قرآن
ﮘ
ﱅ
١٠٤ ١٠٤ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ١٠٥ ١٠٥ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ١٠٦ ١٠٦ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ١٠٧ ١٠٧ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ١٠٨ ١٠٨ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ١٠٩ ١٠٩
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ١١٠ ١١٠ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ
ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ١١١ ١١١
وَمَا يُؤۡمِنُ أَكۡثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشۡرِكُونَ ١٠٦
ایمان لاکر بھی مشرک ہونے والے۔ان لوگوں میں ہر وہ شخص شامل ہے جو ایک طرف اللہ کا اور اس کے خالق ہونے کا اقرار کرتا ہے تو ساتھ ہی کسی ایسی چیز کا ارتکاب بھی کرتاہے جو شرک میں شمار ہوتی ہو۔یہ شرک چاہے جس طریقہ سے ہو۔چنانچہ ان لوگوں میں قبروں کی عبادت کرنے والے،ان کے لئے نذرونیاز کرنے والے،ان کے بارے میں نفع ونقصان کا عقیدہ رکھنے والے شامل ہیں جن کے حال کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔(الالوسی: ۱۳؍۸۴)
سوال: ایک ہی انسان کے اندر ایمان اور شرک کیسے اکٹھاہوتے ہیں؟
وَمَا يُؤۡمِنُ أَكۡثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشۡرِكُونَ ١٠٦
حقیقت میں وہ اللہ کی ربوبیت یعنی رب ہونے پر ایمان رکھتے ہیں پر اس کی عبادت میں شرک کرتے ہیں جیسا کہ نبی ﷺ نے حصین الخزاعی سے کہا تھا: “يَا حصين!كَمْ تعبد” ؟اے حصین!تم کتنے معبودوں کی عبادت کرتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: سات معبودوں کی،چھ زمین پر ہیں اور ایک آسمان میں ہے۔تو آپ نے فرمایا: رغبت و امید اور خوف و دہشت کے وقت ساتوں میں کس کو معبود مانتے ہو؟ انہوں نے کہا، اس کو جو آسمان میں ہے، تو آپ نے فرمایا: “أَسْلِمْ حَتّٰى أُعُلِّمَكَ کَلِمَةً يَنْفَعُكَ اللّٰهُ تعالىٰ بِهَا”۔اسلام لے آؤ تو میں تمہیں ایک دعا سکھاؤں گا اس سے اللہ تعالیٰ تمہیں فائدہ پہنچائیگا،وہ اسلام لے آئے تو آپ ﷺنے انہیں بتایا: “قُلْ: اَللّٰهُمَّ أَلْهِمْنِيْ رُشْدِیْ وَقِنِيْ شَرَّ نفْسِيْ”۔اے اللہ! ہدایت میرے دل میں ڈال دے اور مجھے اپنے نفس کے شر سے بچالے۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۶۷)
سوال: صرف اللہ کی ربوبیت اور اس کے اسماء وصفات (اس کے ناموں اور اوصاف)پر ایمان لانا کافی نہیں ہے بلکہ توحیدالوہیت و عبادت پر بھی ایمان ضروری ہے یعنی دعا کرنے،پکارنے اورمدد مانگنے میں بھی اس کی وحدانیت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس بات کو آیت کی روشنی میں بیان کیجئے.
قُلۡ هَٰذِهِۦ سَبِيلِيٓ أَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِيۖ وَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١٠٨
آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ پر ایمان رکھنے والے آپ کے صحابہ اور تمام مومنین کو اللہ نے حکم دیااور پابند بنایا ہے کہ وہ اپنی بساط بھر لوگوں کو ایمان کی طرف بلائیں۔ (ابن عاشور: ۱۳؍۶۵)
سوال: مومن بندے کو چاہئے کہ اپنی طاقت کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے۔اس بات کو بیان کیجئے.
