قرآن
ﮙ
ﱅ
ﮙ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ١ ١ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
ﭾ ﭿ ﮀ ٢ ٢ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ٣ ٣ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ٤ ٤ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ
ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ٥ ٥
الٓمٓرۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِۗ وَٱلَّذِيٓ أُنزِلَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَ ٱلۡحَقُّ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤۡمِنُونَ ١
اس آیت کا مضمون ہی اس سورت کا اصل مقصد ہے اور وہ ہے قرآن کی یہ خوبی اور صفت بیان کرنا کہ وہ حق ہے اورپھر اس کے دلائل وثبوت پیش کرنا۔ (البقاعی: ۴؍۱۱۸)
سوال:سورۂ رعد کا مقصد اور اس کا موضوع کیا ہے؟
وَسَخَّرَ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلّٞ يَجۡرِي لِأَجَلٖ مُّسَمّٗىۚ
سورج اور چاند کو خاص طور پر ذکر فرمایا اس لئے کہ یہ دونوں چکر لگانے والے سیاروں میں سب سے زیادہ نمایاں ہیں، اورثابت و غیر متحرک سیاروںسے زیادہ باعزت اور باعظمت ہیں، اور جب ان کو اللہ نے مسخر کررکھا ہے یعنی پوری طرح اپنے قابو میں رکھا ہے تو پھر دوسرے تمام سیاروں او ر ستاروں کا اس کی تسخیر اور ماتحتی میں ہونا زیادہ لائق او ر آسان بات ہے۔(ابن کثیر: ۲؍۴۸۱)
سوال:سورج اور چاند کو ہی بطور خاص کیوں ذکر کیا گیا ہے؟
يُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُم بِلِقَآءِ رَبِّكُمۡ تُوقِنُونَ ٢
اللہ تعالیٰ اپنی نشانیوں کو تفصیل کے ساتھ اور کھول کھول کر بیان کرتا ہے کیونکہ دلیلوں کا زیادہ اور بھرپور ہونا اور ان کا صاف اور واضح ہونا ان اسباب میں سے ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اورافعال سے تعلق رکھنے والے مسائل میں یقین حاصل ہوتا ہے خاص طور سے بڑے بڑے عقیدوں کے بارے میں ایمان اور یقین بڑھتا ہے جیسے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور اٹھائے جانےاور اللہ کے حضور اکٹھا ہونے کا عقیدہ اور قبروں سے نکالے جانے کا عقیدہ وغیرہ۔(السعدی؍۴۱۲)
سوال: عقائد کے معاملات ومسائل میں انسان کس طرح یقینی علم کے درجہ تک پہنچتا ہے؟
وَهُوَ ٱلَّذِي مَدَّ ٱلۡأَرۡضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَٰسِيَ وَأَنۡهَٰرٗاۖ وَمِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ جَعَلَ فِيهَا زَوۡجَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ٣
اس لئے کہ ان چیزوں میں غور وفکر کرنااس نتیجہ پر پہنچاتا ہے کہ ہر وہ چیز جس کی بناوٹ ایسے عمدہ طریقے اور اتنے مناسب وموزوں ڈھنگ سے کی گئی ہو اس کا ایک بنانے والا ضرور ہے جو پوری قدرت اور کامل حکمت والا ہے، وہ جو چاہے کرسکتا ہے اور جس چیز کا ارادہ کرتا ہے وہی فیصلہ نافذکرتاہے ۔(الالوسی: ۱۳؍۱۲۷)
سوال: زمین،پہاڑوں،پھلوں اور رات ودن کی پیدائش اور بناوٹ میں غور وفکر کرنے کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟
