قرآن
ﮛ
ﱆ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ١٧ ١٧ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ
ﭣ ﭤ ﭥ ١٨ ١٨ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ١٩ ١٩ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ٢٠ ٢٠ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ٢١ ٢١ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
ﮒ ﮓ ٢٢ ٢٢ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ٢٣ ٢٣
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
٢٤ ٢٤ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ٢٥ ٢٥ ﮭ ﮮ
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ٢٦ ٢٦ ﯗ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ٢٧ ٢٧ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ٢٨ ٢٨ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ٢٩ ٢٩ ﯶ ﯷ ﯸ
ﯹ ٣٠ ٣٠ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ٣١ ٣١
وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِي ٱلسَّمَآءِ بُرُوجٗا وَزَيَّنَّٰهَا لِلنَّٰظِرِينَ ١٦
یہ چیزیں دیکھنے والوں کو اس بات کی دعوت دیتی ہیں کہ وہ ان کی بناوٹ اور سجاوٹ میں سوچ بچار کریں،ان کے معانی ومقاصد میں غورکریں اور ان کے ذریعہ ان کو بنانے اور پیدا کرنے والے اللہ کے وجود پر،اس کی قدرت اور توحید پر دلیل پکڑیں۔(السعدی: ۴۳۰)
سوال:آسمان میں موجود ستارے اور سیارے کس طرح مومن بندے کا ایمان بڑھاتے ہیں؟
وَٱلۡأَرۡضَ مَدَدۡنَٰهَا
یعنی:ہم نے زمین کو خوب کشادہ بنادیا، کہ اس کے مختلف حصوں اور کناروں میں سارے انسان اور جاندار پھیل کر رہ سکیں، اس سے ملنے والی روزیاں حاصل کرسکیں اور اس کے گوشوں میں رہائش اختیار کرسکیں۔(السعدی؍۴۳۰)
سوال: انسان کا یہ سمجھنا کہ مستقبل میں زمین سے حاصل ہونے والی پیداوار اور روزیاں لوگوں کے لئے کافی نہیں ہوں گی۔یہ اللہ کے ساتھ بدگمانی ہے۔ آیت کی روشنی میں اس بات کی وضاحت کیجئے.
وَلَقَدۡ عَلِمۡنَا ٱلۡمُسۡتَقۡدِمِينَ مِنكُمۡ وَلَقَدۡ عَلِمۡنَا ٱلۡمُسۡتَـٔۡخِرِينَ ٢٤ وَإِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحۡشُرُهُمۡۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٞ ٢٥
(ولقد علمنا المستقدمين منكم)یعنی پہلے کے لوگ اور بعد والے لوگ،سب ہمارے علم میں ہیں۔
یہاں اس بات کا ذکر اس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ اس سے قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرنے (حشر)پر دلیل پکڑی جائے۔جس کا ذکر اس کے معاً بعد اللہ کے اس قول میں ہے: (وإن ربك هو يحشرهم إنه حكيم عليم)یقینا آپ کا رب ہی ان سب کو جمع کریگا،بیشک وہ حکمت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔ اس لئے جب اللہ نے تمام اگلے پچھلے لوگوں کو اپنے علم میں گھیر رکھا ہے تو پھر ان کو دوبارہ زندہ کرنا،لوٹانا اور اکٹھاکرنا اس کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ (ابن جزی: ۱؍۴۵۱)
سوال: (وإن ربك هو يحشرهم)یقیناً آپ کا رب ہی ان سب کو جمع کریگا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قول بعدمیں آیا ہے اور اس سے پہلے یہ فرمان ہے: (ولقد علمنا المستقدمين منكم)ان دونوں میں کیا مناسبت ہے؟
