قرآن
ﮗ
ﱄ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ٢٠ ٢٠ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ٢١ ٢١ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ٢٢ ٢٢ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ٢٣ ٢٣ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
٢٤ ٢٤ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ٢٥ ٢٥
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ٢٦ ٢٦
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ٢٧ ٢٧
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ
ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ٢٨ ٢٨
يُضَٰعَفُ لَهُمُ ٱلۡعَذَابُۚ مَا كَانُواْ يَسۡتَطِيعُونَ ٱلسَّمۡعَ وَمَا كَانُواْ يُبۡصِرُونَ ٢٠
(يضاعف لهم العذاب)انہیں دوگنا عذاب ہوگا۔ اس لئے کہ انہوں نے اپنے آپ کو بھی گمراہی میں مبتلا رکھااور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔(السعدی: ۳۷۹)
سوال:ان لوگوں کو دگنا عذاب کیوں دیا جائیگا؟
لَا جَرَمَ أَنَّهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ هُمُ ٱلۡأَخۡسَرُونَ ٢٢
اللہ تعالیٰ ان کی حالت کے بارے میں خبر دے رہا ہے کہ آخرت میں یہ لوگ سب سے زیادہ گھاٹے کا سودا کرنے والے ثابت ہوں گے اس لئے کہ انہوں نے بلند درجات کو پست درجات سے بدل لیا۔جنت کی نعمتوں کے بدلہ میں گرم کھولتا ہواپانی اختیارکر لیا،رحیق ِمختوم یعنی مہربند عمدہ شراب سے منہ موڑلیااور اس کے مقابلہ میں تپتی ہوئی لو،اُبلتے ہوئے گرم پانی اور گرم اورگھنے سیاہ دھوئیں کو اپنالیا،نیز بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کو نہیں چاہا اور زخموں سے نکلنے والی پیپ اور بدبودار پانی کو پسندکرلیا۔اسی طرح عالی شان اور بلند وبالا محلوں کی بجائے“ہاوِیہ” یعنی جہنم کی گہری کھائی کا سودا کرلیا اور رحمٰن کی نزدیکی اور اس کے دیدار کی سب سے عظیم نعمت کو قربان کرکے اس کی جگہ بندوں کا حساب لے کر پورا پورا بدلہ دینے والے رب کے غصہ اور اس کی سزا کے حقدار بن گئے۔ (ابن کثیر: ۲؍۴۲۳)
سوال:اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو (أخسرين) یعنی سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے کہا،صرف “خَاسِرِيْن” یعنی نقصان اٹھانے والے کیوں نہیں کہا؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَأَخۡبَتُوٓاْ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ ٢٣
(وأخبتوا إلى ربهم)اور اپنے رب کے حضور عاجزی کی۔“اِخبات”سے مراد وہ عاجزی وانکساری ہے جو دل میں بیٹھے ہوئے خوف اور ڈر کی وجہ سے ہوتی ہے۔اس اخبات کا اصل معنیٰ برابر ہونا اور ہموار ہونا، ہے۔یہ “خبت” سے بنا ہے جس کا مطلب ہوتاہے “ہموار اور کشادہ زمین”۔
حاصل یہ ہے کہ اخبات سے مراد ہے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں مسلسل عاجزی اختیار کرنااور اس کی طرف متوجہ رہنا۔ (القرطبی: ۱۱؍۹۶)
سوال: بندہ کس طرح اللہ کے سامنے عاجزی کرنے والوں میں شامل ہوسکتا ہے؟
فَقَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ مَا نَرَىٰكَ إِلَّا بَشَرٗا مِّثۡلَنَا وَمَا نَرَىٰكَ ٱتَّبَعَكَ إِلَّا ٱلَّذِينَ هُمۡ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ ٱلرَّأۡيِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِن فَضۡلِۢ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كَٰذِبِينَ ٢٧