وَفِي ٱلۡأَرۡضِ قِطَعٞ مُّتَجَٰوِرَٰتٞ وَجَنَّٰتٞ مِّنۡ أَعۡنَٰبٖ وَزَرۡعٞ وَنَخِيلٞ صِنۡوَانٞ وَغَيۡرُ صِنۡوَانٖ يُسۡقَىٰ بِمَآءٖ وَٰحِدٖ وَنُفَضِّلُ بَعۡضَهَا عَلَىٰ بَعۡضٖ فِي ٱلۡأُكُلِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ٤
(لآيات) ان چیزوں میں اس بات کی کھلی دلیلیں ہیں کہ یہ سب کچھ صرف ایک ذات کا کام اور کاریگری ہے، وہی تنہا ہے جو سارے اختیارات کا مالک ہے،کامل علم والا ہے قادر مطلق ہےاور وہ اس چیز پر قادرہے کہ کسی چیز کو پہلے پیدا کرے پھر اسے طرح طرح کی قسموں میں بانٹ دے۔ یعنی الگ الگ رنگ وروپ اور شکل وصورت اور لذت والی بنادے۔ اب جو رب ایسا بااختیار علم اور قدرت والا ہے وہ مخلوق کو مارنے کے بعد دوبارہ لوٹانے اور زندہ کرنے پر بدرجہ اولیٰ قدرت رکھتا ہے ۔ (البقاعی: ۴؍۱۲۵)
سوال: نباتات کو اگانے اور ان کے الگ الگ اور طرح طرح کے ہونے سے مرنے کے بعد جزاء اور حساب کے لئے دوبارہ اٹھانے کی دلیل کیسے معلوم ہوتی ہے؟
وَفِي ٱلۡأَرۡضِ قِطَعٞ مُّتَجَٰوِرَٰتٞ وَجَنَّٰتٞ مِّنۡ أَعۡنَٰبٖ وَزَرۡعٞ وَنَخِيلٞ صِنۡوَانٞ وَغَيۡرُ صِنۡوَانٖ يُسۡقَىٰ بِمَآءٖ وَٰحِدٖ وَنُفَضِّلُ بَعۡضَهَا عَلَىٰ بَعۡضٖ فِي ٱلۡأُكُلِۚ
زمین میں ایسی بستیاں ہیں جو ایک دوسرے سے قریب اور ملی ہوئی ہیں۔ان کی مٹی ایک ہے،پانی ایک جیسا ہے اور ان میں کھیتیاں اور باغات ہیں ۔پھر بھی قدرت کا کرشمہ دیکھئے کہ ہر علاقے کے پھل،فصل اور کھجوریں دوسرے علاقے سے الگ ہوتی ہیں۔ کچھ میٹھی ہوتی ہیں تو کچھ کھٹی۔نیز یہ بھی دیکھئے کہ درخت کی ایک ہی ٹہنی کے پھل چھوٹے بڑے ،رنگ اور لذت ومزے میں ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں جبکہ ان سب پر سورج کی شعائیں اور چاند کی چاندنی یکساں طور پرپڑتی رہیں۔اس میں اللہ کی وحدانیت کی بہت بڑی اور کھلی دلیل ہے۔ (القرطبی: ۱۲؍۱۰)
سوال:زمین کے ٹکڑوں اور حصو ں کے ملے ہوئے ہونے میں ہمارے لئے کیا سبق اور نشانی ہے؟
وَإِن تَعۡجَبۡ فَعَجَبٞ قَوۡلُهُمۡ أَءِذَا كُنَّا تُرَٰبًا أَءِنَّا لَفِي خَلۡقٖ جَدِيدٍۗ
یعنی: ان کے خیال وگمان کے مطابق یہ ناممکن حد تک بعید بات ہے کہ جب وہ مرنے کے بعد سڑگل کر مٹی بن جائیں گے تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں پھر سے زندہ کرلائیگا۔دراصل انہوں نے اپنی جہالت ونادانی کی وجہ سے خالق کی قدرت کو مخلوق کی قدرت پر قیاس کیا یعنی مخلوق کی قدرت کو دیکھ کر خالق کی قدرت کا اندازہ لگایا لہذا جب انہوں نے دیکھا کہ یہ کام یعنی دوبارہ زندہ کرنا مخلوق کے بس سے باہرہے تو انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ چیز خالق کے دائرۂ قدرت سے بھی باہر ہے۔یعنی اللہ کے لئے بھی ناممکن ہے اور یہ بھول گئے کہ پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے جبکہ پہلی پیدائش سے پہلے تو وہ کچھ بھی نہیں تھے ۔ (السعدی؍ ۴۱۳)
سوال:مشرکین کی گمراہی کی وجہ خالق کو مخلوق پر قیاس کرنا ہے۔اس بات کی کچھ وضاحت اس آیت کی روشنی میں کیجئے.