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن صَلۡصَٰلٖ مِّنۡ حَمَإٖ مَّسۡنُونٖ ٢٦ وَٱلۡجَآنَّ خَلَقۡنَٰهُ مِن قَبۡلُ مِن نَّارِ ٱلسَّمُومِ ٢٧
آیت کا مقصود آدم علیہ السلام کے شرف وعزت کو اجاگر کرنا نیز جس سے وہ پیدا کئے گئے اس عنصر کی پاکیزگی کو جتلانا ہے۔ (ابن کثیر: ۲؍۵۳۱)
سوال:انسان کی پیدائش اور جن کی پیدائش دونوں کو اکٹھاکیوں بیان کیا گیا ہے؟
فَإِذَا سَوَّيۡتُهُۥ وَنَفَخۡتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُۥ سَٰجِدِينَ ٢٩
فرشتوں کو آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دینے سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی کہ اسلام میں اللہ کے علاوہ کسی کے لئے سجدہ کرنا حرام ہے۔ اس کی کئی وجہیں ہیں:
غیر اللہ کے لئے سجدہ کی ممانعت کا مقصد ہے شرک کے راستہ کو بند کردینا۔اور فرشتے شرک کو انجام دینے سے معصوم ہیں۔
اسلامی شریعت کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ حق اور صلاح یعنی سچائی اور اچھائی کی آخری حد اور سب سے اونچی چوٹی تک پہنچی ہوئی ہے چنانچہ اس کے دامن میں ایسی تعلیمات وہدایات ملیں گی جو پچھلی شریعتوں کے دامن میں نہیں ہیں کیونکہ اللہ نے چاہا ہے، کہ اس دین پر چلنے والے کمال کی بلندی تک پہنچ جائیں۔
آیت میں عالَم ِ علَوی (آسمانی اور ملکوتی عالَم) کے احوال کی خبر دی گئی ہے۔ظاہر ہے وہاں کے احکام کو عالم ِ دنیا کے شرعی احکام اور تکالیف پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ (ابن عاشور: ۱۴؍۴۵)
سوال:کئی اسباب کی بناپر فرشتوں کو سجدے کا حکم،اسلام میں غیراللہ کو سجدہ کرنے کی حرمت کے منافی نہیں ہے۔ان اسباب کو بیان کیجئے.
فَإِذَا سَوَّيۡتُهُۥ وَنَفَخۡتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُۥ سَٰجِدِينَ ٢٩
آدم علیہ السلام گرچہ مٹی سے بنائے گئے تھے مگر اللہ کی طرف سے ان کے اندر پاکیزہ روح پھونکے جانے کی وجہ سے انہیں وہ حیثیت حاصل ہوگئی جس کے ذریعہ وہ بڑی شان اور عزت والے بن گئے اسی لئے اللہ نے فرمایا:(فإذا سويته ونفخت فيه من روحي فقعوا له ساجدين)تو جب میں اسے درست کرچکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا۔چنانچہ سجدہ کرنے کا تعلق اللہ نے اپنی پیدا کی ہوئی روح سے جوڑا ۔معلوم ہوا کہ یہی عزت وشرف والا معنی ہے جو ابلیس کو حاصل نہیں تھا۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۱۲۵)
سوال:آدم علیہ السلام کو دوسروں کے مقابل عزت وتکریم سے نوازا گیا۔آیت کی روشنی میں اس کی وجہ بتائیے.
فَسَجَدَ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ كُلُّهُمۡ أَجۡمَعُونَ ٣٠ إِلَّآ إِبۡلِيسَ أَبَىٰٓ أَن يَكُونَ مَعَ ٱلسَّٰجِدِينَ ٣١
اللہ تعالیٰ ہمارے باپ آدم علیہ السلام پر اپنے انعام اور احسان کا ذکر کررہا ہے۔ساتھ ہی ان کے دشمن ابلیس کی طرف سے جو کچھ ہوااسے بھی بیان کررہا ہے اور اسی کے ضمن میں ہمارے لئے اس ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراوا بھی ہے۔(السعدی؍۴۳۱)
سوال:آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے کے قصہ کی اور ابلیس کے طرز عمل کی تفصیل بتانے کا کیا مقصد ہے؟