قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


١٥ ١٥

١٦ ١٦


١٧ ١٧
ﭿ

١٨ ١٨


١٩ ١٩

٢٠ ٢٠




٢١ ٢١

٢٢ ٢٢
237
سورۃ يوسف آیات 0 - 16

وَجَآءُوٓ أَبَاهُمۡ عِشَآءٗ يَبۡكُونَ ١٦

فیصلہ کرنے والے حاکم کی عقلمندی اور سمجھداری اس قسم کے ڈھونگ اور بہانوں سے دھوکہ نہیں کھاتی،نہ ہی ان کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرتی ہے کیونکہ فیصلہ تو واضح دلیل اور ثبوت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔(ابن عاشور: ۱۲؍۲۳۶)
سوال: حاکم(قاضی،جج،پنچ)کو صرف آنسوؤں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے بلکہ دلیل وثبوت مانگنا چاہئے۔اس بات کی دلیل دیجئے.

سورۃ يوسف آیات 0 - 18

قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ أَنفُسُكُمۡ أَمۡرٗاۖ

یعنی:میرے اور یوسف علیہ السلام کے بیچ جدائی پیدا کرنے کی بری بات کو تمہارے نفس نے تمہاری نگاہوں میں خوشنمابنادیا ہے۔ اس لئے کہ یعقوب علیہ السلام کے سامنے جو قرائن اور حالات تھے اور یوسف علیہ السلام نے ان سے جو خواب بیان فرمایا تھا ان چیزوں سے یہی بات معلوم ہوتی تھی جو انہوں (یعقوب علیہ السلام)نے کہی تھی۔ (السعدی: ۳۹۵)
سوال: وہ کون سا قرینہ تھا جس سے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے جھوٹ کا پتہ چلتا تھا؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 18

فَصَبۡرٞ جَمِيلٞۖ

سفیان ثوری رحمہ اللہ اپنے ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:صبر کی تین شکلیں ہیں: 1۔آپ اپنے درد اور تکلیف کا رونا نہ روئیں۔ 2۔ اپنی مصیبت بیان نہ کریں۔ 3۔ اپنی خود ستائی نہ کریں۔ (ابن کثیر: ۲؍۴۵۳)
سوال: صبر جمیل کی کچھ شکلیں بیان کیجئے.

سورۃ يوسف آیات 0 - 18

فَصَبۡرٞ جَمِيلٞۖ وَٱللَّهُ ٱلۡمُسۡتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ١٨

"الصبر الجميل" اس صبر کو کہتے ہیں جس میں کوئی شکوہ شکایت نہ ہو۔یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: ﴿إِنَّمَآ أَشۡكُواْ بَثِّي وَحُزۡنِيٓ إِلَى ٱللَّهِ﴾ [يوسف: 86] میں اپنی پریشانی اور غم کا شکوہ بس اللہ سے کرتا ہوں۔ساتھ ہی یہ بھی ان کا قول تھا: (فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون) پس صبر ہی بہتر ہے اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں پر اللہ ہی سے مدد کی طلب ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ کی جناب میں شکوہ کرنا،صبر جمیل کے خلاف نہیں ہے۔ (ابن تیمیہ:۴؍۲۲)
سوال: صبر جمیل کسے کہتے ہیں؟اور کیا اللہ کی بارگاہ میں شکایت کرنا اس صبرجمیل کے خلاف ہے؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 19

وَجَآءَتۡ سَيَّارَةٞ فَأَرۡسَلُواْ وَارِدَهُمۡ فَأَدۡلَىٰ دَلۡوَهُۥۖ قَالَ يَٰبُشۡرَىٰ هَٰذَا غُلَٰمٞۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَٰعَةٗۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ ١٩

(والله عليم بما يعملون)اور جو کچھ وہ کررہے تھے اللہ اسے خوب جانتا تھا۔ یعنی: یوسف علیہ السلام کے بھائی اور انہیں خریدنے والے جو حرکتیں کررہے تھے اللہ تعالیٰ کوسب کچھ اچھی طرح معلوم تھا اور وہ اس پورے معاملہ کو بدل دینے اور روک دینے پر پوری طرح قادر تھالیکن اس نے اپنی حکمت اور پہلے سے کئے ہوئے فیصلہ کی بنیاد پر یہ سب کچھ ہونے دیا تاکہ وہ چیز پوری ہوجائے جسے اللہ نے مقدر اور متعین فرمادیا تھا۔ اس بیان میں اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اشارہ کررہا ہے اور انہیں تسلی بخش اطلاع دے رہا ہے کہ آپ کی قوم جو آپ کو اذیت وتکلیف پہنچارہی ہے میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں اور انہیں روکنے پر پوری قدرت رکھتا ہوں لیکن میں انہیں ڈھیل اور مہلت دے رہا ہوں۔پھر بالآخر فیصلہ آپ کے حق میں اور ان کے خلاف ہوگا جیسے میں نے یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں کے مقابلہ میں حکومت،کامیابی اور اچھے انجام سے نوازا تھا۔ (ابن کثیر: ۲؍۴۵۴)
سوال: آیت کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: (والله عليم بما يعملون)اللہ ان کے اعمال کو اچھی طرح جانتا تھا۔ کے ساتھ ختم کرنے کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 22

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيۡنَٰهُ حُكۡمٗا وَعِلۡمٗاۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٢٢

رہی روشنی،علم وحکمت اور دانائی تو اس کے متعلق یوسف علیہ السلام کے قصہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بتاتا ہے: (ولما بلغ أشده آتيناه حكمًا وعلمًا وكذلك نجزي المحسنين)اور جب یوسف علیہ السلام اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے انہیں حکمت اور علم عطافرمایااور ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ا س سے معلوم ہوا کہ یہ چیزیں ہر بھلائی کرنے والے کو ملتی ہیں۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۲۲)
سوال: ہر بھلے اور نیک آدمی کو روشنی،علم اور حکمت کا حصہ ملتا ہے۔آیت کی مدد سے اسے بیان کیجئے.

سورۃ يوسف آیات 0 - 22

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيۡنَٰهُ حُكۡمٗا وَعِلۡمٗاۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٢٢

محسنین یعنی بھلائی اور احسان کرنے والوں کاذکر کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں جو نعمت ملی تھی وہ در اصل ان کے احسان کے سبب تھی۔ (ابن عاشور: ۱۲؍۲۴۸)
سوال: احسان کی صفت کے فائدوں میں سے ایک فائدہ بیان کیجئے.