قرآن
ﮗ
ﱄ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ٨٩ ٨٩ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ
ﭱ ﭲ ٩٠ ٩٠ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ٩١ ٩١ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ٩٢ ٩٢ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ٩٣ ٩٣ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ٩٤ ٩٤
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ٩٥ ٩٥
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ٩٦ ٩٦ ﯷ ﯸ
ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ٩٧ ٩٧
وَيَٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيٓ أَن يُصِيبَكُم مِّثۡلُ مَآ أَصَابَ قَوۡمَ نُوحٍ أَوۡ قَوۡمَ هُودٍ أَوۡ قَوۡمَ صَٰلِحٖۚ
شعیب علیہ السلام کے قصہ میں بہت سے فائدے اور عبرت کی باتیں ہیں۔(ان میں سے ایک یہ ہے): امتوں کے مختلف قسم کے عذاب میں پکڑے جانے میں اور ان کی تباہی کے واقعات میں لوگوں کے لئے ڈراوا اور دھمکی ہے اور بہتر ہے کہ وعظ ونصیحت، ڈانٹ ڈپٹ اور تنبیہ کے دوران ایسے واقعات بیان کئے جائیں جن میں مجرموں پر عذاب نازل ہونے کا ذکر ہے۔اسی طرح تقویٰ اور نیکی کے کاموں پر ابھارنے اور رغبت دلانے کے وقت ان واقعات کو بیان کرنا چاہئے جن میں نیک لوگوں کو اللہ کی طرف سے عزت او ر انعام دئیے جانے کا تذکرہ ہے۔ (السعدی: ۳۸۹)
سوال: اس آیت میں دعوت کا ایک اسلوب موجود ہے جسے شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوت دیتے ہوئے اختیار کیا تھا وہ کیا ہے؟
وَٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِۚ إِنَّ رَبِّي رَحِيمٞ وَدُودٞ ٩٠
(ودود)کے دومعنی ہیں۔ایک یہ کہ وہ مومنوں سے محبت کرنے والا ہے اور دوسرا یہ کہا گیا ہے کہ وہ “اَلْمَوْدُوْد” کے معنی میں ہے یعنی جس سے مومنین محبت کرتے ہیں۔(البغوی: ۲؍۱۲۴)
سوال:اللہ کے نام (ودود)کا معنی بتائیے اور اس آیت سے آپ کو کیا فائدہ معلوم ہوتا ہے؟
قَالُواْ يَٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيرٗا مِّمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَىٰكَ فِينَا ضَعِيفٗاۖ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ لَرَجَمۡنَٰكَۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيزٖ ٩١ قَالَ يَٰقَوۡمِ أَرَهۡطِيٓ أَعَزُّ عَلَيۡكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَٱتَّخَذۡتُمُوهُ وَرَآءَكُمۡ ظِهۡرِيًّاۖ
قوم کا شعیب علیہ السلام کو حقیرو کمتر سمجھنا جب کہ وہ اللہ کے رسول تھے، اللہ کو کمتر سمجھنے جیسا تھا۔
اسی لئے شعیب علیہ السلام نے قوم سے کہا: (أرهطي أعز عليكم من الله واتخذتموه وراءكم ظهريًا)کیا تمہارے نزدیک میرے قبیلے کے لوگ اللہ سے زیادہ عزت والے ہیں کہ تم نے اسے پس پشت ڈال دیا ہے۔ (ابن جُزی: ۱؍۴۰۴)
سوال:عالم یا داعی کو دینداری کی وجہ سے کمتر سمجھنا اصل میں اللہ عزوجل کی شان کو کمتر سمجھنا اور اس کی عزت گھٹانا ہے۔اسے بیان کیجئے.
قَالُواْ يَٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيرٗا مِّمَّا تَقُولُ
قوم نے یہ بات اس لئے کہی تھی کہ انہیں شعیب علیہ السلام کی دعوت سے بغض اور دشمنی تھی اور ان کی شخصیت سے نفرت تھی۔ (السعدی: ۳۸۸)
سوال: کیا وجہ تھی کہ شعیب علیہ السلام کی بات قوم کی سمجھ میں نہیں آتی تھی؟
وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ لَرَجَمۡنَٰكَۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيزٖ ٩١
اللہ تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعہ مومنوں کا بچاؤ کرتا ہے۔ان میں سےکبھی تو کچھ اسباب کا انہیں علم ہوتا ہے اور کبھی ان اسباب کا علم بالکل نہیں ہوپاتا۔چنانچہ کبھی ان کے قبیلہ کو یا ہم وطن کافروں کو بچاؤ کا ذریعہ بنادیتا ہے جیسے شعیب علیہ السلام کو ان کے قبیلہ اور برادری کے سبب سنگسار کئے جانے سے بچایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے تعلقات اور ربط وضبط بنانے کی کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جن کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کا بچاؤ اور ان کی حفاظت کا فائدہ حاصل ہوسکتا ہوبلکہ بعض حالات میں ایسے تعلقات بنانا ضروری ہوجاتا ہے۔ اس لئے کہ اصلاح اور سدھار کا کام اتنا ہی مطلوب ہے جتنی طاقت ہو اور جتنا ممکن ہو۔ (السعدی: ۳۸۹)
سوال: کیا مسلمان کے لئے ان دنیوی اسباب کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا جائز ہے جن کے ذریعہ دین کی حمایت وحفاظت ہوسکتی ہو؟
وَلَمَّا جَآءَ أَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا شُعَيۡبٗا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ بِرَحۡمَةٖ مِّنَّا وَأَخَذَتِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ ٱلصَّيۡحَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دِيَٰرِهِمۡ جَٰثِمِينَ ٩٤
یہاں یہ بتایا ہے کہ ان کو (الصيحة)زبردست چیخ یا چنگھاڑنے آدبوچا جبکہ سورۂ اعراف میں (الرجفة) کا لفظ آیا ہے جس کا معنی زلزلہ اور بھونچال ہے ۔ اورسورۂ شعراء میں( عذاب يوم الظلة) یعنی سائبان کے دن کے عذاب کا ذکر ہے معلوم ہوا کہ وہ لوگ اگرچہ ایک ہی امت تھے لیکن عذاب کے دن ان پر یہ تینوں قسم کے عذاب اکٹھا ہوگئے اور وہ ان سب سزاؤں میں مبتلا ہوئے۔مگر قرآن نے ہر جگہ اُ سی عذاب کا ذکر کیا ہے جو اُس جگہ کے مضمون او ر سیاق سے مناسبت رکھتا ہے۔ (ابن کثیر: ۲؍۴۳۹)
سوال:اللہ تعالیٰ نے قوم ِشعیب کے عذاب کی تین صفات یا صورتیں بیان فرمائی ہیں۔آپ ان آیتوں کو کس طرح جمع(ایک دوسرے کے موافق) کروگے؟
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَا وَسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٍ ٩٦ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِۦ
اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی قوم کے سرداروں کی طرف بھیجا۔ کیونکہ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی پیروی کی جاتی ہے اور دوسرے لوگ ان کے تابع اور پیچھے چلنے والے ہوتے ہیں۔ (السعدی: ۳۸۹)
سوال: فرعون کے درباریوں اور سردار وں کو بطور خاص کیوں ذکر کیا گیا جبکہ موسیٰ علیہ السلام پوری قوم کی طرف رسول بناکر بھیجے گئے تھے؟