قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٧٩ ٧٩



ﭿ
٨٠ ٨٠


٨١ ٨١

٨٢ ٨٢


٨٣ ٨٣


٨٤ ٨٤

٨٥ ٨٥

ﯿ ٨٦ ٨٦
245
سورۃ يوسف آیات 0 - 79

قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأۡخُذَ إِلَّا مَن وَجَدۡنَا مَتَٰعَنَا عِندَهُۥٓ

جو شخص یہ چاہتا ہے کہ سامنے والے کو کسی معاملہ میں وہم اور غلط فہمی میں مبتلا کردے اور یہ پسند نہیں کرتا کہ اسے حقیقت کا پتہ چلے تو ایسے شخص کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ قول اور فعل میں ایسے اشارے کنائے(تعریضات) استعمال کرے جو اسے جھوٹ سے بچالیں جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے کیا کہ انہوں نے اناج ناپنے کے پیالے یا پیمانے کو اپنے بھائی بنیامین کے سامان میں رکھوادیا اور پھر اس میں سے اس انداز سے نکال دکھایا جس سے ظاہر میں لگے کہ وہ چور ہے۔حالانکہ اس میں ان کے بھائیوں کے لئے اس کوچور سمجھنے کا بس ایک وہم پیدا کرنے والا سبب و قرینہ تھا اورپھر اس کے بعد یوسف علیہ السلام نے کہا: (معاذ الله أن نأخذ إلا من وجدنا متاعنا عنده) اللہ پناہ دے اور بچائے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے اسے چھوڑکر کسی اور کو پکڑیں۔ یہاں یوسف علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ “جس نے ہمارا سامان چرایا ہے”۔(السعدی؍۴۱۱)
سوال: یوسف علیہ السلام نے جب اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھنا چاہا تو کس طرح اپنے دامن کو جھوٹ سے بچائے رکھا؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 81

وَمَا شَهِدۡنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمۡنَا وَمَا كُنَّا لِلۡغَيۡبِ حَٰفِظِينَ ٨١

اس آیت میں ایسی گواہی دینے کا جواز ملتا ہے جس کا علم چاہے جیسے بھی حاصل ہو کیونکہ شرعی اور عقلی طور پر بھی گواہی کا تعلق علم سے ہے لہذا جس کو اس کا علم ہوگا صرف اسی کی گواہی سنی جائیگی۔(القرطبی: ۱۱؍۴۲۶)
سوال: کوئی شخص ایسے معاملات کے بارے میں گواہی دیتا ہے جن کے بارے میں اسے علم اور جانکاری نہیں ہے تو اس کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 83

فَصَبۡرٞ جَمِيلٌۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأۡتِيَنِي بِهِمۡ جَمِيعًاۚ

اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں “صبر جمیل” یعنی اچھے صبر“صفح جمیل” یعنی اچھے ڈھنگ سے درگذر کرنے اور “ہجر جمیل” یعنی اچھے طریقہ سے چھوڑدینے کا ذکر فرمایا ہے۔ صبر جمیل کا مطلب وہ صبر ہے جس میں کوئی شکایت نہ ہو،ہجر جمیل سے مراد اس طرح چھوڑنا اور الگ ہونا ہے جس کے ساتھ کوئی تکلیف اور ایذا نہ دی جائے اور صفح جمیل اس طرح درگذر کرنا جس کے ساتھ کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہ کی جائے۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۶۳-۶۴)
سوال:صبرجمیل،صفح جمیل اور ہجر جمیل سے کیا مراد ہے؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 83

فَصَبۡرٞ جَمِيلٌۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأۡتِيَنِي بِهِمۡ جَمِيعًاۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ ٨٣

اللہ تعالیٰ کا دستور رہا ہے کہ سختی اورپریشانی جب انتہا درجہ کو پہنچ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پیچھے کشادگی لاتا ہے او ر غم اور تکلیف کو دور کردیتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام نے جب دیکھا کہ ان کی ابتلا اور آزمائش بڑی سخت اور سنگین ہوچکی ہے تو ان کی امید پختہ اورمضبوط ہوگئی کہ اب غم اور تنگی کے بادل چھٹنے والے ہیں،تبھی انہوں نے یہ بات کہی جو آیت میں مذکور ہے۔(الالوسی: ۱۳؍۵۱)
سوال:غم کے دور ہونے اور کشادگی کا وقت قریب ہونے کی ایک علامت ہے جسے اللہ والے جان لیتے ہیں۔ وہ علامت کیا ہے؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 84

وَقَالَ يَٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبۡيَضَّتۡ عَيۡنَاهُ مِنَ ٱلۡحُزۡنِ فَهُوَ كَظِيمٞ ٨٤

آیت سے اس بات کی دلیل پکڑی گئی ہے کہ مصیبتوں کے موقعوں پر افسوس کرنا اور رونا جائز ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی چیزوں سے رکنا اور باز رہنا شرعی پابندی کے دائرے میں نہیں آتا ہے کیونکہ کم ہی لوگ ہوتے ہیں جو سخت حالات میں خودپر قابو رکھتے ہیں، امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ نبی ﷺ اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات پر روپڑے اور فرمایا: “اِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ اِلَّا مَا يَرْضٰى رَبُّنَا وَاِنَّا لِفِرَاقِكَ يَا اِبْرَاهِيْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ”۔بیشک آنکھ آنسوبہارہی ہے،دل غمگین ہے لیکن ہم وہی بات کہیں گے جو ہمارے رب کو راضی کردے اور اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی پر بہت غمزدہ ہیں۔اور جس رونے دھونے سے منع کیا گیا ہے وہ جاہلوں کا عمل ہے یعنی اس طرح روناپیٹنا جس میں نوحہ وماتم ہو،گالوں او ر سینوں کو پیٹاجائے،گریبان کو چاک کیا جائے اور کپڑوں کو پھاڑا جائے۔ (الالوسی: ۱۳؍۵۳)
سوال: مصیبتوں کے موقع پر کیا کام مستحب اور بہتر ہے،کیا جائز اور کیا حرام ہے؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 86

قَالَ إِنَّمَآ أَشۡكُواْ بَثِّي وَحُزۡنِيٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعۡلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ ٨٦

یعنی:میں اپنی فریاد اور شکایت صرف اللہ کے سامنے کرتا ہوں،تمہارے سامنے اور نہ ہی دوسروں کے سامنے شکوہ کرتا ہوں۔ اور“بث” کا معنی ہے سخت غم،انتہائی شدید دکھ۔ (وأعلم من الله ما لا تعلمون) اور میں اللہ کی طرف سے کچھ ایسی چیزیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔ یعنی میں اللہ کے لطف وکرم اور اس کی شفقت ومہربانی کے بارے میں جو علم رکھتاہوں اس کی بدولت اللہ کے ساتھ میراگمان اچھاہے اور اس سے میری امید مضبوط ہے۔(ابن جزی:۴۲۵)
سوال: یعقوب علیہ السلام نے جو یہ بات کہی (وأعلم من الله ما لا تعلمون)اس سے ان کا کیا مقصود تھا؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 86

قَالَ إِنَّمَآ أَشۡكُواْ بَثِّي وَحُزۡنِيٓ إِلَى ٱللَّهِ

اللہ کے سامنے شکوہ کرنا صبر کے خلاف نہیں ہے،صبر کے منافی وہ شکوہ شکایت ہے جو مخلوق کے سامنے کی جائے۔(السعدی؍۴۱۱)
سوال:شکوہ کب صبر کے خلاف مانا جاتا ہے؟