ہمارے علماء کہتے ہیں کہ: قوم کے سرداروں کا یہ رویہ اس لئے تھا کہ وہ شریف لوگوں پر اپنی سرداری اور دھاک جمائے رکھنا چاہتے تھے اور اس سے الگ ہونا ان کے لئے بڑا مشکل تھا،نیز کسی دوسرے کے پیچھے چلنا ان کی شان کے خلاف تھا جبکہ غریب اور مفلس آدمی کے سامنے یہ رکاوٹیں نہیں ہوتیں اس لئے وہ حق کو قبول کرنے اوراس کی پیروی کرنے میں دیر نہیں کرتا اور دنیا کے اکثر لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے۔(القرطبی: ۱۱؍۹۹)
سوال:ایسا کیوں ہوتاہے کہ اکثر غریب اور مسکین لوگ حق کو قبول کرلیتے ہیں مگر سردار او ر مالدار لوگ اسے ماننے سے انکار کردیتے ہیں؟
فَقَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ مَا نَرَىٰكَ إِلَّا بَشَرٗا مِّثۡلَنَا وَمَا نَرَىٰكَ ٱتَّبَعَكَ إِلَّا ٱلَّذِينَ هُمۡ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ ٱلرَّأۡيِ
انہوں نے یہ بات اپنی جہالت ونادانی کی وجہ سے کہی تھی اس لئے کہ انہوں نے نبی ﷺ پر ایسا عیب لگایا جو اُن کے اندر تھا ہی نہیں اوراس لئے بھی کہ انبیاء ِکرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کا کام بس سچائی کی دلیلوں اور نشانیوں کو پیش کرنا ہے،ان کی ذمہ داری یہ نہیں ہوتی کہ لوگوں کی شکل وصورت اور ان کی حالت وہیئت بدلیں۔ وہ تو سب کی طرف رسول بناکر بھیجے جاتے تھے، پوری قوم کی طرف خواہ وہ امیر ہویاغریب،چھوٹا ہویا بڑا۔اب اگرقوم کا کوئی کمترآدمی اسلام میں داخل ہوجائے تو اس سے ان انبیاء کرامh کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔کیونکہ ان کی ذمہ داری یہ تھی کہ قوم کا کوئی بھی شخص اسلام قبول کرے تو یہ اسے قبول کرلیں یعنی اس کے کمتراور معمولی ہونے کی وجہ سے اسے اپنے سے دور نہ کریں۔ (القرطبی: ۱۱؍۹۹)
سوال:کیا سماج کے کمزور اور محتاج لوگوں کا داعی کی پیروی کرنا اس داعی کی دعوت میں خامی شمار کی جائیگی؟
فَقَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ مَا نَرَىٰكَ إِلَّا بَشَرٗا مِّثۡلَنَا وَمَا نَرَىٰكَ ٱتَّبَعَكَ إِلَّا ٱلَّذِينَ هُمۡ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ ٱلرَّأۡيِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِن فَضۡلِۢ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كَٰذِبِينَ ٢٧
(أراذلنا) أَرَاذِلُ یہ ‘‘اَرذَل’’ کی جمع ہے،اس سے مراد کمتر درجہ کے لوگ،حقیر لوگ ہیں۔
کافر سرداروں نے اُن مسلمانوں کوحقیردراصل ان کی غربت اور مفلسی کی وجہ سے کہا تھا۔یہ بات انہوں نے جہالت ونادانی اور اس یقین کی بنیاد پر کہی تھی کہ عزت اور بڑائی،مال ودولت اور شان وشوکت سے ہوتی ہے۔ حالانکہ بات ایسی نہیں تھی جیسے وہ سمجھ رہے تھے بلکہ ایمان والے معاشرے میں اپنی غریبی اورگمنامی کے باوجود اُن سرداروں اور مالداروں سے زیادہ اونچے درجہ کے لوگ تھے-(بادي الرأي) یعنی بغیر سوچے سمجھے ابتدائی اور سرسری نظر میں۔مطلب یہ ہے کہ ہمارے یہ حقیر،فقیر اور کمتر لوگ سمجھے بوجھے بغیر جلد باز ی میں تمہارے پیچھے چل پڑے ۔ (ابن جُزی: ۱؍۳۹۴)
سوال:آیت نے اہل ِحق پر الزامات تھوپنے کے بارے میں کافروں کی نشانیاں بتائی ہیں۔ان کی و ضاحت کیجئے.
قَالَ يَٰقَوۡمِ أَرَءَيۡتُمۡ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّي وَءَاتَىٰنِي رَحۡمَةٗ مِّنۡ عِندِهِۦ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ أَنُلۡزِمُكُمُوهَا وَأَنتُمۡ لَهَا كَٰرِهُونَ ٢٨
یہ تعریض ہے یعنی اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر وہ نفرت او ر دشمنی سے اوپر اٹھ کر غور کرتے تو صاف طور سے جان جاتے کہ نوح علیہ السلام کی دعوت سچی ہے۔ (ابن عاشور: ۱۲؍۵۱)
سوال: مشرکین اورحق کے مخالفین کے برتاؤ پر نفرت اور دشمنی کا بڑا اثر ہوتا ہے۔اس بات کی وضاحت کیجئے.