قرآن
ﮎ
ﰺ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ١٤٢ ١٤٢ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ١٤٣ ١٤٣ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ١٤٤ ١٤٤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ
ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ
ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ١٤٥ ١٤٥
سَيَقُولُ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَ ٱلنَّاسِ مَا وَلَّىٰهُمۡ عَن قِبۡلَتِهِمُ ٱلَّتِي كَانُواْ عَلَيۡهَاۚ
عقلمند آدمی بیوقوف شخص کے اعتراض کی پرواہ نہیں کرتااور نہ اس پر توجہ اور دھیان دیتا ہے ۔آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے احکام پر صرف وہی شخص اعتراض کرتا ہے جو بیوقوف،جاہل اور حق کی مخالفت کرنے والا ہو۔جبکہ صحیح سوجھ بوجھ والا مومن اپنے رب کے احکام پر سر تسلیم خم کرلیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ) (سورۂ احزاب:۳۶) کسی مومن مرد اور مومنہ عورت کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلہ کردینے کے بعداپنے کسی معاملہ میں اختیار باقی نہیں رہ جاتا۔نیز فرمایا: (فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ) (سورۂ نساء:۶۵)پس آپ کے رب کی قسم!وہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے تمام اختلاف میں آپ کو فیصل نہ مان لیں’’۔(السعدی:۷۰)
سوال:شرعی احکام کے بارے میں حقیقی مومن کا کیا نقطہ نظر ہوتا ہے؟
سَيَقُولُ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَ ٱلنَّاسِ مَا وَلَّىٰهُمۡ عَن قِبۡلَتِهِمُ ٱلَّتِي كَانُواْ عَلَيۡهَاۚ
قبلہ کی تبدیلی واقع ہونے سے پہلے اس بابت کافر و مشرک لوگوں کے موقف کے بارے میں پہلے خبر دے دیا تاکہ دل اس کے لئے آمادہ ہوجائے اور آدمی ذہنی طور سے اس کے لئے تیار رہے۔اس لئے کہ ناپسندیدہ چیز کا اچانک سامنے آنازیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے اور اس کے وقوع سےپہلے اس کا معلوم ہونا، تناؤ اور بے چینی کو دور رکھتا ہے۔اور اس لئے بھی پہلے خبر دے دی کہ اس میں سوال اٹھنے سے پہلے جواب تیار ہوجاتا ہے اور ضرورت سے پہلے ہی جواب کا تیارکرلینا فریق مخالف کو لاجواب کرنے میں زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ (الألوسی:۲؍۲)
سوال: قبلہ کے بدلنے کا واقعہ پیش آنے سے پہلے ہی ان کے قول وموقف کی خبر کیوں دے دی گئی؟
سَيَقُولُ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَ ٱلنَّاسِ مَا وَلَّىٰهُمۡ عَن قِبۡلَتِهِمُ ٱلَّتِي كَانُواْ عَلَيۡهَاۚ قُل لِّلَّهِ ٱلۡمَشۡرِقُ وَٱلۡمَغۡرِبُۚ
اللہ تعالیٰ کے قول میں (ٱلسُّفَهَآءُ)یعنی بیوقوف لفظ کا استعمال ہونا ہی یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے کہ ان کی بات کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے نہ ہی اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔(کیونکہ ان کا قول احمقانہ ہے۔)اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کے شبہ کو نظر انداز نہیں کیابلکہ اس کا ازالہ کردیا اور بعد میں کسی کے دل میں جویہ کھٹکا پیداہونے کا امکان تھا اسےبھی اچھی طرح دور کردیااسی لئے اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا: (قُل لِّلَّهِ ٱلۡمَشۡرِقُ وَٱلۡمَغۡرِبُ) (آپ فرمادیں: مشرق ہو یا مغرب، سب اللہ ہی کے لئے ہیں۔) (السعدی:۷۰)
