قرآن
ﮘ
ﱄ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ٤٥ ٤٥ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ٤٦ ٤٦ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ٤٧ ٤٧ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ٤٨ ٤٨ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ٤٩ ٤٩ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ٥٠ ٥٠
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ
ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ٥١ ٥١ ﰃ
ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ٥٢ ٥٢
يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفۡتِنَا فِي سَبۡعِ بَقَرَٰتٖ سِمَانٖ يَأۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٞ
(الصديق) یعنی بہت ہی سچے کہہ کر اس شخص نے یوسف علیہ السلام کوسچائی میں مبالغہ سے متصف کیا اس لئے کہ قید خانہ میں یوسف علیہ السلام کے ساتھ رہنے کی مدت میں اس نے ان کے بارے میں جو کچھ جانااور ان کے حالات کو جانچا پرکھا تھا اس کے مطابق یہی حقیقت تھی اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فتویٰ پوچھنے والے کو مفتی یعنی فتویٰ دینے والے کی تعظیم کرنی چاہئے۔ (الألوسی: ۱۲؍۶۰۴)
سوال:مفتی اور عالم سے فتویٰ پوچھنے کا کوئی ادب بیان کیجئے.
يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفۡتِنَا فِي سَبۡعِ بَقَرَٰتٖ سِمَانٖ يَأۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٞ
خوابوں کی تعبیر کا علم شرعی علوم میں شامل ہے۔اس کو سیکھنے اور سکھانے پر انسان کو اجروثواب ملتا ہے نیز خوابوں کی تعبیر بتانا فتویٰ دینے میں داخل ہے۔اس کی دلیل دوقیدی نوجوانوں سے یوسف علیہ السلام کا یہ کہنا: (قضي الأمر الذي فيه تستفتيان)اس معاملہ کا فیصلہ ہوچکا ہے جس کے بارے میں تم مجھ سے فتویٰ پوچھ رہے تھے۔ اور بادشاہ نے کہا: (أفتوني في رؤياي)تم لوگ مجھے میرے خواب کے بارے میں فتویٰ دو ۔ اس نوجوان نے یوسف علیہ السلام سے کہا:(أفتنا في سبع بقرات)ہمیں سات گایوں کے خواب کے بارے میں فتویٰ دیجئے یعنی تعبیر بتائیے۔لہذا علم کے بغیر خواب کی تعبیر بتانے کا عمل ناجائز ہے۔ (السعدی: ۴۱۰)
سوال: شریعت میں خواب کی تعبیر بیان کرنے کی کیا حیثیت ہے؟اور آپ کے جواب کی دلیل کیا ہے؟
قَالَ تَزۡرَعُونَ سَبۡعَ سِنِينَ دَأَبٗا فَمَا حَصَدتُّمۡ فَذَرُوهُ فِي سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلٗا مِّمَّا تَأۡكُلُونَ ٤٧
یوسف علیہ السلام نے اُس نوجوان سے بادشاہ کے خواب کی تعبیر فوراً بیان کردی اور نجات پانے کے بعد یوسف علیہ السلام کی ہدایت کے باوجود اس نے بادشاہ کے پاس ان کا ذکر نہیں کیا اور بھول گیا، اس پرنوجوان کو نہ ڈانٹا پھٹکارا اور نہ ہی اس طرح کی کوئی شرط رکھی کہ پہلے مجھے جیل سے نکالا جائے،اس کے بعد تعبیر بتاؤں گا۔(ابن کثیر: ۲؍۴۶۲)
سوال: یوسف علیہ السلا م کا یہ کردار اور موقِف ان کے اخلاق اور ان کی عقل کے کامل ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اس بات کی وضاحت کیجئے.
قَالَ تَزۡرَعُونَ سَبۡعَ سِنِينَ دَأَبٗا فَمَا حَصَدتُّمۡ فَذَرُوهُ فِي سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلٗا مِّمَّا تَأۡكُلُونَ ٤٧ ثُمَّ يَأۡتِي مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ سَبۡعٞ شِدَادٞ يَأۡكُلۡنَ مَا قَدَّمۡتُمۡ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلٗا مِّمَّا تُحۡصِنُونَ ٤٨
یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر کے ساتھ ساتھ ایک بڑی اہم ہدایت بھی جوڑدی کہ قوم اورلوگوں کی مصلحت وضرورت کے تحت غلہ اور کھانے کی اشیاء لوگوں تک پہنچانے اور انہیں ذخیرہ کرکے رکھنے کا طریقہ بھی بتادیا۔(ابن عاشور: ۱۲؍۲۸۶)
سوال:یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر کے ساتھ ایک اہم ہدایت بھی دی۔اسے بیان کیجئے.
