچ لے گا۔اس حکم کا یہ بھی فائدہ اور مقصد تھا کہ وہ لوگ بستی کو چھوڑنے میں بڑھ چڑھ کر کوششیں کریں،اورچلنے میں تیز رفتاری اختیار کریں۔ساتھ ہی یہ اس بات کی واضح دلیل بنے کہ انہوں نے اپنے پیچھے جو گھر بار اور ساز وسامان چھوڑدئیے تھے،ان کی چاہت اپنے دلوں سے نکال پھینکی ہے،نیز اس بات کا ثبوت بھی بن جائیں کہ ان کے دلوں میں ان لوگوں کے لئے ترس اور رحم نہیں ہے جن پر اللہ کا غضب اور عذاب نازل ہورہا تھا جبکہ ایسا ہوسکتا تھا کہ اگر وہ مڑتے تو ایسا منظر دیکھ لیتے جس کی وہ تاب نہ لاپاتے۔ (البقاعی: ۴؍۲۲۹)
سوال:لوط علیہ السلام کے اہل ِخانہ جب بستی سے نکلے توانہیں مڑکر نہ دیکھنے کا حکم دیا گیا۔اس کی کیا حکمت تھی؟

سورۃ الحجر آیات 0 - 69

وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَلَا تُخۡزُونِ ٦٩

لوط علیہ السلام جو دعوت لے کر آئے،انہوں نے اس کے تمام پہلوؤں کو سمیٹتے ہوئے قوم کو دینی جذبہ کے ساتھ بھی ابھار کر نصیحت کی۔حالانکہ وہ کافر اور منکر تھے اور عرف ِعام یعنی رائج طریقہ کو ابھارکر بھی نصیحت فرمائی چنانچہ دینی وعرفی دونوں پہلوؤں کو ابھارتے ہوئے کہا:(واتقوا الله ولا تخزون) اور اللہ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو۔ (ابن عاشور: ۱۴؍۶۶)
سوال:لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو نصیحت کرنے میں دینی جذبہ اور عرفی جذبہ کو اکٹھا کر لیا۔اس بات کی وضاحت کیجئے.