سوال:کیاشرعی احکامات پر اعتراض کرنے والوں کو بیوقوفی سے متصف کردیناہی ان کی تردید کے لئے کافی ہے؟
وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَٰكُمۡ أُمَّةٗ وَسَطٗا
یہاں “وسَط” کا مطلب بہتر،افضل اور نہایت عمدہ ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ نے اس امت کو وسَط بنایا ہے تو خصوصیت کے ساتھ اسے سب سے کامل شریعت ، سب سے اچھا منہج اور سب سے واضح مسلک ومذہب عطافرمایا۔(ابن کثیر:۱؍۱۸۱)
سوال:مذکورہ آیت کس طرح دینِ اسلام کو دیگر مذاہب وادیان سے افضل بتاتی ہے؟
وَلَئِنۡ أَتَيۡتَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ بِكُلِّ ءَايَةٖ مَّا تَبِعُواْ قِبۡلَتَكَۚ
اگر رسول اللہ ﷺ اپنے لائے ہوئے دین کے صحیح ہونے پرہر طرح کی دلیل ان کے سامنے پیش کردیں اورہر حجت قائم کردیں،تب بھی وہ لوگ آپ کی اتباع کرنے والے نہیں اور نہ ہی اپنے نفس کی خواہشات ترک کرنے والے ہیں،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَۙ۰۰۹۶وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ۰۰۹۷) (سورۂ یونس:۹۶۔۹۷) ‘‘بلا شبہ جن لوگوں کے حق میں آپ کے رب کی بات طے ہوچکی ہے وہ جب تک دردناک عذاب دیکھ نہ لیں،ایمان نہیں لائیں گے،خواہ ان کے پاس تمام دلیلیں پہنچ جائیں’’۔
اوراسی لئے یہاں فرمایا: (وَلَئِنۡ أَتَيۡتَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ بِكُلِّ ءَايَةٖ مَّا تَبِعُواْ قِبۡلَتَكَۚ) اور اگرچہ آپ اہل کتاب کو تمام دلیلیں دے دیں پھر بھی وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے۔ (ابن کثیر:۱؍۱۸۴)
سوال:ہدایت اللہ تعالیٰ کا انعام واحسان ہے،یہ محض عقل کے مطمئن ہونے سے نہیں ملتی۔اس بات کو آیت کی روشنی میں بیان کیجئے.
وَلَئِنۡ أَتَيۡتَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ بِكُلِّ ءَايَةٖ مَّا تَبِعُواْ قِبۡلَتَكَۚ وَمَآ أَنتَ بِتَابِعٖ قِبۡلَتَهُمۡۚ وَمَا بَعۡضُهُم بِتَابِعٖ قِبۡلَةَ بَعۡضٖۚ
یہ خواہش پرستی اور دشمنی میں اہل کتاب کے سخت سے سخت ترہونے کابیان ہے کہ ان کی یہ مخالفت اور دشمنی صرف آپ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ان کے آپس کے معاملات بھی ایسے ہی ہیں لہذا ان کی طرف سے اس (حق) کا انکار کرنا دراصل ضد اور ہٹ دھرمی میں ان کی حد سے زیادہ بڑھ جانے کا نتیجہ ہے۔ (الألوسی:۲؍۱۲)
سوال:کیا کفارومنافقین کے خیالات اور شبہات ،علمی ومنطقی غوروفکر کا نتیجہ ہوتے ہیں؟اس کی وضاحت کیجئے.
وَلَئِنِ ٱتَّبَعۡتَ أَهۡوَآءَهُم مِّنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ إِنَّكَ إِذٗا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٤٥
پھر اللہ تعالیٰ نے(نبی ﷺ کو مخاطب کرکے دراصل)ان علماء کو دھمکی دی ہے جو حق جانتے ہیں اور اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خواہشات کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔اس لئے کہ دوسروں کے مقابلہ میں عالم پر حجت زیادہ اچھے او ربہتر طریقہ سے قائم ہوتی ہے۔(ابن کثیر:۱؍۱۸۴)
سوال:اس آیت میں حق کی معرفت کے باوجود اس کی مخالفت کو خاص طور سے ذکرکیاگیا ہے اور وعید و دھمکی بھی دی گئی ہے، ایسا کیوں ہے؟