قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے




١١ ١١

ﭿ
١٢ ١٢


١٣ ١٣

١٤ ١٤

١٥ ١٥

١٦ ١٦


١٧ ١٧


١٨ ١٨
257
سورۃ إبراهيم آیات 0 - 11

قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ إِن نَّحۡنُ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۖ

(ولكن الله يمنُّ على من يشاء من عباده) مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتاہے۔ یعنی: اچھی توفیق،دانائی وحکمت،علم ومعرفت اور ہدایت دے کر اس پر نوازش او ر مہربانی کرتا ہے۔ (القرطبی: ۱۲؍۱۱۵)
سوال: لوگوں کے بیچ ظاہری شکل وصورت میں یکسانیت ہونے سے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ علم وحکمت میں بھی ایک جیسے ہوں۔آیت کی مدد سے اس بات کی وضاحت کیجئے.

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 12

وَمَا لَنَآ أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى ٱللَّهِ وَقَدۡ هَدَىٰنَا سُبُلَنَاۚ وَلَنَصۡبِرَنَّ عَلَىٰ مَآ ءَاذَيۡتُمُونَاۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُتَوَكِّلُونَ ١٢

یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے کہ اللہ پر بھروسہ کرنے میں انبیاء کا مقام سب سے بلند اور ان کا مرتبہ سب سے اونچاہوتاہے ،اور اللہ کے دین کو قائم کرنے میں،دین کی نصرت ومدد میں،اللہ کے بندوں کی ہدایت ورہنمائی میں اور ان سے گمراہیوں کو ہٹانے کی کوشش وعمل میں اللہ پر بھروسہ رکھنایہ بالکل مکمل اور سب سے کامل توکل ہے۔ (السعدی؍۴۲۳)
سوال:اللہ پر بھروسہ کا سب سے اونچا اور سب سے کامل درجہ کیا ہے؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 13

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِرُسُلِهِمۡ لَنُخۡرِجَنَّكُم مِّنۡ أَرۡضِنَآ أَوۡ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَاۖ فَأَوۡحَىٰٓ إِلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ لَنُهۡلِكَنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٣

کافروں نے اپنے رسولوں کو دومیں سے ایک چیز پسند کرنے کا اختیار دیا کہ یا تو وہ ان کے دین میں لوٹ آئیں یا پھر وہ انہیں اپنی زمین اور ملک سے نکال باہر کریں گے۔اللہ تعالیٰ کاا پنے رسولوں اور نیک بندوں کے معاملہ میں یہی طریقہ رہا ہے،کیا آپ اللہ کے اس فرمان کو نہیں دیکھتے: ﴿وَإِن كَادُواْ لَيَسۡتَفِزُّونَكَ مِنَ ٱلۡأَرۡضِ لِيُخۡرِجُوكَ مِنۡهَا﴾ [الإسراء: 76] اور قریب تھا کہ وہ آپ کو اس سرزمین سے عاجز اور دلبرداشتہ کردیں تاکہ آپ کو یہاں سے نکال دیں۔ (القرطبی: ۱۲؍۱۱۶)
سوال: حق کی دعوت دینے والوں کو ان کے شہروں اور علاقوں سے بھگادینا،یہ ظالم وسرکش لوگوں کی نئی عادت ہے یا پرانی؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 14

وَلَنُسۡكِنَنَّكُمُ ٱلۡأَرۡضَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡۚ ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ ١٤

(ذلك لمن خاف مقامي وخاف وعيد)یہ انعام اس شخص کے لئے ہے جو میرے سامنے کھڑاہونے سے ڈرا اور میری دھمکی وتنبیہ سے ڈرا۔
دونوں ڈر کو اکٹھاکرنے میں یہ رہنمائی ہے کہ بندۂ مومن کو اپنے رب کے غضب سے ڈرنا چاہئے اور اس کی دھمکی سے بھی۔یہ مومن پر لازمی حق ہے اور جو لوگ اللہ کے غصہ اور اس کی دھمکی سے ڈرتے ہیں وہی پرہیزگار اور پاکباز یعنی متقی اور نیک لوگ ہوتے ہیں۔ (ابن عاشور: ۱۳؍۲۰۸)
سوال: آیت کریمہ نے مومنوں کی صفات میں سے کون سی ایک اہم صفت کی طرف اشارہ کیا ہے؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 15

وَٱسۡتَفۡتَحُواْ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٖ ١٥

(الجبار) سے مراد تکبر کرنے والا وہ شخص ہے جو اپنے اوپر کسی کا حق نہیں سمجھتا۔اور (العنيد) کا مطلب ہے حق کا دشمن اور دیدہ دانستہ اس کا مخالف،جو حق کو قبول نہ کرے بلکہ ہٹ دھرمی کے ساتھ اس کی مخالفت کرے۔ (القرطبی: ۱۲؍۱۱۷)
سوال: لوگوں میں سے کون سا شخص ناکام ونامراد ہونے اور برے خاتمہ کا زیادہ حقدار ولائق ہے؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 17

وَيَأۡتِيهِ ٱلۡمَوۡتُ مِن كُلِّ مَكَانٖ

ابراہیم تیمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اسے بدن کی ایک ایک جگہ سے موت آئیگی یہاں تک کہ بالوں کے کناروں سے بھی۔ یہ اس لئے ہوگا کہ اس کے جسم کا ہر حصہ بے پناہ تکلیف میں مبتلاہوگا،بال برابر بھی حصہ دردوالم سے محفوظ نہیں رہیگا۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں:یقیناًموت اس کے ہر جانب سے اور ہر جگہ سے آئیگی یہاں تک کہ اس کےپیروں کے انگوٹھوں سے بھی موت آئیگی۔ (القرطبی: ۱۲؍۱۲۲)
سوال:کافرو جابر شخص کو جہنم میں ہر جگہ سے موت کیسے آئیگی؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 18

مَّثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمۡۖ أَعۡمَٰلُهُمۡ كَرَمَادٍ ٱشۡتَدَّتۡ بِهِ ٱلرِّيحُ فِي يَوۡمٍ عَاصِفٖۖ لَّا يَقۡدِرُونَ مِمَّا كَسَبُواْ عَلَىٰ شَيۡءٖۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلضَّلَٰلُ ٱلۡبَعِيدُ ١٨

انہوں نے اپنے اعمال اور محنتوں کی عمارت صحیح بنیاد کے بغیر تعمیر کرلی تھی اس لئے وہ ٹک نہیں پائی اور گرگئی اور جب انہیں اپنے اعمال اور ان کے ثواب کی بہت سخت ضرورت ہوگی تب وہ انہیں موجود نہیں پائیں گے اور ان کے ثواب سے محروم رہیں گے۔(ابن کثیر: ۲؍۵۰۸)
سوال:آیت کی روشنی میں بتائیے کہ بدعات اور شرکیہ کاموں میں لاپرواہی برتنا کتنا خطرناک ہے؟