قرآن
ﮎ
ﰺ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ١٧٠ ١٧٠ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
١٧١ ١٧١ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ١٧٢ ١٧٢ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ١٧٣ ١٧٣ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ١٧٤ ١٧٤ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ١٧٥ ١٧٥ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ
ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ١٧٦ ١٧٦
وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ كَمَثَلِ ٱلَّذِي يَنۡعِقُ بِمَا لَا يَسۡمَعُ إِلَّا دُعَآءٗ وَنِدَآءٗۚ صُمُّۢ بُكۡمٌ عُمۡيٞ فَهُمۡ لَا يَعۡقِلُونَ ١٧١
کفاركی تقلید میں مست اور منہمک رہنے اور اپنی گمراہی پر جمے رہنے کی وجہ سے وہ اپنے اوپر تلاوت کی جانے والی آیات پر دھیان نہیں دیتے اور جو کچھ ان سے بیان کیا جاتا ہے اس پر غور نہیں کرتے چنانچہ وہ اس معاملہ میں جانور وں کی طرح ہیں جنہیں پکارا تو جاتا ہے لیکن وہ اس پکار سے صرف آواز کی سر اوراس کی سرسراہٹ ہی سنتے ہیں۔ (الألوسی:۲؍۴۲(
سوال:اللہ نے کفار کے یہ (مذکورہ )اوصاف کیوں بیان کئے ہیں؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ وَٱشۡكُرُواْ لِلَّهِ إِن كُنتُمۡ إِيَّاهُ تَعۡبُدُونَ ١٧٢
نعمتوں کے ذکر کے بعد شکر ادا کرنے کا حکم ہے۔اس لئے کہ شکر گذاری میسر نعمتوں کی حفاظت کرتی ہے اورغیر موجودنعمتوں کو کھینچ کرلاتی ہے ۔اسی طرح ناشکری غیر موجودنعمتوں کو دور کردیتی ہے اورمیسر نعمتوں کو زائل وبرباد کردیتی ہے۔(السعدی:۸۱(
سوال:شکر کا نعمتوں سے کیا تعلق ہے؟
وَٱشۡكُرُواْ لِلَّهِ إِن كُنتُمۡ إِيَّاهُ تَعۡبُدُونَ ١٧٢
شکر کی حقیقت:اچھی اورپسندیدہ چیز کو خرچ کرنے کا نام ہے۔پس مال ہو یا منصب ومرتبہ ، علم ہو یا کھانے ،پینے کی اشیاء ہو ں یا کوئی اور چیز ہو،ہر نعمت کی شکرگذاری یہ ہے کہ : وہ جتنی اور جیسی ہو ،اسی کے مطابق اسے ظاہر کیا جائے ،اس میں جوضرورت سے زائد ہو اسے خرچ کیا جائے،اورکم پر قناعت کی جائے اور اجرو ثواب کی نیت سے ضرورت سے زیادہ مال اللہ کی راہ میں تجارت کے لئے لگائیں اورامانت اس کے حقداروں تک پہنچا دیں۔ (یہ سب نعمت کا شکر ادا کرنے میں داخل ہیں۔) کیونکہ بندوں کے ہاتھ سب سے فیاض حقیقی بادشاہ یعنی اللہ کے خزانوں(کی جگہیں) ہیں۔ (البقاعی:۱؍۳۱۶(
سوال: شکر کی حقیقت کیا ہے؟
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحۡمَ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ بِهِۦ لِغَيۡرِ ٱللَّهِۖ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٖ وَلَا عَادٖ فَلَآ إِثۡمَ عَلَيۡهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ ١٧٣
چونکہ یہ دین آسان ہے۔اس میں کوئی تنگی ودشواری نہ کوئی حرج اور مضائقہ ہے اسی لئے مجبور آدمی کے اوپر سے حرمت کی یہ پابندی(حکم) اٹھالی ۔ (البقاعی:۱؍۳۱۸(
سوال:شریعت ہر زمانہ اور ہر علاقہ کے لئے سازگار ہے۔کیونکہ اس میں تمام احوال کی رعایت ہے ۔یہ بات آیت کی روشنی میں بیان کیجئے.
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡتُمُونَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَيَشۡتَرُونَ بِهِۦ ثَمَنٗا قَلِيلًا أُوْلَٰٓئِكَ مَا يَأۡكُلُونَ فِي بُطُونِهِمۡ إِلَّا ٱلنَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ ١٧٤
(وَلَا يُزَكِّيهِمۡ) اس قرآن کے ذریعہ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا تزکیہ نفس کرتا ہے۔مگر اللہ حق چھپانے والے یہودی علماء اور دیگر کو پاک نہیں کریگا اس لئے کہ انہوں نے بندوں سے وہ چیز چھپارکھی ہے جس سے ان کو پاکی حاصل ہوتی۔(چنانچہ جب انہوں نے لوگوں سے پاکی کا سامان روک لیاتو بدلہ میں وہ بھی اللہ کی جانب سے پاکی کے انعام سے محروم ہوں گے۔)
اس (آیت) میں علم(دین)چھپانے کوعظیم گناہ بتایا گیا ہے۔(لَهُمۡ)اور ان کے لئے۔اس عذاب کے ساتھ (عَذَابٌ أَلِيمٌ) دردناک عذاب ہوگا۔ کیونکہ جو چیز لوگوں کو آسان راستہ پر قائم کرنےوالی تھی انہوں نے لوگوں سے اس چیز کو چھپا کر انہیں مشقت میں ڈال دیا۔ (البقاعی:۱؍۳۲۰)
سوال:اللہ کی نازل کردہ چیزیں چھپانے والوں کو پاک نہ کرنے کا کیا سبب ہے؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡتُمُونَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَيَشۡتَرُونَ بِهِۦ ثَمَنٗا قَلِيلًا أُوْلَٰٓئِكَ مَا يَأۡكُلُونَ فِي بُطُونِهِمۡ إِلَّا ٱلنَّارَ
آیاتِ الٰہی کے بدلہ لی جانے والی قیمت کو (قَلِيلًا) بہت کم اور معمولی کہاکیونکہ اس کی مدت ختم ہو جانے والی اور اس کا انجام برا ہے۔اور اس کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ :اس لئے کہ وہ جو رشوت لیتے تھے وہ بہت کم ہوتی تھی۔اور یہ آیت اگرچہ یہودی علماء اور کاہنوں کے بارے میں ہے ،لیکن اس کا معنی اورحکم ان مسلمانوں کو بھی شامل ہے جو حصولِ دنیا کی خاطر اپنی مرضی سے حق چھپاتے ہیں۔
اور آیت میں (بُطُونِ) یعنی پیٹ کا ذکر بھی ان کی بے پناہ بھوک اور بے انتہا لالچ سے آگاہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ انہوں نے غذا اور کھانے کے اپنے حصہ کے بدلہ میں اپنی آخرت بیچ ڈالی جبکہ اس (حصۂرسد وخوراک)پر کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ۔ (القرطبی:۳؍۴۸۔۴۹)
سوال:عمومی طور پر اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں؟اور لفظ (بُطُونِ) سے کیا پتہ چلتا ہے؟
فَمَآ أَصۡبَرَهُمۡ عَلَى ٱلنَّارِ ١٧٥
یعنی کس قدر تعجب ہے ان پر جو گناہ پر گناہ کرتے ہیں جو انہیں جہنم تک پہنچانے والے ہیں! (ابن کثیر: ۱؍ ۱۹۶)
سوال: انہیں جہنم کی آگ کو جھیلنے والا کس طرح کہا گیا،جبکہ وہ ابھی اس میں داخل ہی نہیں ہوئے؟