قرآن
ﮘ
ﱅ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ٦٤ ٦٤ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ٦٥ ٦٥ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ﮚ ٦٦ ٦٦ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ٦٧ ٦٧ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ
ﯺ ﯻ ٦٨ ٦٨ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ
ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ٦٩ ٦٩
قَالَ هَلۡ ءَامَنُكُمۡ عَلَيۡهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُمۡ عَلَىٰٓ أَخِيهِ مِن قَبۡلُ فَٱللَّهُ خَيۡرٌ حَٰفِظٗاۖ وَهُوَ أَرۡحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ ٦٤
قرائن اور علامتیں موجود ہوں تو بدگمانی کرنا ممنوع نہیں اور نہ ہی حرام ہے۔(السعدی: ۴۱۱)
سوال: بدگمانی یا بدظنی کب حرام ہوتی ہے؟
فَٱللَّهُ خَيۡرٌ حَٰفِظٗاۖ وَهُوَ أَرۡحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ ٦٤
یعقوب علیہ السلام فرماتے ہیں: اللہ کی حفاظت ونگہبانی تمہاری حفاظت سے بہتر ہے اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ پر یعقوب علیہ السلام کا یقین کیسا تھا؟بیان کیجئے.
وَقَالَ يَٰبَنِيَّ لَا تَدۡخُلُواْ مِنۢ بَابٖ وَٰحِدٖ وَٱدۡخُلُواْ مِنۡ أَبۡوَٰبٖ مُّتَفَرِّقَةٖۖ
اس میں نظر بد سے بچاؤ کی تدبیر اختیار کرنے کی دلیل ہے۔ اور نظر بد حق ہے یعنی اس کا لگنا او راثر انداز ہونا ثابت ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: “ان العين لتدخل الرجل القبر والجمل القدر”۔ یعنی نظر بد آدمی کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی میں پہنچا دیتی ہے۔ (السلسلۃ الصحیحۃ)
نیزاس کی دلیل نبی ﷺ کا ان الفاظ میں پناہ مانگنا ہے: “أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَّهَامَّةٍ وَّمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّة”۔(بخاری)میں اللہ کےمکمل کلمات کے ذریعہ ہر شیطان اور زہریلے جانور اور ہرنظر لگانے والی آنکھ سے پناہ مانگتا ہوں۔ (القرطبی: ۱۱؍۳۹۹)
سوال:مومن بندہ نظر بد لگنے سے کیسے بچتا ہے؟
وَقَالَ يَٰبَنِيَّ لَا تَدۡخُلُواْ مِنۢ بَابٖ وَٰحِدٖ وَٱدۡخُلُواْ مِنۡ أَبۡوَٰبٖ مُّتَفَرِّقَةٖۖ وَمَآ أُغۡنِي عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٍۖ إِنِ
آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو خوف اور خطرے کی چیز سے خبردار اور ہوشیار کرے اور اس راستہ اور طریقہ کی طرف رہنمائی کرے جس میں سلامتی اور نجات ہو کیونکہ دین خیر خواہی کا نام ہے اور ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے’’۔ (القرطبی: ۱۱؍۴۰۳)
سوال: جب کسی مسلمان بھائی کے لئے نقصان کا ڈر اور خطرہ ہو تو اس وقت آپ کا کیا فرض بنتا ہے؟
وَقَالَ يَٰبَنِيَّ لَا تَدۡخُلُواْ مِنۢ بَابٖ وَٰحِدٖ وَٱدۡخُلُواْ مِنۡ أَبۡوَٰبٖ مُّتَفَرِّقَةٖۖ وَمَآ أُغۡنِي عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٍۖ إِنِ ٱلۡحُكۡمُ إِلَّا لِلَّهِۖ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُۖ وَعَلَيۡهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُتَوَكِّلُونَ ٦٧
اس بات سے یعقوب علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ بیٹوں کو معمول کے ظاہری اسباب وذرائع اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ کی توفیق و مہربانی اوراس کے لطف و بچاؤ پر اعتماد کرنے کی تعلیم دیں تاکہ اسباب پیدا کرنے والے اور توفیق دینے والے رب العالمین کے ساتھ ادب ہوسکے۔ (ابن عاشور: ۱۳؍۲۱)
سوال: کیا اسباب اختیارکرنا اللہ پر توکل اور بھروسہ کرنے کے منافی ہے؟آیت کریمہ کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.
مَّا كَانَ يُغۡنِي عَنۡهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٍ إِلَّا حَاجَةٗ فِي نَفۡسِ يَعۡقُوبَ قَضَىٰهَاۚ وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلۡمٖ لِّمَا عَلَّمۡنَٰهُ
یعقوب علیہ السلام نے جو کچھ کیا وہ اولاد کے لئے محبت اور شفقت کا طبعی نتیجہ تھا۔ایسا کرنے سے انہیں ایک قسم کا اطمینان مل گیا اور دل کا ارمان پورا ہوگیا اوریہ چیز یعقوب علیہ السلام کے علم کی کمی اور کوتاہی نہیں تھی کیونکہ وہ تو انبیاء کرام اور ربّانی علماءمیں سے تھے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: (وإنه لذو علم) بلا شبہ وہ صاحب علم تھے۔ یعنی عظیم علم کے مالک تھے اور بڑے دانش مند تھے۔(السعدی؍۴۰۲)
سوال:اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جب یہ بیان فرمایا کہ یعقوب علیہ السلام کی تدبیر اور حکمت عملی کچھ کام نہیں آئی تو پھر اس کے بعد (وإنه لذو علم)کہنے کی کیا وجہ ہے؟
وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلۡمٖ لِّمَا عَلَّمۡنَٰهُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٦٨
( لذو علم)علم والے تھے۔ یعنی یعقوب علیہ السلام جو بھی عمل کرتے تھے علم کی بنیاد پر کرتے تھے جہالت کی بناپر نہیں۔(لما علمناه) ہماری دی ہوئی تعلیم کی وجہ سے۔ یعنی ہم نے انہیں جو تعلیم دی او رجو کچھ سکھایا اس کی بناپر۔اور ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ:وہ جو بھی علم رکھتے تھے اس پر عمل کرتے تھے۔سفیان رحمہ اللہ نے فرمایا: جو اپنے علم پر عمل نہ کرے وہ عالم نہیں ہے۔ (البغوی: ۲؍۵۰۳)
سوال:کسی آدمی کے بارے میں یہ کہنا کب صحیح ہوتا ہے کہ وہ عالم ہے؟