قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


١٩ ١٩

٢٠ ٢٠


ﭿ
٢١ ٢١






٢٢ ٢٢


٢٣ ٢٣

ﯿ ٢٤ ٢٤
258
سورۃ إبراهيم آیات 0 - 19

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّۚ إِن يَشَأۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَأۡتِ بِخَلۡقٖ جَدِيدٖ ١٩

(إن يشأ يذهبكم ويأت بخلق جديد) ) اگر وہ چاہے تو تمہیں ہٹادے اور تمہاری جگہ نئی مخلوق لے آئے۔ یعنی: جس طرح تمام چیزوں کو پیدا کرنا اللہ کی قدرت میں ہے بالکل اسی طرح وہ سب کو فنا کردینے اور مٹادینے پر بھی قادر ہے لہذا تم لوگ اس کی نافرمانی مت کروکیونکہ اگر تم نے اس کی نافرمانی کی تو وہ (يذهبكم ويأت بخلق جديد)تمہیں ختم کرکے ایسی مخلوق پیدا کریگا جو تم سے بہتر اور تم سے زیادہ فرمانبردار ہوگی۔ (القرطبی: ۱۲؍۱۲۵)
سوال: اگر ہم اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری چھوڑکر خواہشات نفس کے پیچھے پڑجائیں تو ہم پر کونسا عذاب آسکتا ہے؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 22

وَقَالَ ٱلشَّيۡطَٰنُ لَمَّا قُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ ٱلۡحَقِّ

جس دن فیصلہ ہوجائیگا اس دن ابلیس جہنمیوں کے بیچ کھڑاہوکر یہ خطاب کریگا۔اس کی وجہ سے ان کے غم پر غم کا،دکھ پر دکھ کا،تکلیف پر تکلیف کا اور حسرت پر اور حسرت کا اضافہ ہوجائیگا۔یعنی ابلیس کا یہ خطاب ان کے جلتی پر تیل اور زخم پر نمک چھڑکنے کا کام کریگا۔ (ابن کثیر: ۲؍۵۱۰)
سوال: ابلیس جہنمیوں سے خطاب کریگا۔اس سے کیا حاصل ہوگا؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 22

وَقَالَ ٱلشَّيۡطَٰنُ لَمَّا قُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ ٱلۡحَقِّ وَوَعَدتُّكُمۡ فَأَخۡلَفۡتُكُمۡۖ

قیامت کے دن شیطان اپنے پیروکاروں سے جو بات کہے گا،اسے اللہ تعالیٰ نے نقل کرکے بتادیا ہے تاکہ یہ سننے والوں کے لئے تنبیہ اور ڈراوا بن جائے اور اس سے انہیں اس بات پر ابھارا جائے کہ اپنے انجام کے بارے میں اچھی طرح سوچ بچار کرلیں،ساتھ ہی قیامت کے دن کی تیاری کرلیں جس کا پیش آنا بالکل یقینی ہے اور اس منظر کا تصور کریں جب شیطان یہ بات کہہ کراپنا دامن جھاڑلیگا۔لہٰذا اس منظر کو ذہن میں رکھ کر انہیں ڈرنا چاہئے اور وہ کام کرنا چاہئے جو وہاں فائدہ دے۔ (الالوسی: ۱۴؍۲۶۶)
سوال: قیامت کے دن شیطان اپنے پیروکاروں سے جو بات کہے گا،اللہ نے ہمیں اس کی اطلاع دی ہےتو اس کی کیا حکمت ہے؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 22

وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُم مِّن سُلۡطَٰنٍ إِلَّآ أَن دَعَوۡتُكُمۡ فَٱسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۖ

یہ انسان ہی ہیں جو شیطان سے دوستی کرکے اور اس کے گروہ میں شامل ہوکر خود ہی اسے اپنے اوپر مسلط کرلیتے ہیں اسی لئے شیطان کا بس اور زور ان لوگوں پر نہیں چلتا جو ایمان والے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ (السعدی؍۴۲۵)
سوال:ان لوگوں کی صفت اور پہچان کیا ہے جن پر شیطان کا زور چلتاہے؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 22

وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُم مِّن سُلۡطَٰنٍ إِلَّآ أَن دَعَوۡتُكُمۡ فَٱسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۖ

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان کیا ہے کہ شیطان کے پاس کوئی اختیار اور زور نہیں۔جبکہ ایک دوسری آیت میں اللہ نے فرمایا: ﴿إِنَّمَا سُلۡطَٰنُهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَوَلَّوۡنَهُۥ وَٱلَّذِينَ هُم بِهِۦ مُشۡرِكُونَ﴾ [النحل: 100] اس کا زور تو بس ان لوگوں پر چلتا ہے جو اسے دوست اور سرپرست بناتے ہیں اور جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ وہ زو ر اور تسلط جس کی اللہ نے یہاں نفی کی ہے اس سے مراد حجت اور دلیل ہے۔مطلب یہ ہے کہ شیطان جس چیز کی طرف دعوت دیتاہے،اس پر اس کے پاس حقیقت میں کوئی دلیل نہیں ہوتی،زیادہ سے زیادہ اتنا ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے کچھ شبہات اور شک میں ڈالنے والی باتیں پیش کرتا ہے اور برائیوں کو خوبصورت بناکر دکھاتا ہے جن سے متاثرہوکر لوگ گناہ کرنے میں بے باک اور نڈر ہوجاتے ہیں۔رہا وہ زور جس کو
اللہ تعالیٰ نے ثابت کیا ہے کہ اس کا زور چلتا ہے تو اس سے مراد شیطان کا وہ تسلط اور زور ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے دوستوں کو بہکاتا، گناہوں پر اکساتا اور نافرمانیوں کے لئے خوب آمادہ کرتاہے۔ (السعدی؍۴۲۵)
سوال: ایک آیت میں کہا گیا ہے کہ ابلیس کا کوئی زور نہیں چلتا اور دوسری آیت میں کہا گیا ہے کہ اس کا زور چلتاہے۔تو دونوں کو کس طرح سمجھیں گے؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 23

تَحِيَّتُهُمۡ فِيهَا سَلَٰمٌ ٢٣

اہل جنت آپس میں ایک دوسرے کو سلا م کریں گے اور فرشتے بھی ان کو سلام کریں گے۔(القرطبی: ۲؍۵۵۵)
سوال:ملاقات کے وقت سلام و دعا کی سب سے بہتر قسم “سلام کرنا” ہے۔اس بات کی کیا دلیل ہے؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 24

أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا كَلِمَةٗ طَيِّبَةٗ كَشَجَرَةٖ طَيِّبَةٍ أَصۡلُهَا ثَابِتٞ وَفَرۡعُهَا فِي ٱلسَّمَآءِ ٢٤

کلمہ طیبہ یعنی پاکیزہ کلمہ سے مراد توحید ہے۔یہ توحید درخت کی طرح ہے اور اس درخت پر ہر وقت جو پھل لگتے ہیں وہ نیک اعمال ہیں۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۱۱۰)
سوال:کلمہ طیبہ توحید ہے اور اعمال اس کے پھل ہیں۔اس بات کو بیان کیجئے.