قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮙ

ﱅ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ٤٣ ٤٣
Surah Header

ﮚ

ﭦﭛﭣﭤ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ١ ١

ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ٢ ٢
ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ٣ ٣
ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ٤ ٤
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ٥ ٥
255
سورۃ الرعد آیات 0 - 43

قُلۡ كَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدَۢا بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡ وَمَنۡ عِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلۡكِتَٰبِ ٤٣

اللہ تعالیٰ نے صرف اہل کتاب سے گواہی لینے کا حکم دیا کیونکہ وہی اس معاملہ کے جانکار اور لائق تھے ۔ اور ہرمعاملہ میں صرف انہی لوگوں سے گواہی لینی چاہئے جو اس کی اہلیت وقابلیت رکھتے ہوں اور جو دوسروں کے مقابلہ میں اس معاملہ کو زیادہ اچھی طرح جاننے والے ہوں،نہ کہ ان لوگوں سے گواہی لی جائے جو اس معاملہ سے انجان اور اجنبی ہوں جیسے عرب کے ان پڑھ مشرک اور عرب کے دوسرے لوگوں سے بھی اللہ نے گواہی لینے کا حکم نہیں دیا کیونکہ ان سے گواہی لینے میں کوئی فائدہ نہیں تھا اس لئے کہ وہ اس معاملہ سے بے خبر اور ناواقف تھے۔ (السعدی؍ ۴۲۰-۴۲۱)
سوال:دوسروں کو چھوڑکر صرف اہل کتاب سے ہی گواہی کیوں لی گئی؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 1

كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ إِلَيۡكَ لِتُخۡرِجَ ٱلنَّاسَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذۡنِ رَبِّهِمۡ

(لتخرج الناس) تاکہ آپ لوگوں کو نکالیں۔اللہ کی کتاب قرآن کے ذریعہ-(من الظلمات إلى النور) اندھیروں سے روشنی کی طرف۔ یعنی کفر،گمراہی اور جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور علم کی روشنی کی طرف لائیں۔ یہ بات تمثیل کے طور پر ہے یعنی بطور مثال بیان کی گئی ہے اس لئے کہ کفر اندھیرے کی حیثیت اور درجہ میں ہے اور اسلام روشنی کی حیثیت رکھتا ہے۔ (القرطبی: ۱۲؍۱۰۲)
سوال: جو شخص اپنے دل سے اندھیرے کو نکالنا اور اس میں روشنی ڈالنا چاہتا ہو اسے کیا اورکیسا عمل کرنا چاہئے؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 1

إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَمِيدِ ١

اللہ تک پہنچانے والے راستے کا ذکر کرنے کے بعد اس کے نام (العزيز الحميد) “غالب، لائق حمد وتعریف” کو لانے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو کوئی بھی اس راستہ پر چلے گا،وہ اللہ کی عزت وغلبہ کی مدد سے غالب اور طاقتور رہے گاچاہے اللہ کے سوا اس کا کوئی حامی اور مددگار نہ ہو،نیز وہ اپنے تمام معاملات میں اچھا اور تعریف کے قابل ہوگا،اچھے انجام والا ہوگا۔ (السعدی؍ ۴۲۱)
سوال: (صراط) یعنی راستہ کو اللہ کے دوناموں (العزيز الحميد)کی طرف نسبت سے کیا فائدہ ملتا ہے؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 3

ٱلَّذِينَ يَسۡتَحِبُّونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا عَلَى ٱلۡأٓخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبۡغُونَهَا عِوَجًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ فِي ضَلَٰلِۢ بَعِيدٖ ٣

اس آیت کے معنی میں ہروہ شخص داخل ہے جو آخرت کی نعمتوں کے مقابل دنیا اور اس کی رونق و چمک دمک کو ترجیح دے،ہمیشہ دنیا کی نعمتوں اور لذتوں میں رہنا پسند کرے اور لوگوں کو اللہ کے راستہ پر چلنے سے روکے۔نبیﷺ نے فرمایا: “اِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلٰى أُمَّتِيْ الْأَئِمَةُ الْمُضِلُّوْن”۔ بلاشبہ مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ جس بات کا ڈر ہے وہ گمراہ کرنے والے پیشوا اور سردار ہیں۔یہ صحیح حدیث ہے اور آج کے زمانہ میں یہ گمراہ کرنے والے قائدین کتنی بڑی تعداد میں موجود ہیں !والله المستعان، اللہ ہی مدد گار ہے،اسی کا آسرا ہے۔ اور (يستحبون) وہ محبوب رکھتے ہیں۔کا ايك مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ دنیا کو غلط طریقوں سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ (القرطبی: ۱۲؍۱۰۴)
سوال: اللہ تعالیٰ نے آیت میں جن لوگوں کی برائی بیان کی ہے ان کی کیا صفات ہیں تاکہ ہم ان بری صفات سے بچیں؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 4

وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوۡمِهِۦ

آیت کریمہ سے اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ عربی زبان کے وہ علوم جن کے ذریعہ اللہ کے کلام اور اس کے رسول ﷺ کے کلام کی وضاحت ہوتی ہے،ان کا سیکھنا ایک مطلوب اور اللہ کی محبوب چیز ہے کیونکہ اس کے بغیر رسول اللہ ﷺ پر اتاری گئی وحی یعنی قرآن وحدیث کو جاننے اور سمجھنے کا مقصد پورا نہیں ہوسکتا۔(السعدی؍۴۲۱)
سوال: اس آیت کریمہ سے کس طرح عربی زبان سیکھنے کی اہمیت پر دلیل پکڑی جاتی ہے؟

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 5

وَذَكِّرۡهُم بِأَيَّىٰمِ ٱللَّهِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٖ ٥

(وذكرهم بأيام الله) اور آپ اللہ کے۔یادگار۔ایام کا تذکرہ کرکے ان کو وعظ ونصیحت کیجئے۔
یعنی: پچھلی امتوں کو دی گئی سزاؤں اور عذاب کے واقعات کا ذکرکرکے۔
یہ معنی بھی بتا گیا ہے کہ: بنی اسرائیل پر اللہ کے کئے گئے انعامات واحسانات کا ذکر کرکے۔
آیت کا لفظ انعام اور انتقام یعنی احسان اور سزا دونوں کے لئے عام ہے۔یعنی اس میں دونوں معانی کی گنجائش ہے۔اور اسے (اَیَّام) کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے اس لئے کہ انعام یا عذاب دونوں یادگار دنوں میں واقع ہوئے تھے۔اس میں ان ایام یعنی دنوں کی ایک شان اور بڑائی ہے جیسا کہ عرب کسی بڑے یادگار دن کو کہتے ہیں “يوم کذا ويوم كذا” اس کا دن،اس کا دن۔ (ابن جزی: ۱؍۴۴۱)
سوال: ایمان کو مضبوط بنانے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ پچھلی قوموں کی تاریخ اور ان کی سرگذشت (قصہ اور داستان)پڑھی جائے۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ إبراهيم آیات 0 - 5

وَذَكِّرۡهُم بِأَيَّىٰمِ ٱللَّهِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٖ ٥

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(إن في ذلك لآيات لكل صبار شكور) بیشک ان میں ہر صبر اور شکر کرنے والے کے لئے(عبرت کی) نشانیاں ہیں۔
یہ بات اللہ تعالیٰ نے کئی جگہوں پر فرمائی ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ رب نے اپنے بندے کے لئے جو کچھ بھی مقدر کیا ہے وہ خوشحالی ہو یا تنگی وبدحالی،نعمتیں ہوں یا مصیبتیں،اچھائیاں ہو ں جن کے ذریعہ اللہ بندے کو آزماتا ہے یا تکلیفیں ہوں۔ان سب پر صبر اور شکر سے کام لینا چاہئے، بندے کا فرض ہے کہ وہ مصیبتوں اور تکلیفو ں کا سامنا صبر کے ساتھ کرے اور نعمتوں کا سامنا شکر کے ساتھ۔ بندے کے لئے بھلائی کےجو کام آسان کئے جاتے ہیں اور جو توفیق ملتی ہے وہ بھی اللہ کی نعمتوں میں سے ہیں۔ اسی طرح وہ چیزیں بھی نعمتوں میں شامل ہیں جو بندے کے دائرہ عمل سے باہر ہیں۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۱۰۷)
سوال:مومن بندے کے لئے بہتر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مقدر کی ہوئی ہر چیز کے ساتھ صبر اور شکر کا برتاؤ کرے۔اس بات کو بیان کیجئے.