قرآن
ﮘ
ﱄ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ٣١ ٣١ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ٣٢ ٣٢ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
٣٣ ٣٣ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ
ﮦ ٣٤ ٣٤ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ٣٥ ٣٥ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ
ﯳ ٣٦ ٣٦ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ
ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ
ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ٣٧ ٣٧
وَلَقَدۡ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفۡسِهِۦ فَٱسۡتَعۡصَمَۖ وَلَئِن لَّمۡ يَفۡعَلۡ مَآ ءَامُرُهُۥ لَيُسۡجَنَنَّ وَلَيَكُونٗا مِّنَ ٱلصَّٰغِرِينَ ٣٢ قَالَ رَبِّ ٱلسِّجۡنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدۡعُونَنِيٓ إِلَيۡهِۖ وَإِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّي كَيۡدَهُنَّ أَصۡبُ إِلَيۡهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلۡجَٰهِلِينَ ٣٣
(فاستعصم) مگر وہ بچ نکلا۔ اور اس عورت کی خواہش پوری کرنے سے خود کو روک لیا۔ (أصبُ إليهن) میں ان کی طرف جھک جاؤں گا یعنی مائل اورراغب ہوجاؤں گا۔ یوسف علیہ السلام کی یہ بات دراصل اللہ کی بارگاہ میں عاجزانہ دعا تھی۔ (ابن جُزی: ۱؍۴۱۵)
سوال:جس شخص کوکوئی فتنہ یا آزمائش پیش آجائے تو اسے کیا کرنا چاہئے؟
قَالَ رَبِّ ٱلسِّجۡنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدۡعُونَنِيٓ إِلَيۡهِۖ
یوسف علیہ السلام نے گناہ کے مقابلہ میں قید کو اختیار کیا۔ایک مومن بندے کی یہی شان ہونی چاہئے کہ جب وہ دوآزمائشوں کے بیچ گھر جائے ایک طرف گناہ اور دوسری طرف دنیاوی سزا۔تو ایسی صور ت میں اسے چاہئے کہ وہ گناہ میں پڑنے کے بجائے دنیاوی تکلیف اور مصیبت کو اپنالے کیونکہ گناہ دنیا اور آخرت کے سخت عذاب اور سزا میں مبتلا کرنے والا ہے۔اسی لئے یہ چیز ایمان کی نشانیوں میں سے ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے بندے کو کفر سے بچالیا تو بندہ دوبارہ اس کفر میں واپس لوٹنے کو ویسے ہی ناپسند کرے جیسے وہ آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتاہے۔ (السعدی؍۴۰۹)
سوال: جب کسی آدمی کو گناہ کے کام اور دنیاوی سزا ان دونوں میں کسی ایک چیز کو چننے کا اختیار دیا جائے تو اسے کیا چننا چاہئے؟
قَالَ رَبِّ ٱلسِّجۡنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدۡعُونَنِيٓ إِلَيۡهِۖ وَإِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّي كَيۡدَهُنَّ أَصۡبُ إِلَيۡهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلۡجَٰهِلِينَ ٣٣
یوسف علیہ السلام کے اس قول میں عبرت اور نصیحت کے دوپہلو ہیں ایک یہ کہ: گناہوں اور نافرمانیوں کے مقابلہ میں قید وبند اور ابتلاء وآزمائش کو اختیار کرلینا۔ دوسرا:اللہ تعالیٰ سے یہ دعاکرنا کہ وہ اپنے دین پر جمائے رکھے اور اپنی اطاعت وفرمانبرداری میں لگادے۔ ورنہ جب دل کو جماؤ اور ثبات نہیں ملے گا تو گناہوں کا حکم دینے والوں کی طرف جھک جائیگااور جاہلوں،نادانوں میں سے ہوجائیگاچنانچہ اس میں سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسہ کرنا چاہئے اور اس سے مدد مانگتے رہناچاہئے کہ وہ ایمان اور اطاعت پر قدم جمادے،نیکی پر قائم رکھے۔ساتھ ہی اس میں اُن مشقتوں،آزمائشوں اور تکلیفوں پر صبر کرنے کا بیان ہے جو ایمان اور اطاعت پر جمے رہنے کی صورت میں پیش آتی ہیں۔(ابن تیمیہ: ۴؍۳۹)
سوال: آیت کریمہ میں کئی بڑی بڑی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں۔ ان میں سے بعض کو نوٹ کیجئے.
ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّنۢ بَعۡدِ مَا رَأَوُاْ ٱلۡأٓيَٰتِ لَيَسۡجُنُنَّهُۥ حَتَّىٰ حِينٖ ٣٥
یوسف علیہ السلام کے پورے حالات اور واقعات پر غور کریں تو ان میں جو باتیں معلوم ہوتی ہیں وہ یہ ہیں: سختی میں نرمی،مصیبت وآفت میں نعمت وراحت، مشکل میں آسانی، ناامیدی میں امید کی کرن اور اس وقت چھٹکارہ جب نجات کی کوئی راہ نہ ہو۔ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر کا مالک اللہ مقدر کو آدمی تک کبھی مشقت اور سختی کی حالت میں لاتا ہے اور کبھی نرمی وآسانی کے ساتھ پہنچاتا ہے اور جس معاملہ میں بندہ مشکلات کا سامنا کرتا ہے وہ انجام کے لحاظ سے اچھا ہوتا ہے اور ذمہ داری اور جوابدہی کے اعتبار سے زیادہ ہلکا اور آسان ہوتا ہے۔ (البقاعی: ۴؍۳۷)
سوال:اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے وہ فیصلے جو انسان کو دکھ اور تکلیف میں مبتلا کرتے ہیں،بندۂ مومن کو انہیں کس طرح دیکھنا چاہئے؟
إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٣٦
یوسف علیہ السلام کا کردار یہ تھا کہ قید خانہ میں جب کوئی شخص بیمار پڑتا تو اس کی عیادت کرتے او ر برابر تیمارداری کرتے رہتے۔جب کسی کے لئے مجلس میں تنگی ہوتی تو اس کے لئے کشادگی کردیتے۔جب کوئی محتاج ہوتا تو اس کی ضرورت پوری کرنے کے لئے کچھ اکٹھاکردیتے،اسی طرح وہ عبادت میں بڑی محنت کرتے تھے اور نماز کے لئے پوری رات قیام کرتے تھے۔ (البغوی: ۲؍۴۶۱)
سوال: یوسف علیہ السلام کی بھلائی اور نیکی کس حد تک تھی کہ جیل کے ساتھی ان سے خواب کی تعبیر پوچھنے لگے؟
قَالَ لَا يَأۡتِيكُمَا طَعَامٞ تُرۡزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأۡتُكُمَا بِتَأۡوِيلِهِۦ قَبۡلَ أَن يَأۡتِيَكُمَاۚ ذَٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِي رَبِّيٓۚ إِنِّي تَرَكۡتُ مِلَّةَ قَوۡمٖ لَّا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ كَٰفِرُونَ ٣٧
یہ یوسف علیہ السلام کی ذہانت اور سمجھداری تھی جب انہوں نے دیکھا کہ دوقیدیوں میں ان کی دعوت قبول کرنے کی صلاحیت ہے اور وہ یوسف علیہ السلام کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں کیونکہ ان دونوں نے کہا تھا: (إنا نراك من المحسنين)ہم دیکھتے ہیں کہ آپ اچھے اور نیک آدمی ہیں۔ اور دونوں ان کے پاس اپنے اپنے خواب کی تعبیر پوچھنے آئے تھے۔ جب یوسف علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ دونوں اپنے خواب کی تعبیر جاننے کا شوق رکھتے ہیں تو انہوں نے اس موقع کوغنیمت جانااورخواب کی تعبیر بتانے سے پہلے دونوں کو اللہ کی طرف بلایا۔ (السعدی؍۴۱۰)
سوال: داعی کے لئے ضروری ہے کہ وہ دعوت کے لئے مناسب ا وقات کو سمجھنے والا،ہوشیار اور بیدار ہو۔یہ بات آیت کی مدد سے واضح کیجئے.
إِنِّي تَرَكۡتُ مِلَّةَ قَوۡمٖ لَّا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ كَٰفِرُونَ ٣٧
جس طرح خوشحالی میں عبادت وبندگی کرنا بندے کے اوپر اللہ کا واجب حق ہے اسی طرح تنگی اور پریشانی میں بھی اللہ کی عبادت وبندگی کرنا اس پر فرض ہے۔
چنانچہ سیدنا یوسف علیہ السلام اللہ کی طرف مسلسل دعوت دیتے رہے۔پھر جب قید خانہ میں چلے گئے تو بھی یہ عمل جاری رکھا۔یہاں انہوں نے دونوجوان قیدیوں کو دعوت دی اور انہیں شرک سے منع کیا۔ (السعدی؍۴۱۰)
سوال: کیا پریشانی کے اوقات کو چھوڑکر صرف خوشحالی کے وقت عبادت پر اکتفا کرنا چاہئے؟