قرآن
ﮕ
ﱂ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ٣٢ ٣٢ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ٣٣ ٣٣ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ
ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ٣٤ ٣٤ ﮏ ﮐ ﮑ
ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ٣٥ ٣٥ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ٣٦ ٣٦
يُرِيدُونَ أَن يُطۡفِـُٔواْ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفۡوَٰهِهِمۡ وَيَأۡبَى ٱللَّهُ إِلَّآ أَن يُتِمَّ نُورَهُۥ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡكَٰفِرُونَ ٣٢
نورکو اللہ کے نام کی طرف منسوب کرنے( یعنی اللہ کا نور کہنے) میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ: اس نور (روشنی) کوبجھانے کی کوشش بے کار ہے اور ایسی کوششیں کرنے والے اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ۔ (ابن عاشور: ۱۰؍۱۷۲)
سوال:نورکو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کا کیافائدہ ہے؟
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلۡهُدَىٰ وَدِينِ ٱلۡحَقِّ لِيُظۡهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡمُشۡرِكُونَ ٣٣
دین کو غالب کرنے کا مطلب ہے: اسے تمام ادیان ومذاہب سے بلندکرنا اور سب سے زیادہ طاقتوربنانا ہے ۔اس حد تک کہ وہ مشرق اور مغرب ہر جگہ پھیل جائے ۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۳۵۶)
سوال: جو آدمی مسلمانوں کی فتح اور غلبہ کے بارے میں مایوسی کا شکار ہوچکاہے آپ اسے آیت کی روشنی میں کیسے سمجھائیں گے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡأَحۡبَارِ وَٱلرُّهۡبَانِ لَيَأۡكُلُونَ أَمۡوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡبَٰطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۗ
آیت کا مقصد ہے: لوگوں کو برے علماء اور گمراہ عبادت گزاروں سے ڈرانا اور ہوشیار کرنا ۔جیسا کہ سفیان بن عُیَیْنَہ رحمہ اللہ نے کہاہے کہ: ہمارے علماء میں سے جو بگڑگیا ،اس میں یہود کی مشابہت ہے ۔اور ہمارے عبادت گزاروں میں سے جو بگڑ گیا ،اس کے اندر نصاریٰ کی مشابہت ہے ۔ (یعنی: یہود علم ہوتے ہوئے غلط راستوں پر چلے اس لئے جو عالم گمراہ ہوگا ،وہ یہود کی طرح ہے ۔ اور نصاریٰ جہالت کی بنیاد پر گمراہ ہوئے ،بے دلیل اور بغیر علم کے عمل کرتے تھے۔اس لئے عوام اور جاہلوں میں سے جو گمراہ ہوتا ہے وہ نصاریٰ کی طرح ہے ۔ ) (ابن کثیر: ۲؍ ۳۳۵)
سوال: یہودی علماء اور نصرانی درویشوں (رہبان) کی حالت سے ڈرانے کیا مقصد ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡأَحۡبَارِ وَٱلرُّهۡبَانِ لَيَأۡكُلُونَ أَمۡوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡبَٰطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۗ وَٱلَّذِينَ يَكۡنِزُونَ ٱلذَّهَبَ وَٱلۡفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٖ ٣٤
اس میں شک نہیں کہ عام لوگ علماء،عبادت گذار وں اورمالداروں کے محتاج ہوتے ہیں ۔ اس لئے جب انہی لوگوں کے حالات اور معاملات خراب ہوجائیں تو عام لوگ بھی خراب ہوجاتے ہیں ۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۳۳۵)
سوال: اللہ تعالیٰ نے احباریعنی علماء سے رُہبان یعنی عبادت گذار مشائخ سے اور مالداروں سے ڈرایاہے ۔ خاص طور پر ان تین لوگوں سے ہی کیوں ڈرایا ہے؟
وَٱلَّذِينَ يَكۡنِزُونَ ٱلذَّهَبَ وَٱلۡفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٖ ٣٤ يَوۡمَ يُحۡمَىٰ عَلَيۡهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكۡوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوبُهُمۡ وَظُهُورُهُمۡۖ هَٰذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِأَنفُسِكُمۡ فَذُوقُواْ مَا كُنتُمۡ تَكۡنِزُونَ ٣٥
کہا جاتا ہے کہ: جوکوئی کسی چیز سے اتنی محبت کرے کہ اسے اللہ کی اطاعت پر ترجیح دے دے ،تو پھر اسے اسی چیز کے ذریعہ عذاب دیا جائیگا ۔اور آیت میں ذکر کئے گئے ان لوگوں کے نزدیک چونکہ مال ودولت کا جمع کرنا اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے سے زیادہ اہم اور قابلِ ترجیح چیزبن گئی تھی ۔لہذا انہیں اسی مال ودولت کے ذریعہ عذاب دیا جائیگا ۔……جس طرح یہ مال ودولت ان کے مالکوں کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وعزیز چیز تھی،اسی طرح دارِ آخرت میں یہی چیز ان کے لئے سب سے زیادہ نقصاندہ بن جائیگی۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۳۳۶)
سوال: جو کوئی کسی چیز سے محبت کرے اوراتنی کرے کہ اسے اللہ کی اطاعت سے آگے بڑھادے تو اسے اسی چیز کے ذریعہ عذاب ہوگا۔ آیت کو سامنے رکھ کر اس بات کی وضاحت کیجئے.
إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّهِ ٱثۡنَا عَشَرَ شَهۡرٗا فِي كِتَٰبِ ٱللَّهِ يَوۡمَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ مِنۡهَآ أَرۡبَعَةٌ حُرُمٞۚ
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ عبادات اور دوسرے احکام میں،انہی مہینوں اور سالوں کالحاظ کیا جائیگا جنہیں عرب والے جانتے پہچانتے ہیں اور ان کے یہاں جن کا چلن تھااور ان مہینوں کا اعتبار نہیں کیا جائیگا جو عربوں کے علاوہ عجمی قوموں ،رومی،قِبطی اور دوسرے لوگوں میں رائج ہیں ۔ (القرطبی: ۱۰؍۱۹۷)
سوال: بڑے زور وشور کے ساتھ یہ دعوت دی جاتی رہی ہے کہ عربی مہینوں کو چھوڑدیا جائے اور اس کے بدلے میں انگریزی مہینوں کو اپنا لیا جائے ۔ اس بارے میں قرآن کی رہنمائی کیا ہے؟
وَقَٰتِلُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ كَآفَّةٗ كَمَا يُقَٰتِلُونَكُمۡ كَآفَّةٗۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِينَ ٣٦
(واعلموا أن الله مع المتقين) اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔
(جب اللہ کا ساتھ تقویٰ اور نیکی سے ملتا ہے) تو آپ کو سچے دل سے اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ لوگوں کی نگاہوں سے چھپے ہوں یا سامنے ہوں ظاہر و باطن میں اللہ کا تقویٰ اپنائے رکھئے اور اللہ کی فرمانبرداری میں لگے رہئے ۔خاص طور سے اس وقت جب کافروں سے لڑائی ہورہی ہوکیونکہ اس حالت میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مومن بندہ اپنے خلاف جنگ کرنے والے کافر دشمنوں کے معاملے میں تقویٰ پر عمل چھوڑدیتا ہے ۔ (السعدی:؍ ۳۳۶)
سوال:کفار سے جنگ کرنے کا حکم دینے کے بعد تقویٰ کا حکم کیوں دیا گیاہے؟