قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮎ

ﰺ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ١٤٦ ١٤٦
ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ١٤٧ ١٤٧
ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ١٤٨ ١٤٨
ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ١٤٩ ١٤٩
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ١٥٠ ١٥٠
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ١٥١ ١٥١
ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ١٥٢ ١٥٢
ﯯ ﯰ ﯱ
ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ١٥٣ ١٥٣
23
سورۃ البقرہ آیات 0 - 148

فَٱسۡتَبِقُواْ ٱلۡخَيۡرَٰتِۚ

جو شخص دنیا میں بھلائیوں اور نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والا ہوگا وہی آخرت میں جنت کی طرف بازی لے جائیگا۔لہٰذا مخلوقات میں سب سے اونچا درجہ ان کا ہوگا جو نیکیوں میں سب سے آگے ہوں گے۔اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ دین کے تمام اعمال میں فضیلت کا پہلواور فضیلت والی صفت اختیار کرنا چاہئے جیسے نماز کو اول وقت میں اداکرنا، روزہ، حج،عمرہ اور زکاۃ کی ادائیگی جلد ازجلد کرکے بریء الذمہ ہوجانا،اسی طرح عبادات کی سنتوں اور آداب کا اہتمام کرنا۔سبحان اللہ !کتنی جامع اور کس قدر مفید آیت ہے! (السعدی: ۷۳)
سوال:اس آیت کے الفاظ کم، معانی زیادہ ہیں۔اس کی مختصر وضاحت کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 149

وَمِنۡ حَيۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۖ وَإِنَّهُۥ لَلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَۗ

جس شخص کا دل نماز میں غیر اللہ کی طرف لگاہو تو اس کے بدن کا رخ کعبہ کی طرف ہونا بے فائدہ ہے۔اس لئے کہ (نماز میں کعبہ کی طرف رخ کرنا) برحق حکم ہے۔اس کی حقیقت یہ ہے کہ (چہرے کے ساتھ )دل بھی متوجہ ہو۔لہٰذا جس کسی کا دل نماز میں مخلوقات میں سے کسی بھی چیز کی طرف متوجہ ہوجائے تو وہ اس کی مانند ہے جو اپنے چہرے کو قبلہ کی الٹی سمت گھمالے اور قبلہ اس کے چہرہ کے پیچھے کی طرف ہوجائے۔(البقاعی:۱؍۲۷۲)
سوال:قبلہ کی طرف متوجہ ہونے کی حقیقت کیا ہے اور کیوں؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 152

فَٱذۡكُرُونِيٓ أَذۡكُرۡكُمۡ وَٱشۡكُرُواْ لِي وَلَا تَكۡفُرُونِ ١٥٢

ہر ذکر کی اپنی خصوصیت اور اپنا الگ فائدہ ہے۔جہاں تک ‘‘تہلیل’’ (لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ) کاتعلق ہے تو اس کا فائدہ توحید ہے۔میری مراد خاص قسم کی توحیدہے۔ اس لئے کہ توحیدِ عام تو ہر مومن کو میسرہے اور تکبیر(اللہ اکبرکہنا) کا فائدہ ہےاللہ عزوجل کی تعظیم وبزرگی اور بڑائی بیان کرنااور رہی حمد وتعریف نیز اللہ کے وہ نام جن کا معنی احسان اور رحمت ہوجیسے الرحمن،الرحیم،الکریم،الغفار اور ان کی طرح دوسرے نام۔تو ان کے فائدے کے تین مقامات ہیں اور وہ یہ ہیں: 1۔ شکر 2۔ مضبوط امید 3۔ محبت۔کیونکہ احسان کرنے والا یقینی طور پر محبوب ہوتا ہے۔ (ابن جزی:۱؍۸۸)
سوال:ہر ذکر کا مومن بندے کے دل میں خاص فائدہ اور اثر ہوتا ہے ۔اس بات کو مثال سے بیان کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 152

