قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٣٨ ٣٨


٣٩ ٣٩
ﭿ


٤٠ ٤٠


٤١ ٤١



٤٢ ٤٢


٤٣ ٤٣
240
سورۃ يوسف آیات 0 - 38

مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشۡرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَيۡءٖۚ ذَٰلِكَ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ عَلَيۡنَا وَعَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشۡكُرُونَ ٣٨

یہ ہم پر اور تمام انسانوں پر اللہ کا فضل ہے کیونکہ بندوں پر اس سے بڑھ کر اللہ کی کوئی نعمت اور نوازش نہیں کہ وہ انہیں اسلام اور سیدھے دین سے نوازے۔اب جو اس دین کو قبول کرتا اور اس کی پیروی کرتا ہے تو یہ اس کی خوش قسمتی ہے کہ اسے سب سے بڑی نعمت اور سب سے عظیم الشان فضیلت مل گئی۔ (السعدی: ۳۹۸)
سوال: آپ پر اللہ کی سب سے بڑی نعمت کون سی ہے؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 38

مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشۡرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَيۡءٖۚ ذَٰلِكَ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ عَلَيۡنَا وَعَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشۡكُرُونَ ٣٨

توحید یعنی اس بات کا اقرار کرنا کہ اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے-(من فضل الله علينا)یہ ہم پر اللہ کا فضل ہے۔ یعنی اس بات کو اللہ نے وحی کے ذریعہ ہمیں عطاکیا ہے اور اسے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے (وعلى الناس) اور تمام لوگوں پر بھی اللہ کا یہ فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں لوگوں کو اس توحید کی طرف دعوت دینے والا بناکر بھیجا۔ (ولكن أكثر الناس لا يشكرون) لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔یعنی:لوگ نہیں جانتے کہ رسولوں کو بھیج کر اللہ نے ان پر کتنا بڑا احسان کیا ہے۔(ابن کثیر: ۲؍۴۶۰)
سوال: اس بات کی خبر دینے سے کہ ”اکثر لوگ شکر ادانہیں کرتے“آپ کو کیا سبق ملتا ہے؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 38

وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشۡكُرُونَ ٣٨

(ولكن أكثر الناس لا يشكرون) لیکن اکثر لوگ شکر نہیں بجالاتے۔ اللہ کی طرف سے ملنے والی توحید اور ایمان کی نعمت پر۔ (القرطبی: ۱۱؍۳۴۹)
سوال: کون سی عظیم الشان اور جلیل القدر نعمت ہے جس پر لوگوں کی شکرگذاری بہت کم ہوتی ہے؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 40

إِنِ ٱلۡحُكۡمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٤٠

حکم اکیلے اللہ کا ہی ہے۔ اور اس کے پیغمبر اسی کا حکم اور پیغام لوگوں تک پہنچاتے ہیں،پس پیغمبروں کا فیصلہ دراصل اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے،ان کا حکم اللہ کا حکم ہوتا ہے اور اسی طرح رسولوں کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہوتی ہے چنانچہ رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام جو بھی فیصلہ کریں،لوگوں کو دین کی جس بات کا حکم دیں اور شریعت کا جوقانون بتائیں،ان سب کی اتباع اور اطاعت کرنا تمام لوگوں کے لئے ضروری ہے کیونکہ سب کچھ اللہ کی طرف سے لوگوں پر عائد کیا گیا حکم ہوتاہے۔(ابن تیمیہ: ۴؍۴۳)
سوال: رسول کا حکم اصل میں اللہ کا حکم ہوتا ہے۔آیت کریمہ کی مدد سے اس بات کو بیان کیجئے

سورۃ يوسف آیات 0 - 41

يَٰصَٰحِبَيِ ٱلسِّجۡنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسۡقِي رَبَّهُۥ خَمۡرٗاۖ

یہاں یوسف علیہ السلام نے اپنے مالک کو شراب پلانے والے کا نا م لے کر خاص نہیں کیا تاکہ دوسرا شخص غمگین نہ ہوجائے اور اسے مبہم انداز میں بیان فرمایا۔(ابن کثیر: ۲؍۴۶۱)
سوال:یوسف علیہ السلام نے نام لے کر کیوں نہیں بتایا کہ وہ کون شخص ہوگا جو اپنے مالک کو شراب پلائیگا اور کون سولی پر چڑھایا جائیگا؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 42

وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٖ مِّنۡهُمَا ٱذۡكُرۡنِي عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ ذِكۡرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِي ٱلسِّجۡنِ بِضۡعَ سِنِينَ ٤٢

(فلبث في السجن بضع سنين)چنانچہ یوسف علیہ السلام قید خانہ میں کئی سال ٹھہرے رہے۔جب اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اس کا حکم پورا ہواور یوسف علیہ السلام کو قید خانہ سے نکالنے کا فیصلہ کردے تو اللہ نے اس کے لئے ایک سبب مقدر کردیا تاکہ اس کے ذریعہ یوسف علیہ السلام قید سے نکالے جائیں،ان کی شان بلند ہواور لوگوں میں ان کا مقام ومرتبہ اونچا ہو اور وہ سبب تھا بادشاہ کاخواب دیکھنا۔(السعدی؍۳۹۸)
سوال:آیت کو سامنے رکھ کر قضاء وقدر میں اللہ کی حکمت کو اجاگر کیجئے.

سورۃ يوسف آیات 0 - 42

وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٖ مِّنۡهُمَا ٱذۡكُرۡنِي عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ ذِكۡرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِي ٱلسِّجۡنِ بِضۡعَ سِنِينَ ٤٢

کوئی شخص کسی ناگوار یا بری حالت سے دوچار ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ کسی ایسے شخص سے مدد مانگے جو اسے مصیبت وپریشانی سے بچانے کی طاقت رکھتا ہے یا وہ اس کی حالت کے بارے میں اسے اطلاع یا خبر دے سکتا ہے۔یہ چیز مخلوق کے پاس شکوہ شکایت کرنے کے دائرہ میں نہیں آئیگی کیونکہ اس بات کا تعلق زندگی کے معمولات سے ہے جن کے بارے میں عر ف ِعام کا یہی چلن ہوتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے مدد لیتے رہتے ہیں اسی لئے دونوجوان قیدیوں میں سے جس کے بارے میں یوسف علیہ السلام کو یقین تھا کہ وہ رہائی اور نجات پانے والا ہے اس سے یوسف علیہ السلام نے کہا: (اذكرني عند ربك) اپنے مالک سے میرا ذکر کرنا۔(السعدی؍۴۱۰)
سوال:دنیا کے لوگ جن کاموں کی قدرت رکھتے ہیں کیا ان کاموں میں ان سے مدد مانگنا ایمانی قوت کے خلاف ہے؟