وَقَالَ ٱلۡمَلِكُ ٱئۡتُونِي بِهِۦۖ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرۡجِعۡ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسۡـَٔلۡهُ مَا بَالُ ٱلنِّسۡوَةِ ٱلَّٰتِي قَطَّعۡنَ أَيۡدِيَهُنَّۚ إِنَّ رَبِّي بِكَيۡدِهِنَّ عَلِيمٞ ٥٠
یہاں یوسف علیہ السلام نے عزیز مصرکی بیوی کا ذکر نہیں کیا بلکہ ان عورتوں کا ذکر کیا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔اس کا مقصد تھا عزیز مصرکی عزت کا پاس ولحاظ رکھنا اور اس کی بیوی کی بدکرداری پر پردہ ڈالنا۔ (ابن جزی:۱؍۴۱۸)
سوال:جیل سے نکلنے سے پہلے یوسف علیہ السلام کا عورتوں سے پوچھ تاچھ کا مطالبہ کرنا ان کی حکمت اور بردباری کی دلیل ہے۔کیسے؟
وَقَالَ ٱلۡمَلِكُ ٱئۡتُونِي بِهِۦۖ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرۡجِعۡ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسۡـَٔلۡهُ مَا بَالُ ٱلنِّسۡوَةِ ٱلَّٰتِي قَطَّعۡنَ أَيۡدِيَهُنَّۚ إِنَّ رَبِّي بِكَيۡدِهِنَّ عَلِيمٞ ٥٠
ابن عطیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:یوسف علیہ السلام کو اس بات کا اندیشہ تھا کہ ابھی قید خانہ سے نکل جانے پر انہیں بادشاہ کی طرف سے مقام ومرتبہ تو مل جائیگا اور بادشاہ ان کےناکردہ گناہ کے معاملہ کو نظر انداز کرکے خاموشی اختیار کرلے گاپھر بھی لوگ انہیں ہمیشہ اسی نظر سے دیکھیں گے اور کہیں گے: یہ وہی شخص ہے جس نے اپنے مالک کی بیوی کو پھسلایا تھا اور اس پر ڈورے ڈالے تھے۔اسی لئے یوسف علیہ السلام نے چاہا کہ ان کی بے گناہی ثابت ہوجائے اور شرافت وپاکدامنی اور بھلائی میں ان کے کردار کی بلندی پر سچائی کی مہر لگ جائے پھر وہ جیل سے باہر آئیں اور اپنا حصہ ومرتبہ پائیں۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے بادشاہ کے نمائندہ سے کہا: اپنے مالک کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھوکہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا؟(القرطبی: ۱۱؍۳۷۲)
سوال:یوسف علیہ السلام نے اپنے معاملہ کی دوبارہ تحقیق کروانی چاہی۔اس میں دانائی اور سنجیدگی کا پہلو بتائیے.
وَقَالَ ٱلۡمَلِكُ ٱئۡتُونِي بِهِۦۖ
ان آیتوں سے علم کی فضیلت واہمیت معلوم ہوتی ہے۔یعنی: احکام وشریعت کا علم،خواب کی تعبیر کا علم،نظم ونسق،انتظام وانصرام اور تربیت کے علم کی فضیلت۔ اور یہ علم وصلاحیت ظاہری شکل وصورت سے زیادہ اہم اور افضل ہے۔چاہے شکل وصورت میں یوسف علیہ السلام کے برابر ہی کیوں نہ ہو جائے کیونکہ دیکھئے یوسف علیہ السلام کو اپنی خوبصورتی کی وجہ سے ابتلا ء وآزمائش سے دوچار ہونا پڑا،جبکہ انہیں اپنے علم کی وجہ سے عزت وسربلندی ملی اور ملک میں اقتدار اور قوت حاصل ہوگئی۔ بلاشبہ دنیا اور آخرت کی ہر ہر بھلائی صحیح علم کے سبب اور نتیجہ میں ہی حاصل ہوتی ہے۔(السعدی؍۴۱۰)
سوال:یوسف علیہ السلام کے قصہ کی روشنی میں علم اور شکل وصورت کی خوبصورتی کے درمیان موازنہ کیجئے.