فَٱذۡكُرُونِيٓ أَذۡكُرۡكُمۡ وَٱشۡكُرُواْ لِي وَلَا تَكۡفُرُونِ ١٥٢

ہر ذکر کی اپنی خاصیت اور اپنا الگ فائدہ ہوتا ہے اللہ کے وہ نام جن کا مطلب ہرچیز سے باخبر اور مطلع ہونا نیزادراک اوراحاطہ کرناہوتا ہے جیسے (الْعَلِيْمُ) (جاننے والا) (السَّمِيْعُ) (سننے والا) (الْبَصِيْرُ) (دیکھنے والا) (الْقَرِیْبُ) اور ان معانی کے دوسرے اسماء؛ تو ان ناموں کے ذریعہ ذکر کرنے کا فائدہ واثر مراقبہ ہےیعنی اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور نگہبانی کا احساس ہے ۔رہا نبی ﷺ پردرود بھیجنا ؛تو اس کا فائدہ اللہ کے لئے(رسول ﷺ سے) محبت میں زیادتی اور شدت نیز اتباعِ سنت کی پابندی ہے۔رہا استغفار تو اس سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ بندہ نیکی اور تقویٰ پر مضبوطی سے قائم رہتا ہے اور توبہ کی شرطوں کا پورا لحاظ رکھتا ہے۔ساتھ ہی یہ بتاتا ہے کہ پچھلے گناہوں کی وجہ سےاس کا دل پسیج گیا ہے۔ (ابن جزی:۱؍۸۸(
سوال:بندہ اپنے رب کا ذکر اس کی صفات:(الْعَلِيْمُ) (جاننے والا) (السَّمِيْعُ) (سننے والا) (الْبَصِيْرُ) (دیکھنے والا) (الْقَرِیْبُ) کے ذریعہ کرتا ہے تو اس کاکیا اثر ہوتا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 152 - 153

وَٱشۡكُرُواْ لِي وَلَا تَكۡفُرُونِ ١٥٢ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱسۡتَعِينُواْ بِٱلصَّبۡرِ وَٱلصَّلَوٰةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ ١٥٣

شکر کا حکم بیان کرنے کے بعد اللہ نے صبر کرنے ،سیدھی راہ پر چلنے اور صبرو نماز سے مدد لینے کا بیان شروع فرمایا۔اس لئے کہ بندہ یا تو نعمت میں ہوگا تو اس حالت میں وہ شکر اداکرتا ہے یا پھر سختی اور پریشانی میں ہوگا تو اس حال میں وہ صبر کرتا ہے۔ (ابن کثیر:۱؍۱۸۷(
سوال: بندہ دوحالت سے خالی نہیں رہتا۔وہ دونوں حالتیں کیا ہیں؟اور ہر دوحالتوں میں اس کا کیا فرض ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 153

ٱسۡتَعِينُواْ بِٱلصَّبۡرِ وَٱلصَّلَوٰةِۚ

جب بندے کی نماز مکمل ہو، اس کےتمام فرائض او رسنتیں جمع ہوں اور دلی لگاؤ سے نماز ادا کی جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسی نماز تمام معاملات میں بندے کی بہت بڑی مددگار ہے۔ ایسی نماز تمام بے حیائیوں اور برائیوں سے روکتی ہے اور اس لئے کہ نماز میں حضور قلب بندے کے دل میں ایک ایسا جذبہ پید ا کردیتا ہے جو اسے رب کے حکم پر عمل کرنے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچنے پر ابھارتا ہے ۔یہی وہ نماز ہے جس کے ذریعہ ہر چیز میں مددلینے کا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے۔(السعدی:۷۵(
سوال:نماز بندے کے لئے رب کے احکامات کو بجالانے اورمنع کردہ چیزوں سے پرہیز کرنے میں کیسے مددگار ہوتی ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 153

إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ ١٥٣

یہ اللہ تعالیٰ کی ایسی خاص معیت ہے ،جو اللہ کی محبت ،اس کی مدد ونصرت اور اس کی قربت کا تقاضہ کرتی ہے ۔
اور اس میں صبر کرنے والوں کی اتنی بڑی فضیلت ہے کہ اگر ان کی اللہ کی معیت کے علاوہ اور کوئی فضیلت نہ ہوتی تو بھی یہی ایک چیز ان کی فضیلت وشرف کے لئے کافی ہوتی۔ (السعدی:۷۵(
سوال:اللہ کی خاص معیت کس چیز کا تقاضہ کرتی ہے؟اور اس معیت کے مستحق کون ہیں؟