قُلۡ هَٰذِهِۦ سَبِيلِيٓ أَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِيۖ وَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١٠٨
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو کوئی سنت اور طریقہ(منہج اور مسلک)اختیار کرنا چاہتاہے تواسے چاہئے کہ ان لوگوں کا طریقہ اپنائے جو مرچکے ہیں اس لئے کہ جو زندہ ہے اس کے فتنہ میں پڑجانے کا ڈر اور اندیشہ باقی رہتا ہے اور نہیں کہاجاسکتا کہ وہ فتنہ سے محفوظ رہے گا۔نمونہ اور قابل اتباع بنانے کے لائق تو محمد ﷺ کے صحابہ ہی ہیں،وہ امت کے سب سے بہتر اور بھلے لوگ تھے،دل کے سب سے نیک اور اچھے،علم میں سب سے گہرے اور تکلف اور بناوٹ سے سب سے زیادہ دوراور انتہائی سیدھے سادھے تھے۔یہ وہ گروہ ہے جسے اللہ نے اپنے نبی ﷺ کی صحبت اور سنگت کے لئے اور اپنے دین کو قائم کرنے کے لئے چن لیا تھا لہذاتم ان کی فضیلت اور بلند مقام کو اچھی طرح جان لو،ان کے نقش قدم پر چلو،ان کے طور طریقہ کی پیروی کرو اور جتنا ہوسکے ان کے اخلاق وکردار اور سیرت کو مضبوطی سے تھام لو کیونکہ وہی لوگ صراط مستقیم اور سیدھے راستہ پر تھے۔ (البغوی: ۴؍۲۸۳)
سوال: سب سے بہتر اور افضل کون لوگ ہیں جنہوں نے نبی ﷺ کی سنت کو سب سے بہتر طریقے پر سمجھا اور اسی پر چلے؟
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ إِلَّا رِجَالٗا نُّوحِيٓ إِلَيۡهِم
بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں میں سے کسی عورت کی طرف شریعت و احکام کی وحی نہیں کی مطلب کسی عورت کو نبیہ نہیں بنایا۔ (ابن کثیر: ۳؍۴۷۷)
سوال: فطرت کا تقاضہ ہے کہ مرد عورت کی طر ح نہیں ہیں اور دونوں میں سے ہر ایک کے لئے وہی کام آسان کئے گئے ہیں جن کے لئے انہیں پیدا کیا گیا ہے۔ اسے بیان کیجئے.
أَفَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۗ
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی اللہ کی آیتوں میں غوروفکر کرنے سے منہ موڑتا اور کتراتا ہے اللہ اس سے ناراض ہوتا ہے۔(البقاعی: ۴؍۱۱۳)
سوال: کیا ظالموں کے انجام اور برے نتیجہ پر غورکرنا صرف مستحب ہے یاپھر یہ چیز ہر مومن بندے پر حتمی فرائض میں سے ہے؟
لَقَدۡ كَانَ فِي قَصَصِهِمۡ عِبۡرَةٞ لِّأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِۗ مَا كَانَ حَدِيثٗا يُفۡتَرَىٰ وَلَٰكِن تَصۡدِيقَ ٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَتَفۡصِيلَ كُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ١١١
قصوں وکہانیوں میں جو ہدایت ہے وہ دراصل یمان اور تقوے پر ابھارنے والی عبرت و نصیحت کی وہ باتیں ہیں جو قصوں کے بیچ آنے والی دلیلوں کو دیکھ کر حاصل ہوتی ہیں۔ ان دلیلوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں تصرف و تحکم کرنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اور یہ کہ تقویٰ وپرہیزگاری ہی دنیا وآخرت میں بھلائی کی بنیاد ہے۔اسی طرح قصوں میں رحمت و شفقت کا بھی ذکرہے کیونکہ علم وفضل اور بزرگی والوں کے قصے بتاتے ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور اس کی خصوصی توجہ اور عنایت ہوتی ہے۔ (ابن عاشور: ۱۳؍۷۲)
سوال:قصوں اور واقعات کے کچھ فائدے بیان کیجئے.